03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازم کی تنخواہ سےجی پی فنڈکی کٹوتی اوراس پر ملنے والے منافع کا
85753سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میری تنخواہ میں سے ہر ماہ GP Fund کی کٹوتی ہوتی ہے، جس میں ہمارا اختیار نہیں۔ پھر حکومت ہر سال کے آخر میں اس پر کچھ منافع دیتی ہے، جو اس وقت کے حساب سے متعین شدہ سود کے ریٹ کے مطابق ہوتا ہے۔

میرے لیے یہ منافع جائز ہے یا نہیں؟ تسلی بخش جواب فراہم کریں۔ میں نے اپنیGP Fund اسٹیٹمنٹ ساتھ لف کر دی ہے، جس میں واضح طور پر"Interest"کا لفظ موجود ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی پی فنڈسے جبری کٹوتی پر ملنے والا نفع سود نہیں ہے، اس لیے کہ جب ملازم کی تنخواہ سے یہ رقم جبراً کاٹ لی جاتی ہے تو وہ ملازم کی ملکیت میں نہیں آتی، کیونکہ نہ اس پر ملازم نے قبضہ کیا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی وکیل نے قبضہ کیا ہوتا ہے۔

اور جب ملکیت میں نہیں آتی تو ایسی رقوم کے ساتھ حکومت جو بھی معاملہ کرتی ہے، وہ یکطرفہ معاملہ ہوتا ہے اور وہ ملازم کی طرف منسوب نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس جمع شدہ رقم پر اگر حکومت سود لگائے تو یہ سب یکطرفہ کارروائی شمار ہوگی اور ملازم کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

لہٰذا جب حکومت یہ رقم ملازم کو دے تو حکومت کی طرف سے یہ اجرت ہی کہلائے گی، نہ کہ سود، اور ملازم کے لیے اس کا لینا فی نفسہٖ جائز ہوگا، اگرچہ حکومت اس کو سود کے نام سے دے۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں:

"جبری پر اویڈنٹ فنڈ پر جوسود کے نام پر رقم ملتی ہے وہ شرعاً سود نہیں بلکہ اجرت (تنخواہ)ہی کا ایک حصہ ہے"۔

(پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ اور سود کا مسئلہ،ص؍۴)

ایک اورجگہ  تحریرفرماتے ہیں:

"جب یہ ثابت ہوگیا کہ پراویڈنٹ فنڈکی رقم نہ ملازم کی مملوک ہےاورنہ فی الحال اس کے تصرفا ت اس میں نافذہیں تو محکمہ اس رقم کے ساتھ جو معاملہ بھی کررہاہے ملازم کا اس سے کوئی تعلق نہیں اورجس طرح بتصریح "بحر"ملازم کے تصرفات بیع وشراء اس رقم میں شرعاً معتبرنہیں،اسی طرح اس رقم میں ملازم کی طرف سے معاملہ ربابھی ناممکن اورغیرمعتبرہے ،اس رقم میں محکمہ کے جملہ معاملات کی ذمہ داری خود محکمہ پر عائد ہوتی ہے،ملازم پر نہیں،محکمہ کے یہ تصرفات نہ ملازم کے مال مملوک میں ہیں اورنہ اس میں محکمہ ملازم کا وکیل ہے۔لہذا جس وقت محکمہ اپنایہ واجب الاداء دین ملازم کو اداکرتاہے اوراس میں کچھ رقم اپنی طرف سے مزید ملاکردیتاہے(یہ مزید رقم خواہ وہ ہوجو محکمہ ماہ بماہ ملازم کے حساب میں جمع کرتاہے اورخواہ وہ ہوجو سالانہ سود کے نام سے اس حساب میں جمع کی جاتی ہے)تو یہ بھی محکمہ کااپنایک طرفہ عمل ہے،کیونکہ اول تو ملازم نے اس زیادتی کے ملانے کا حکم نہیں دیا تھا،اوراگرحکم دیا بھی ہو تو اس کایہ حکم شرعاً معتبرنہیں،اس لیے کہ یہ حکم ایک ایسے مال سے متعلق ہے جو اس کا مملوک نہیں ہے، بنابریں محکمہ پرویڈنٹ فنڈکی رقم پر جو زیادتی اپنی طرف سے سے دے رہاہے اس پر شرعی اعتبارسے ربا کی تعریف صادق نہیں آتی ،خواہ محکمہ نےاسے سود کا نام لے کردیاہو۔"(جواہرالفقہ 3/277)

حوالہ جات

وفی البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي (7/ 300)

(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أوبالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلابواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره. لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.

وفی الفتاوى الهندية (4/ 413)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/6/1446ھ

ملازم کی وفات کی صورت میں جی پی(General Provident Fund)فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم کاحکم
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب