03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصے کی حالت میں جنون کی سی کیفیت میں بیوی کو تین طلاقیں دینا
86227طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

مفتی صاحب!میرا نام عمران ہے،میں نے کل صبح شدید غصے،نیند اور نشے کی حالت میں بیوی کومحض ڈرانے کی خاطر تین طلاق ایک وقت میں بولی،جب میری امی نے اور میری بہن نے مجھے تھپڑ مارا تو مجھے ہوش آیا کہ میں نے یہ کیا کردیا۔

مفتی صاحب! میری دماغی حالت کچھ ٹھیک نہیں ہیں،کافی عرصے سے میں ڈپریشن کا مریض ہوں،بیمار بھی ہوں اور نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھا تھا،میری بیوی صبح مجھے جگانے کے لیے کمرے میں آئی،تین سے چار دفعہ میں نے اس کو کہا کہ مجھے چھوڑ دو،مجھے چھوڑ دو،لیکن اس نےمیری نہیں سنی،میں نے اس کو بہت مارا اور پھر اس کے بعد میں نے اس کو طلاق دے دی،جبکہ وہ کچن میں تھی اور میں کمرے میں تھا۔

 میری ایک بیٹی ہے اور ہم اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتے،میری بیوی بھی اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی،اب مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے،میری امی اور میری بہن میری اس جذباتی کنڈیشن کی گواہ ہے، مجھے خود پتہ نہیں چلتا،اکثر میں اپنی امی کو بھی دھکے مار دیتا ہوں،میں اپنی بہن پہ بھی ہاتھ اٹھا دیتا ہوں اور اس وقت یقین کریں،اگر میرے ہاتھ میں گن ہوتی تو میں اپنی بیوی،امی اور اپنی بہن کو شوٹ بھی کردیتا۔

مفتی طارق مسعود صاحب کا کلپ دیکھا تھا جس کلپ میں انہوں نے فرمایا ہے کہ شدید جنون اور غصے میں نیند کی حالت میں دی ہوئی طلاق طلاق نہیں ہوتی،انہوں نے کلپ میں آپ کے دارالافتاء کا حوالہ دیا تھا،اس لئے میں نے آپ سے رابطہ کیا، میرے لیے فتوی بھیج دیں۔جزاک اللہ خیرا۔

تین مہینے پہلے بھی اسی طرح شدید غصے کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی،اب ہمیں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا یا اسی طرح  ہم رہ سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ بات مد نظر رہے کہ طلاق عام طور پر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور عام غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے،اس لیے اگر آپ نے عام غصے کی حالت میں طلاق کے مذکورہ الفاظ بیوی سے بولے ہیں تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور اس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح ممکن نہیں۔

تاہم اگر آپ کا غصہ ایسا ہو کہ غصے کی حالت میں آپ حواس باختہ ہوجاتے ہوں اور آپ پر مدہوشی کی ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ آپ کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کیا بول رہے ہیں اور کیا کررہے ہیں تو پھر طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کے حوالے تفصیل درج ذیل ہے:

اگر غصے کی وقت آپ کی مذکورہ کیفیت لوگوں میں مشہور ہے اورآپ حلفیہ بیان دیں کہ طلاق کے الفاظ بولتے وقت آپ پر یہی کیفیت طاری تھی تو طلاقیں واقع نہیں ہوئیں اور اگر غصے کی وقت آپ کی مدہوشی کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہ ہو تو پھر اگر دو معتبر مرد یا ایک معتبر مرد اور دو عورتیں یہ شہادت دیں کہ بوقت طلاق آپ پر یہ کیفیت طاری  تھی تو بھی طلاق نہیں ہوگی۔

لیکن اگر غصے کے وقت آپ کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہیں اور نہ آپ کے پاس اس پر گواہ موجود ہیں تو پھر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ہے۔

(احسن الفتاوی:5/162)

یہ واضح رہے کہ صرف عورتوں کی گواہی کافی نہیں اور آپ کی والدہ کی گواہی بھی آپ کے حق میں معتبر نہیں۔

حوالہ جات

" رد المحتار" (3/ 244):

"وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ".

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(1/ 38):

"(سئل) في رجل حصل له دهش، زال به عقله وصار لا شعور له لأمر ،عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة: يا رب !أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين ،كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟

(الجواب) : الدهش: هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم ﷲ تعالى".

"الفتاوى الهندية" (3/ 469):

"لا تجوز شهادة الوالدين لولدهما وولد ولدهما، وإن سفلوا، ولا شهادة الولد لوالديه وأجداده وجداته من قبلهما، وإن علوا، ولا شهادة الزوج لامرأته، وإن كانت مملوكة أيضا ولا شهادة المرأة لزوجها، وإن كان مملوكا أيضا، كذا في الحاوي".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

06/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب