| 86749 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میری شادی26 جولائی کو ہوئی، شادی گھر والوں نے کروائی تھی اور رشتے میں میرے ماموں کی بیٹی ہے، شادی سے پہلےہماری منگنی 6 سے 7 سال تک چلی اور اس وقت ہماری زیادہ بات چیت نہیں ہوئی ۔شادی کے بعد آج تک میری بیگم نے مجھے قریب نہیں آنے دیا ، پہلے تو اس کی تعلیم میں حرج آنے کی وجہ سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا، لیکن اب بھی جب میں قریب جانے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ مجھے یہ کہہ کر دور کر دیتی ہے کہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔ میں نے آج تک اپنی بیگم کو اونچی آواز میں کچھ نہیں کہا اور اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں کہ کوئی تکلیف نہ ہو،مالی حالات بھی اچھے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ شریعت مجھے کیا حکم دیتی ہے اور میری بیگم کو کیا حکم دیتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام نے انسان کی طبعی ضرورت اور حصولِ اولاد کی فطری خواہش کو پورا کرنے کے لیے نکاح کو جائز قرار دے کر ایک پاکیزہ اور پرسکون خاندانی نظام کی اس پر بنیاد رکھ دی ہے، اس میں شوہر کو گھر کا سربراہ اور بیوی کو اس کے ماتحت اور تابع بناکرمیاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے کچھ حقوق واجب کر دیے ہیں ،اس لیے شوہر پر مہر،بیوی کا نان نفقہ اور حقِ زوجیت ادا کرنا ،جبکہ بیوی پر تمام جائز امور میں شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری اور شکرگزاری لازم ہے، نیز بیوی کے لیے بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کے تقاضے پر اس کی فطری خواہش کو پورا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں عورت کو اس بات کی تاکید کی گئی کہ جب شوہر اسے اپنے مطلب کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے،اگرچہ وہ تنورپر (یاچولھے پر روٹی اور کھانا پکانے میں مشغول) ہو،اور بیوی کے اس سے انکار پر سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں، چنانچہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشادہے:جب شوہر بیوی کو (ازدواجی تعلق کے تقاضے سے) بستر پر بلائے اور بیوی اس سے انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔
اسی طرح نفلی عبادات میں حقوق العباد کو حقوق اللہ پر بھی ترجیح حاصل ہے،چنانچہ اسی حوالے سے یہ بھی شوہرکا حق ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے گھر میں ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے توبہ کرکےآئندہ شوہر کوخوش رکھے،نیزمیاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ کسی مستند کتاب مثلاً تسہیل بہشتی زیور (مطبوعہ:مکتبہ الحجازکراچی)سے میاں بیوی کےایک دوسرے پر حقوق اور دیگر دینی احکام کا مطالعہ کرکے ان پر عمل کریں ۔
حوالہ جات
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن أبي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن أبي حازم، عن أبي هريرة رضي
الله عنه ، عن النبي ﷺ قال: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، لعنتها الملائكة حتى تصبح.
الزواجر عن اقتراف الكبائر (2/ 61،66):
(الكبيرة الرابعة والخامسة والسبعون بعد المائتين :منع الزوج حقا من حقوق زوجته الواجبة لها عليه، كالمهر والنفقة، ومنعها حقا له عليها كذلك، كالتمتع من غير عذر شرعي) قال تعالى: {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة} [البقرة: 228] ذكره تعالى عقب قوله: {وبعولتهن أحق بردهن في ذلك إن أرادوا إصلاحا} [البقرة: 228]...وقال بعضهم: يجب عليه أن يقوم بحقها ومصالحها، ويجب عليها الانقياد والطاعة له...والطبراني:إن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعا إلا بإذنه، فإن فعلت جاعت وعطشت ولا تقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه، فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الأرض وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع . والطبراني بسند جيد: المرأة لا تؤدي حق الله عليها حتى تؤدي حق زوجها كله، لو سألها وهي على ظهر قتب لم تمنعه نفسها . وصح:لا ينظر الله تبارك وتعالى إلى امرأة لا تشكر لزوجها وهي لا تستغني عنه . والترمذي وحسنه: لا تؤذي امرأة زوجها في الدنيا إلا قالت زوجته من الحور العين :لا تؤذيه قاتلك الله ، فإنما هو عندك دخيل يوشك أن يفارقك إلينا. وصح: إذا دعا الرجل زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2 /شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


