03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یونین کونسل  اور گھروالوں کےدباؤمیں آکر طلاق کےپیپر پر سائن کیے توکیاحکم ہے؟
86689طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال: السّلام علیکم!ہماری پسند کی شادی ہے اور ہماری شادی غیر برادری میں ہے، چار سال منگنی کے بعد شادی ہوئی اور میرے شوہر کومجھ سے محبت  بہت ہے، گھر والوں کی وجہ سے نا اتفاقی رہی ،میری شادی کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے، اس دوران جوانٹ فیملی کی وجہ سے ہماری بہت لڑائی ہوتی تھی، میری ساس اور نندوں کا بہت دخل تھا،ایک دن لڑائی اتنی ہوگئی کہ میں نے طلاق کا مطالبہ کیا، لیکن میرے شوہر نے منہ سے کچھ نہیں بولا ،غلطیاں میری بھی بہت تھیں، لیکن میرے میکے کی طرف سے ہم یونین کونسل گئے اور میں اپنے گھر رہنے لگی، تقریباً 10 دن تک ہماری صلح کروانے کی کوشش کی گئی، لیکن میرے سسرال والوں نے گھر میں لانے سے منع کردیا، میرے شوہر سب میں چھوٹے ہیں، اس لیے میرے لئے کوئی  کوشش نہیں کرتے،انکااپنا کاروبار نہیں تھا ، بڑے بھائی  کےساتھ ہی  کام کرتےتھے،جب معاملہ uc تک پہنچا تو ہم دونوں ساتھ رہنے پر راضی تھے ،ساس نے گھر لانے سے منع کردیا اور یوسی والوں اور اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آکر اسٹامپ پیپرپر سائن کیے، جِس میں تین طلاق لکھی تھیں، اُس سے ایک رات قبل میرے شوہر کا فون آیا اور وہ مجھے گھر لیجانا چاہتے تھے،لیکن میرے گھر والوں نے کہا یوسی کی طرف سے ہی جاناہےکچھ شرطوں پر، اس کے بعد ہم نے کچھ مہینہ بعد بات کی تو میرے شوہر نہایت ذہنی دباؤ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، یوسی اور گھر والوں کے دباؤ میں آکر اس پیپر پر سائن کیےہیں، میرے شوہر ڈپریشن میں تھےشادی کے بعد سے اب تک، ہم دونوں نے رجوع بھی کرلیا ہے، آپ ہماری راہنمائی فرمائے۔

تنقیح:بیوی کی طرف سےیہ وضاحت کی گئی ہےکہ  شوہرکےوالدین کی طرف سےکوئی دھمکی  نہیں تھی،میرا شوہر سے رابطہ تھا ،شوہرنے یہ بتایا کہ  بس میں یو سی اور گھر والوں کی طرف سے ذہنی دباؤ میں تھا ۔

 بات چیت سب کےسامنے ہوئی ،شوہر گھر بھی لے کر جا رہے تھے، لیکن ماں کا فون آیا کہ  گھر نہیں لانا، اس پر بات خراب ہوگئی اور دوسرے دن بھائی  کے ساتھ طلاق نامہ لائے، جس میں لڑکی والد کا نام بھی غلط لکھا تھا۔

بیوی کاکہناہےکہ کچھ دنوں پہلے بات ہوئی تو وہ یہی کہہ  رہے تھے کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت اسلامیہ میں جبر واکراہ یعنی زور اور زبردستی کے احکام علیحدہ ذکر کیے گئے ہیں، البتہ جبر اور اکراہ کے معتبر ہونے کے لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے درج ذیل چار شرائط ذکر کی ہیں:

پہلی شرط : جس شخص کی طرف سے دھمکی دی گئی ہو وہ اس کے پورا کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔

دوسری شرط : جس شخص کو دھمکی دی گئی ہو اس کا یقین یا غالب گمان ہو کہ دھمکی دینے والا شخص مذکورہ کام نہ کرنے کی صورت میں دھمکی پر عمل کر گزرے گا۔

تیسری شرط : جس چیز کی دھمکی دی گئی ہو وہ جان سے مار نا یا کسی عضو کو ضائع کرنا یا کوئی ایسی چیز ہو کہ اس کے خوف کی وجہ سے اس کام کے کرنے پر آدمی کی رضامندی باقی نہ رہے۔

چوتھی شرط : جس کام کے کرنے پر آدمی کو مجبور کیا جارہا ہو ، آدمی اکراہ اور زبردستی سے پہلے کسی شرعی یا انسانی حق کی وجہ سے اس کام کو نہ کر رہا ہو۔

مذکورہ بالا چاروں شرائط موجود ہوں تو اکراہ شرعاً معتبر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے شرعی حکم بدل جاتا ہے، اوراگریہ شرائط نہ پائی جائیں تو اکراہ شرعامعتبرنہیں ہوتا،ایسی صورت میں طلاق نامہ پردستخط کرنےسےطلاق واقع ہوجاتی ہے۔

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل اورتنقیح کےمطابق  صورت مسئولہ میں چونکہ دھمکی وغیرہ نہیں دی گئی ،والدین کی طرف سےبہت زیادہ دباؤبھی بظاہرنہیں تھا،والدین  کی طرف سےبیوی کو گھر لانےسےمنع کیاگیاتھا،اس پران سےبات چیت کےذریعہ کوئی صورت نکل سکتی تھی،اس لیےبظاہرمجبوری اورزبرستی کی صورت نہیں تھی، لہذا موجودہ صورت میں اسٹامپ پیپر(جس میں تین طلاق کاذکرتھا)پردستخط کرنےسےتین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں،لہذادوبارہ رجوع نہیں ہوسکتا،اورنکاح بھی نہیں ہوسکتاالایہ کہ حلالہ کی صورت پائی جائے۔

حوالہ جات

"رد المحتار"25 / 76:

( وشرطه ) أربعة أمور: ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني ( خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث : ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال ( و ) الرابع : ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آخر ) كإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا۔

"العناية شرح الهداية"13 / 150:

قال ( الإكراه يثبت حكمه إذا حصل ممن يقدر على إيقاع ما توعد به ) شرط الإكراه حصوله من قادر على إيقاع المتوعد به (سلطانا كان أو لصا)وخوف المكره وقوعه بأن يغلب على ظنه أنه يفعله ليصيربالإكراه محمولا على ما دعي إليه من المباشرة ، فإذا حصل بشرائطه يثبت حكمه على ما سيجيء مفصلا ولم يفرق بين حصوله من السلطان واللص(لأن تحققه يتوقف على خوف المكره تحقيق ما توعد به ، ولا يخاف إلا إذا كان المكره قادرا على ذلك ، والسلطان وغيره عند تحقق القدرة سيان ) الخ۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" 21 / 36:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان وفي الخانية ، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:

الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔فان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔

"ھدایۃ " 2 /378:

وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/رجب 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب