| 87689 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرے سسر کا اپنے بیٹے سے جھگڑا ہو گیا، تو میری ساس نے بیٹے کی حمایت کی ،تو سسر نے غصے میں ساس سے کہا:’’ تم میری طرف سے فارغ ہو۔‘‘ بار بار بیٹے سے کہتے رہے:’’یہ میری طرف سے فارغ ہے،تم بھی نکلو اوراس کو بھی لے جاؤ۔‘‘ ان کیلئےکیاحکم ہے؟
نوٹ:ان کی بیٹی نے ان سے پوچھاکہ آپ نےیہ الفاظ کس نیت سے بولےتھے؟ انہوں نے کہا کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تم میری طرف سے فارغ ہو" کا تعلق کنایہ الفاظ کی اس قسم سےہے جس میں صرف طلاق بننے کی صلاحیت ہے اور قرینے(جیسے مذکورہ صورت میں غصہ) کی موجودگی کی صورت میں ایسے الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑتا ہے،تجدیدِ نکاح کے بغیر صرف زبانی یا عملی طور پر رجوع کافی نہیں ہوتا ۔یاد رہے کہ آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔)احسن الفتاوی(188/5: (مستفاداز تبویب جامعۃ الرشید:86027)۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 375):
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
01/ذی الحج 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


