03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی ماں سے پردہ نہیں
86687جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

کیا والد صاحب کی سابقہ بیوی ان کی موجودہ بیوی سے ہونے والی اولاد کے لیے شرعا محرم ہیں،یا نہیں؟ یعنی ان سے پردہ لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ والد کی منکوحہ سے اولاد کا نکاح نہیں ہوسکتا،اس لئےسوتیلی ماں سے بھی پردہ لازم نہیں ہے،لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے والد کی سابقہ بیوی سے ان کی اولاد کا پردہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

صفوة التفاسير (1/ 246)

التفِسير: {وَلاَ تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِّنَ النسآء إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} أي لا تتزوجوا ما تزوج آباؤكم من النساء لكن ما سبق فقد عفاﷲ عنه {إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتاً} أي فإِن نكاحهن أمر قبيح، قد تناهى في القبح والشناعة، وبلغ الذروة العليا في الفظاعة والبشاعة؛ إِذ كيف يليق بالإِنسان أن يتزوج امرأة أبيه وأن يعلوها بعد وفاته وهي مثل أمه. {وَسَآءَ سَبِيلاً} أي بئس ذلك النكاح القبيح الخبيث طريقاً، ثم بيّن تعالى المحرمات من النساء".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب