| 86794 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میں نے یو کے میں ایک کنونشنل بینک سےقسطوں پر گاڑی لی۔ گاڑی کی قیمت 18,000 پاؤنڈ تھی، اور مجھے 21,000 پاؤنڈ 4 سال کی قسطوں میں ادا کرنے ہیں۔ یہ رقم مکمل طور پر فکسڈ (معین) ہے۔ میں نے یہاں يو كے کے دارالافتاء سے فتویٰ لیا تھا اور انہوں نے کہا کہ یہ بالکل جائز ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ پھر بھی ایک سودی معاہدہ ہے؟ کیونکہ اگر میں کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کروں یا قسط ادا نہ کروں تو مجھے 25-50 پاؤنڈ اضافی جرمانہ دینا پڑے گا۔ اگرچہ میں نے ابھی تک کوئی قسط نہ تو لیٹ کی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ ہے ، لیکن جس معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، اس میں یہ شرط درج ہے۔ نیز مجھے یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ اگر میں گاڑی کی قسطیں جلد ادا کر دوں، تو مجھے گاڑی کم قیمت پر ملے گی، یعنی 21,000 کے بجائے 20,000 پاؤنڈ دینے پڑیں گے، کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً گاڑی کی خریداری ہوتی ہے اور یہ قرض کا معاملہ نہیں ہوتاتو جرمانے کی سودی شرط لگانے کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں، تاہم اب اگر عملاً جرمانہ لازم ہونے کی صورت نہ آنے دیں تو گاڑی کی خریداری جائز ہے ۔
اور اگر یہ واقعتاً خریداری نہیں ،بلکہ بینک آپ کی جگہ پر صرف قیمت کی ادائیگی کرتا ہے ،تو یہ ایک سودی قرض کا معاملہ ہے ، جو کہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اگر اس معاملے کو ختم کرنے کی کوئی صورت ممکن ہو، تو اسے ختم کر کے کسی اسلامی بینک سے قسطوں پر گاڑی خرید لی جائے،لیکن اگر فسخ کرنے کی کوئی ممکن صورت نہ ہو، تو طے شدہ معاملے پر اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ سودی بینکوں کے ساتھ اس قسم کے معاملات سے اجتناب کریں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(275/01):
وأحل الله البيع وحرم الربا.
المبسوط للسرخسي (13/ 7):
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.
شرح المجلة (246/01):
البیع مع تأجیل ا لثمن وتقسیطه صحیح یلزم أن تکون المدّة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط.
:( بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ1/15)
ومما یجب التنبیه علیه هنا: أن ما ذکر من جواز هذا البیع إنما هو منصرف إلی زیادة في الثمن نفسه، أما ما یفعله بعض الناس من تحدید ثمن البضاعة علی أساس سعر النقد و ذکر القدر الزائد علی أساس أنه جزء من فوائد التأخیر في الأداء، فإنه ربا صراح. وهذا مثل ان یقول البائع: بعتك هذه البضاعة بثماني ربیات نقدا، فإن تأخرت في الأداء إلی مدة شهر فعلیك ربیتان علاوة علی الثمانیة، سواء سماها فائدة (Interest) أو لا؛ فإنه لا شك في کونه معاملة ربویة؛ لأن ثمن البضاعة إنما تقرر کونه ثمانیة، وصارت هذه الثمانیة دینا في ذمة المشتري، فما یتقاضی علیه البائع من الزیادة فإنه ربا لا غیر.
مسند أحمد (6/ 190 ت أحمد شاكر):
حدثنا أبو بكر الحنفي حدثنا الضَّحَّاك بن عثِمان عن عمرو بن شُعيب عن أبيه عن جده، قال: نهىِ رسول الله -صلي الله عليه وسلم - عن بيعتين في بيعة، وعن بيع وسَلَف، وعن رِبْح مالم يُضْمنْ، وعن بيع ماليس عندكَ.
جمع الجوامع المعروف بـالجامع الكبير (16/ 500):
عن أبى المنهال أنه سأل ابن عمر: قلت: لرجل على دين، فقال لى: عجل لى وأضع عنك، فنهانى عن ذلك، وقال: نهى أمير المؤمنين -يعنى عمر- أن أتبع العين بالدين".
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06 /شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


