| 86484 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بخشیش خان وفات پاگیا ہے، بخشیش کے حصے سے 100 مرلے زمین رہ گئی ہے،اب بخشیش کے تین بھائی اور پانچ بہنیں تھیں، ایک بھائی زندہ ہے، جس کا نام اجمل خان ہے ، ایک بہن زندہ ہے اور چار بہنیں وفات پا گئی ہیں۔ ایک بھائی کے بڑے بیٹے کا نام اقبال، دوسرے بھائی کے بیٹے کا نام یاسر،تیسرے بھائی کی اولاد نہیں ہے،لیکن خود زندہ ہے اور بہن کی اولاد میں ایک کا نام عدنان ،دوسری بہن کی اولاد میں شہزاد اور تین بہنوں کی اولاد نہیں ہے، ایک بہن زندہ ہے،جس کی اولاد نہیں ہے اور دو بھائی بخشیش خان سے پہلے وفات پا چکے ہیں اور چار بہنیں بھی بخشیش خان سے پہلے وفات پاچکی ہیں۔ اب ان کی اولاد کے حصے میں زمین آ گئی، اب 100 مرلے زمین کس طرح ان افراد میں تقسیم ہو گی؟ کیا مرحوم کے بھائی اور بہن کی موجودگی میں اس کے بھتیجوں اور بھانجوں کو اس کی وراثت میں سے حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحوم بخشیش خان کا ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہے اور شرعی اعتبار سے بھائی کی موجودگی میں بھتیجے اور بھانجے وارث نہیں ہوتے، نیز جو ورثاء آدمی کی زندگی میں وفات پا جائیں وہ بھی شرعا وارث نہیں ہوتے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے مال سے اس کے تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے، ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور ایک تہائی کی حد تک ان کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد باقی مکمل ترکہ اس کے موجودہ بھائی اور بہن کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گی کہ ترکہ کے دو حصے بھائی کو اور ایک حصہ اس کی بہن کو ملے گا۔
حوالہ جات
السراجية في الميراث (1/ 11) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ
وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة، فيبدأ بأصحاب الفرائض وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم بالعصبات من جهة النسب، والعصبة كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض وعند الانفراد يحرز جميع المال.
السراجية في الميراث (1/ 29) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
العصبات النسبية ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره، أما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله، وجزء أبيه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي: البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله أي: الأب، ثم الجد أي: أب الأب وإن علا، ثم جزء أبيه أي: الإخوة، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم جزء جده أي: الأعمام، ثم بنوهم وإن سفلوا.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


