03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گستاخِ نبی اور منکر ختم نبوت کی توبہ کا حکم(گستاخِ رسول کی توبہ،مغفرت اور اس کے ساتھ سلوک کا حکم)
86439ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! جیساکہ آپ کے علم میں ہے کہ کچھ دنوں پہلے ہمارے یہاں کوئٹہ میں ایک شخص نےختم نبوت کا انکار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، جس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی انٹریو لینے والے کوجواب دیتے ہوئے کہا کہ: "وہ کیا نام ہے؟ مولوی لوگ اس کو  کیا کہتے ہے؟ ہاں ختم نبوت، وہ تو۱۴۰۰ سال  پہلے مردار ہوچکا ہے۔  زندہ لوگ جونبوت کا درجہ رکھتے ہیں، مسلمانی کا درجہ رکھتے ہیں ان کا خیال نہیں رکھتے!!"۔ معاذ اللہ۔

گستاخی کرنے کےدوسرے دن تھانے کے پولیس اہلکار نے تھانے کےاندر اسےقتل کردیا، اس پر اس پولیس کو خراج ِتحسین پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر میں نے پوسٹ کیا اور اسے سراہا،  جس پربعض لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کی کمنٹس آنی شروع ہوگئی، کسی نے یہ حدیث (إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ) پیش کرتے ہوئےکہاکہ اس سےیہ گستاخی غلطی میں صادر ہوئی، دراصل وہ حالیہ ختم نبوت کانفرنس کےبعدحکومت کا تحریک انصاف کو جلسہ کرنےکی اجازت نہ دینےپرمولانا فضل الرحمان صاحب  کوبرا بھلا کہہ کراسی اثنا  میں اس کے منہ سےانکار ختم نبوت اور گستاخی رسول  صادر ہوئی، زیادہ قریب یہی ہے کہ لفظ "مردار"سے اس کی مرزا قادیانی یا مسیلمہ کذاب مراد تھا؛ کیونکہ دونوں کا فیلم ایک بنایا گیا ہے، وہ تو ختم نبوت کا مطلب سمجھتا ہی نہیں تھا،  علاوہ ازیں وہ  پنج وقتہ  باجماعت نماز پڑھتا تھا اورحنفی مسلک سےتعلق رکھتا تھا، اس سے معلوم ہوتاہےکہ یقینًا وہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتاتھا ۔ صرف اتنی بات ہے کہ سیاست سے تعلق  رکھنےوالے علماءکےساتھ بغض ضرور  رکھتاتھا۔ کسی دوسرےشخص  نے کمنٹس کیا کہ اس کو قتل کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی،   پولیس کوقتل کرنے کی اجازت نہیں تھی،   بلکہ قتل کرنے پر وہ خود قاتل بنا۔

دوسری طرف اس گستاخ کےبیٹےنےویڈیوبیان جاری کیا، جس میں وہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کرکہتاہےکہ میں قسم کھاکرکہتاہوں کہ  میرےوالدصاحب کوجب پولیس  اہلکار پکڑنےآئے توانہوں نےویڈیو دکھاکرکہا کہ دیکھو آپ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ والدصاحب نےکہا کہ میں نےگستاخی کی تھی، لیکن  میں نے اللہ سےتوبہ کیاتھا، کلمہ پڑھ لیاتھا۔انہوں نےکہا کہ جب تم نے توبہ کیا تو پھر اس کی متبادل ویڈیو بیان بھی جاری کرلیتے!!  والدصاحب نےکہا کہ ابھی جاری کردیتاہوں، لیکن وہ بغیر کوئی بات مانےوالد صاحب کوتھانہ  لےگئے۔ غرض کچھ لوگ کیا کہتے ہیں اور کچھ کیا،  اب پوچھنا یہ ہےکہ:

1) کیا مذکورہ شخص  کوقتل کرنے سے پہلے شرعًاتحقیق کرنا  ضروری تھا یانہیں؟ اور اس کاتوبہ قبول  کی جائے گی یانہیں، جبکہ اس نےتوبہ کی تھی؟  2) کیا شریعت کی رو سے مذکورہ گستاخ رسول  کو قتل  کرنے والا پولیس  اہلکار قاتل کے زمرے میں آتاہے یا نہیں؟

3) جو لوگ اس گستاخ کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کو بغیر کسی گناہ کےقتل کیاگیا  ہے ان کا کیا حکم ہے؟   کیا وہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1) اگرکوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتاہےتواس سےوہ آدمی اسلام سےخارج ہوجاتاہے، پھراگروہ اپنےجرم پربرقراررہتاہےاورتوبہ نہیں کرتاتووہ مرتد ہونےکی وجہ سےقتل کیاجائےگا، جسےتحقیق کےبعداورجرم ثابت ہونےکےبعد حاکم وقت یااسلامی حکومت قتل کرےگی، رعایامیں سےکسی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کوہاتھ میں لےکراسےقتل کرے، لیکن اگروہ سچی توبہ کرتاہےاوراس پرچندلوگوں کوگواہ بھی بنادیتاہےتوفقہاءاحناف کےراجح قول کےمطابق اس کی توبہ معتبر ہوگی اوراس توبہ سےوہ دوبارہ مسلمان ہوجائےگا، اس کےبعدکسی کےلیے اس کوقتل کرنا جائزنہیں۔

2) شرعی سزاؤں کوجاری کرناشرعًاریاست کی ذمہ داری ہے،جس کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں بااختیارافراد ہی گناہ گار ہوں گے،عوام میں سے شرعًاکسی کو یہ حق حاصل نہیں ہےکہ وہ شرعی سزاؤں کا نفاذ  ماورائے عدالت از  خود کرنے لگے، لہذ ا قتل کرنے والےشخص نے چونکہ قانون کو خود اپنے  ہاتھ میں لےکر گستاخ کو قتل کیا، جس پر وہ گناہگار ہے، اسے چاہیے کہ اس پراللہ تعالی سے توبہ کرے، لیکن اگرتفتیش سےثابت ہواکہ واقعی گستاخی ثابت تھی تو مقتول  چونکہ مباح الدم تھا اس لیے اس قاتل پر قصاص نہیں آئے گا،  البتہ اسے مناسب تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔

3) جو لوگ  اس مجرم  کےقتل کو بے گناہ کاقتل  سمجھتے ہیں، ان کی بات گستاخی ثابت ہونےکی صورت میں درست نہیں؛ کیونکہ گستاخ کی سزا رائج  پاکستانی قانون کےمطابق بھی قتل ہی ہے۔ تاہم جلد بازی کرنےاور قانون ہاتھ میں لینے کےلحاظ سے ان کااس عمل کی حوصلہ شکنی کرنا درست ہے۔ اس صورت میں یہ گستاخ یا گستاخی کی تائید نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

قال الإمام أبو يوسف رحمه الله تعالى: وأيما رجل مسلم سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو ‌كذبه ‌أو ‌عابه أو تنقصه؛ فقد كفر بالله وبانت منه زوجته؛ فإن ‌تاب ‌وإلا ‌قتل. (الخراج، ص:  199)

وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله: (وقد صرح في النتف إلخ) أقول: ورأيت في كتاب الخراج لأبي يوسف ما نصه: وأيما رجل مسلم سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو ‌كذبه ‌أو ‌عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى، وبانت منه امرأته، فإن ‌تاب ‌وإلا ‌قتل. (رد المحتار:4/ 234)

وقال العلامةالكاساني  رحمہ اللہ تعالی:  وأما ‌شرائط ‌جواز ‌إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا.(بدائع الصنائع : 7/ 57)

وقال العلامة  ابن نجيم رحمہ اللہ تعالی:  وأفاد بإطلاقه أنه لا فرق بين ردة وردة من أنه إذا أسلم ويستثنى منه مسائل الأولى الردة بسبه صلى الله عليه وسلم قال في فتح القدير كل من أبغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق أولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاطه القتل قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك ونقل عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه ولا فرق بين أن يجيء تائبا من نفسه أو شهد عليه بذلك.( البحر الرائق : 5/ 135)

وقال العلامة القدوري  رحمہ اللہ تعالی: قال أصحابنا: الحدود لا تسقط بالتوبة إلا قتل المرتد وحده، وحد قاطع الطريق إذا ‌تاب ‌قبل القدرة عليه. (التجريد: 11/ 5949)

وقال العلامة الحصكفي  رحمه الله تعالى: وبہ کا موقع دینا ضروری نہ تھا۔  (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن. ( الدر المختار:  4/ 231)

وقال العلامةابن عابدين  رحمہ اللہ تعالی:  ‌لا ‌يخرج ‌الرجل ‌من ‌الإيمان ‌إلا ‌جحود ‌ما ‌أدخله ‌فيه، ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها، وما يشك أنه ردة لا يحكم بها، إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك، مع أن الإسلام يعلو، وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام، مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره.( رد المحتار : 4/ 224)

راز محمدبن اخترمحمد

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 14رجب الخیر1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رازمحمدولداخترمحمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب