| 86673 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا جاندار مخلوق کی (3D Animation ) اور ڈیزائن بنانا جائز ہے؟ یہ ڈیجیٹل فارمیٹ میں ہوتے ہیں اور کمپیوٹر میں ہی رہتے ہیں۔ ان کو کارٹونز، تعلیمی ویڈیوز یا کسی چیز کی وضاحت کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جو اینیمیشن بنائی جاتی ہے وہ انسان، جانور یا کوئی خیالی کردار ہو سکتا ہے۔ کیا اس نوعیت کا کام کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اینیمیشن کسی جائز ضروری مقصد(تعلیم و تربیت یا تبلیغِ دین) کیلئے بنائی جائے اور ڈیجیٹل شکل میں ہو تواس کی گنجائش ہے بشرطیکہ بے حیائی اور بے پردگی پر مشتمل نہ ہو۔ اگر جائز و ضروری مقاصد کے علاوہ ہو تو اس سے اجتناب ضروری ہے۔(ماخوذ از تبویب79372)
https://almuftionline.com/?s=79372
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/ 82)
2225 - حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا يزيد بن زريع، أخبرنا عوف، عن سعيد بن أبي الحسن، قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما، إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير، فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: «من صور صورة، فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا» فربا الرجل ربوة شديدة، واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
25/رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


