03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زنا کی مرتکب ماں کے حقوق کا حکم
86423جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب!اگر کسی بندے کی ماں زناکار ہو،بندے نے خود اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو زنا کا مرتکب ہوتے ہوئے دیکھا ہو اور منع کرنے کے باوجود بھی وہ خود بھی زنا جیسے گناہ کی مرتکب ہو رہی ہو اور ساتھ میں اپنی بہو اور بیٹیوں کو بھی اسی بے حیائی والے کام پر لگایا ہوا ہو۔

تو کیا ایسی عورت کو ماں کا درجہ دینا ہوگا اور اس کو وہ سارے حقوق دینے ہوں گے جو اسلام نے ہمیں بتائے ہیں،جبکہ نہ تو وہ اس گناہ سے توبہ کر رہی ہو،بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شامل کر رہی ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرچہ زنا ایک سنگین معصیت ہے،لیکن ماں باپ اگر مشرک  ہوں تب بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے حقوق کی رعایت رکھنا لازم ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

{وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ } [لقمان: 15]

ترجمہ:اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو،پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے،اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

اس لئے مذکورہ صورت میں حتی الامکان ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے والدہ کو سمجھاتے رہنا چاہیے،اگر آپ کے سمجھانے سے باز نہ آئیں تو خاندان کے کسی بڑے مثلا ان کے والد یا بھائی وغیرہ کو آگاہ کرنا چاہیے،تاکہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے،لیکن آپ کے لئے ان کی بے ادبی  اور حق تلفی کی گنجائش نہیں ہے۔

حوالہ جات

"التفسير المنير للزحيلي "(21/ 148):

"(وصاحبهما في الدنيا معروفا، واتبع سبيل من أناب إلي، ثم إلي مرجعكم فأنبئكم بما كنتم تعملون) أي لا يمنعك عدم طاعتك لأبويك في الشرك والمعصية من أن تصاحبهما في الدنيا بالمعروف، بأن تحسن إليهما، فتمدهما بالمال عند الحاجة، وتطعمهما وتكسوهما، وتعالجهما عند المرض، وتواريهما عند الموت في القبور، وتبر صديقهما، وتفي بعهدهما.

 وقوله:" معروفا" أي صحابا معروفا على مقتضى الكرم والمروءة، أو مصاحبا حسا بخلق جميل، وحلم واحتمال، وبر وصلة".

"صفوة التفاسير "(2/ 452):

{ وصاحبهما في الدنيا معروفا } أي وصاحبهما في الحياة الدنيا بالمعروف والإِحسان إلأيهما - ولو كان مشركين - لأن كفرهما بالله لا يستدعي ضياع المتاعب التي تحمَّلاها في تربية الولد".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

14/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب