| 86655 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں موبائل ریپئرنگ کی دوکان پر کام کرتا ہوں،وہاں ریپئرنگ بھی ہوتی ہے اور موبائل کے پارٹس بھی بیچے جاتے ہیں،دوسرے دوکاندار ہماری دوکان سے پارٹس خریدنے آتے ہیں،دوکان کا مالک دوکانداروں کو سستے داموں میں پارٹس دیتاہے،جبکہ کوئی کسٹمر ریپئرنگ کے لیے آتا ہے تو اسے مہنگا بتاتا ہے،مثال کے طور پر اگر کوئی موبائل کی اسکرین لگوانے آیا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ 2500 کی اسکرین ہے اور 300 لگانے کی مزدوری ہوگی،جبکہ دوکانداروں کو 2000 کی اسکرین دی جاتی ہے اور مارکیٹ قیمت بھی 2000 ہی ہے تو اس طرح مزدوری کے 800 بچتے ہیں،کیا ایسا کرنے سے کمائی حرام ہوگی؟جبکہ مالک کے کہنے کی وجہ سے کبھی کبھار مجھے بھی ایسا کرنا پڑتا ہے،میں دوکان پر موبائل بھی ریپئر کرتا ہوں،مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگتا،کیا میری تنخواہ بھی حرام ہوگی؟ اور کیا میری ساری تنخواہ حرام ہوگی یا کچھ حصہ؟
تنقیح :سائل نے بتایا ہے کہ مارکیٹ ریٹ دو ہزار روپے ہے،لیکن ہم کسٹمر کو مارکیٹ ریٹ کی تصریح کے ساتھ 2500 نہیں بتاتے،بلکہ مطلقا قیمت بتاتے ہیں کہ اسکرین اتنے کی آپ کو دیں گے اور مزدوری اتنی ہوگی۔
نیز مزدوری سمیت گاہک کو اسکرین اتنی ہی قیمت میں پڑجاتی ہے جتنے میں دیگر دکانوں سے خریداری کرنے پر پڑتی ہے،کیونکہ ہم اسکرین کی قیمت تو زیادہ بتاتے ہیں،لیکن مزدوری کم لیتے ہیں،جبکہ دیگر دکاندار اسکرین کی قیمت کم بتاتے ہیں اور مزدوری زیادہ لیتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جب اسکرین کا مارکیٹ ریٹ دو ہزار روپے ہے اور آپ گاہک کو اس کی قیمت 2500 لگاتے ہیں تو اگر عام مارکیٹ میں مزدوری کے بغیر ایسی اسکرین دو ہزار میں فروخت کی جاتی ہو تو ایسے میں اتنا زیادہ نفع لینا مروت اور اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے،تاہم چونکہ شریعت نے نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی،اس لئے اگر گاہک کے سامنے اس طرح غلط بیانی نہیں کرتے کہ اس اسکرین کا مارکیٹ ریٹ 2500 ہے،بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو اسکرین 2500 میں دیں گے اور مزدوری تین سو لیں گے،یا مزدوری سمیت ا سکرین کی قیمت 2800 لیں گے تو اس طرح معاملہ کرنے کی صورت میں آپ لوگوں کی آمدن حلال ہے،کیونکہ دوکاندار گاہک کو جو قیمت بتاتے ہیں،اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی مارکیٹ کی قیمت اتنی ہے،بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم آپ کو یہ چیز اتنی میں دیں گے،لہذا ایسی صورت میں آپ کا اس دوکان پر کام کرنا اور تنخواہ لینا حلال ہے۔
البتہ اگر اس طرح قیمت بتانے کا مطلب کسی مارکیٹ کے عرف میں یہ ہو کہ یہ مارکیٹ ریٹ ہے تو پھر دھوکہ دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (4/ 575):
" والفرق بين الثمن والقيمة أن الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان ،سواء زاد على القيمة أو نقص، والقيمة ما قوم به الشيء بمنزلة المعيار من غير زيادة ولا نقصان".
"بحوث فی قضایا فقھیة معاصرۃْ" (13/1):
"وللبائع ان یبیع بضاعتہ بما شاء من ثمن، ولا یجب علیہ ان یبیعھا بسعر السوق دائما".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


