03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جعلی طلاق نامہ سےاگرطلاق کی نیت نہ ہوتوطلاق ہوگی یانہیں ؟
86659طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ  وبرکاتہ!

میں ایک عجیب معاملہ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ براہِ کرم اسے آن لائن شائع نہ کیا جائے۔ میں امریکہ میں رہتا ہوں۔ میری شادی 2019 میں ہوئی تھی۔ میری سابقہ بیوی اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے تعلق رکھتی تھیں۔ شادی کے وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس مسلک کو زیادہ سختی سے نہیں اپناتیں، مگر میری رائے میں یہ شادی صرف امریکہ آنے کے لیے کی گئی تھی۔ میں نے 2021 میں انہیں اپنے ساتھ امریکہ بلایا، جہاں میری فیملی بھی میرے ساتھ رہتی ہے۔ ہم سب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے، مگر میری ساس ہر وقت میری بیوی کو کچھ نہ کچھ سکھاتی رہتی تھیں، جس کا اثر ہمارے گھر کے ماحول پر پڑنے لگا۔ امریکہ آنے کے بعد میری ساس کا رویہ بالکل بدل گیا۔ پاکستان میں میری بیوی کے گھر والوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا اور وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ ان کے رشتہ دار جو امریکہ میں تھے، وہ ان کی مالی مدد کرتے تھے۔ اس وجہ سے مجھے ان رشتہ داروں کے گھر جانے میں شرمندگی محسوس ہوتی تھی کیونکہ وہ خود کچھ نہیں کرتے تھے۔ میری ساس، سسر اور ان کے دیگر رشتہ داروں نے میرے گھر کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دو مرتبہ میرے گھر پر پولیس بلائی گئی، صرف مجھے پریشان کرنے کے لیے۔ میری بیوی اکثر کوشش کرتی تھیں کہ کسی نہ کسی طرح ہمارا رشتہ ختم ہو جائے۔ میں بہت مشکل سے یہ رشتہ نبھا رہا تھا کیونکہ ہماری پانچ ماہ کی بیٹی تھی۔ جولائی 2022 میں ہم پاکستان گئے اور اگست 2022 میں میں اکیلا امریکہ واپس آیا کیونکہ مجھے نئی ملازمت کی تربیت لینی تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ جیسے ہی رہائش کا بندوبست ہو گا، میں اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی بلا لوں گا۔ لیکن میری بیوی اور ان کے گھر والوں نے پولیس میں شکایات درج کروائیں اور ایجنٹوں کو پیسے دے کر جعلی دستاویزات بنوائیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ یہاں امریکہ میں طلاق کا کیس دائر کریں تاکہ ہر چیز آدھی آدھی ہو جائے، بیٹی کی کسٹڈی بھی انہیں ملے، اور میں ساری زندگی ان کے اخراجات اٹھاتا رہوں۔ میں نے وکیلوں سے مشورہ کیا اور اس کے بعد جولائی 2022 کی پرانی تاریخ کے جعلی طلاق کے کاغذات بنوائے، جن پر دستخط میرے نہیں تھے اور گواہوں کے دستخط بھی جعلی تھے۔ اس وقت میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ نہ میرا گھر خراب ہو اور نہ میری سات ماہ کی بیٹی کی زندگی۔ گواہ بھی موجود تھے جو اس وقت کے حالات سے آگاہ ہیں۔ ستمبر 2022 میں میں نے اپنی بیوی کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ میری طرف سے ایک طلاق ہو چکی ہے اور وہ کاغذات بھیج دیے۔ ایک ہفتے بعد میں پاکستان گیا تاکہ ان سے بات چیت ہو سکے اور معاملات بہتر ہو سکیں تاکہ رجوع کیا جا سکے۔ لیکن وہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ وہ امریکہ واپس آ چکی ہیں۔ تین ماہ کا وہ وقت گزر گیا جس دوران رجوع کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ میں طلاق کا کیس دائر کیا اور ہماری طرف سے پاکستان میں یہ کہہ کر کیس دائر کیا گیا کہ طلاق کے کاغذات موجود ہیں، لہٰذا کیس غلط ہے۔ یہ کیس بھی ختم ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد میری سابقہ بیوی نے دوبارہ صلح کی کوشش کی۔ میں نے انہیں بتایا کہ پہلے میں شرعی رہنمائی حاصل کروں گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہماری طلاق کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ انہوں نے اہلِ حدیث علماء سے فتویٰ لیا کہ ایک طلاق ہوئی ہے اور دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ یہاں کے علماء نے بھی انہیں یہی کہا۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ طریقہ غلط تھا، لیکن یہاں اسلامی قوانین لاگو نہیں ہوتے اور میری سابقہ بیوی کے گھر والے کچھ بھی جعلی کاغذات بنوا سکتے ہیں۔ مجھے اس وقت اپنے گھر کو بچانے کے لیے ایسا کرنا پڑا کیونکہ یہاں یک طرفہ طلاق ہو جاتی ہے بغیر کسی سے پوچھے۔ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی اور نہ میرا اب ارادہ ہے کہ میں اس رشتے کی طرف واپس جاؤں۔ لیکن میری بیوی بار بار اصرار کرتی ہیں، اور مجھے اپنی بیٹی کی فکر رہتی ہے جس کی وجہ سے میں الجھن کا شکار ہوں۔ یہاں اکثر لوگوں کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی طلاق کے جعلی کاغذات بنوانے پڑتے ہیں کیونکہ یہاں کے قانون کے مطابق آپ ایک وقت میں صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں۔ اکثر لوگوں نے اسی طرح جعلی طلاق کے کاغذات بنوا کر دوسری شادیاں کی ہیں اور اپنی دوسری بیوی کو یہاں بلا لیا ہے۔ میرا ارادہ بھی اس وقت صرف اتنا تھا کہ طلاق کے کاغذات تک معاملہ محدود رہے تاکہ وہ لوگ میرے خلاف کوئی غیر قانونی قدم نہ اٹھا سکیں۔ زبان سے میں نے صرف ایک طلاق دی تھی تاکہ شاید انہیں احساس ہو اور رجوع ممکن ہو سکے۔ لیکن معاملات بہت زیادہ الجھ گئے ہیں۔ اب اگر میں انہیں کہتا ہوں کہ طلاق ہو چکی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ تمام علماء کا کہنا ہے کہ صرف نکاح ختم ہوا ہے کیونکہ آپ نے رجوع نہیں کیا تھا۔ براہِ کرم اس معاملے پر میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں پہلی بیوی کاطلاق نامہ بنواتےوقت اگرآپ نےواقعتا گواہ بنالیےتھے(دوگواہوں کےسامنےاس بات کوصراحت کےساتھ ذکرکردیاہوکہ میں نےاپنی بیوی کونہ تو طلاق دی ہے،نہ طلاق دینےکاارادہ ہے،یہ طلاق نامہ محض فرضی اورجھوٹاہے) جیساکہ سوال میں  مذکورہےتومذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہذا وہ  پہلےکی طرح آپ کی بیوی  شمارہوگی۔

حوالہ جات

ردالمحتارعلی الدرالمختار "3238/:

"لو ‌أراد ‌به ‌الخبر ‌عن ‌الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا".

رد المحتار 11 / 154:

قال : أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء ، إلا إذا أشهد على ذلك ؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية ۔

"رد المحتار" 10 / 500:

 وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى ؛۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/رجب 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب