03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
راشن کارڈ پرملنے والے مکان میں وراثت کا حکم
86514میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد کا ایک مکان ہے، جس میں ہمارے چاچا اور چاچی ساتھ رہتے تھے،اب ہمارے والد اور چاچا دونوں کی وفات ہوگئی ہے، ان کے وارث ہمارے مکان میں سے حصہ مانگ رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا  ان کا شرعی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جب ہمارے والد اور چچا انڈیا سے آئے تھے تو یہ مکان راشن کارڈ پر ملا تھا اور فائل وغیرہ سب میرے والدکے نام پر بنی تھی، تمام اخراجات بھی  والد نے کیے تھے ،لیکن دادی کہتی تھی کہ یہ مکان تم دونوں بھائیوں کا ہے،  اب ہمارے والد ، والدہ صاحبہ اور چچا تینوں کا انتقال ہو گیا ہے ،اس لیے پہلے یہ پوچھنا ہے کہ یہ مکان صرف میرے والد کا  ہےیا یا چچا کا بھی اس میں حصہ ہے؟ اور دوسرا ہم چھ بھا ئیوں  میں سے دو بھائی اسی گھر میں رہتے ہیں، ندیم اور کلیم اور باقی بھائی الگ  رہتے ہیں،  اب ندیم بھائی  کہہ رہے ہیں کہ میں زیادہ کما تا تھا اور والدین کی سب سے زیادہ خدمت میں نے کی۔ میرا حصہ اس یہ میں زیادہ ہے بیماری اور کفن  وفن پر بھی میں نے خرچہ کیا ہے ۔ تو شریعت اس معاملے میں کیا کہتی ہے ؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہمارے دادا کا انڈیا میں گھر تھا، اس کے متبادل یہاں ہماری دادی کو یہ مکان ملا تھا، ہمارے والد صاحب بڑے بیٹے تھے، ان شناختی کارڈ بھی بنا ہوا تھا، اس لیے ان کے نام پر وہ مکان رجسٹرڈ کروایا گیا تھا۔نیز دادی کا انتقال ہو چکا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق مذکورہ مکان آپ کی دادی کو انڈیا کے مکان کے عوض دیا گیا تھا اور شناختی کارڈ بنے ہونے کی وجہ سے آپ کے والد صاحب کے نام اس لیے رجسٹرڈ کروایا گیا تھا، اسی لیےآپ کی دادی کہتی تھی کہ یہ مکان دونوں بیٹوں کا ہے، لہذامکان آپ کے والد صاحب کے نام صرف رجسٹرڈ کروانے سے وہ اس کے مالک نہیں بنے، بلکہ یہ مکان شرعی اعتبار سے آپ کی دادی کی ملکیت تھا اور اب ان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔

باقی آپ کے بھائی ندیم کا یہ کہنا کہ اس مکان میں میرا زیادہ حصہ ہے، درست نہیں، کیونکہ وراثتی مکان میں ہر وارث کا حصہ شریعت کےمقرر کردہ حصے مطابق ہی ہوتا ہے، البتہ اگر کسی وارث نے اس مکان میں تعمیری اخراجات کیے ہوں تو وہ یہ اخراجات کی رقم وصول کر سکتا ہے۔        

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 313) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1592) إذا قال أحد في حق الحانوت الذي في يده بموجب سند: إنه ملك فلان , وليس لي علاقة فيه واسمي المحرر في سنده مستعار , أو قال في حق حانوت مملوك اشتراه بسند من آخر: إنني كنت قد اشتريته لفلان , وإن الدراهم التي أديتها ثمنا له هي من ماله , وقد حرر اسمي في سنده مستعارا. يكون قد أقر بأن الحانوت ملك ذلك الشخص في نفس الأمر.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:

 ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.

وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.

مجلة الأحكام العدلية (1 /100) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

التعميرات التي أنشأها المستأجر بإذن الآجر إن كانت عائدة لإصلاح المأجور وصيانته عن تطرق الخلل كتنظيم الكرميد (أي القرميد وهو نوع من الآجر يوضع على السطوح لحفظه من المطر) فالمستأجر يأخذ مصروفات هذه التعميرات من الآجر وإن لم يجر بينهما شرط على أخذه وإن كانت عائدةً لمنافع المستأجر فقط كتعمير المطابخ فليس للمستأجر أخذ مصروفاتها ما لم يذكر شرط أخذها بينهما.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

21/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب