| 86613 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
میں پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہو چکا تھا ، اس وقت میں نے اپنی والد ہ کے سینے پر شہوت سے ہاتھ رکھا تھا ، اور مجھے انزال ہو گیا تھا ، اس بات کو پانچ برس گزر چکے ہیں ، کیا میرے اس عمل سے والدین کا نکاح ٹوٹ گیا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس طرح کسی عورت سے زناکی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح عورت کوبلا حائل شہوت کے ساتھ چھونے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ عورت کو چھوتے ہوئے انزال نہ ہو ۔
صورت مسئولہ میں سائل کی جانب سے اپنی والدہ کو شہوت سے چھونےکے ساتھ انزال بھی ہو گیا تھا ،لہذا حرمتِ مصاہرت تو ثابت نہیں ہوئی اور اس کے والدین کا نکاح بھی برقرار ہے ،تاہم سائل کا یہ عمل انتہائی قبیح، گھناؤنا اور شرمناک ہے، جو نہ صرف شریعت بلکہ انسانی اور اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہے، جس کی مذمت کے لئے سخت سے سخت الفاظ بھی ناکافی ہیں ۔سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس قبیح عمل پر سچے دل سے بارگاہ ِ الٰہی میں توبہ و استغفار کرے اور ہمیشہ کے لئے ایسی تمام شیطانی حرکات سے مکمل اجتناب کرے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 274):
كما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة۔۔۔ووجود الشهوة من أحدهما يكفي وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند اللمس أو النظر لم يثبت به حرمة المصاهرة؛ لأنه ليس بمفض إلى الوطء لانقضاء الشهوة۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
22/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


