03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ کے پہلے شوہرسے نکاح
84301طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ

میرانکاح 2005/8/2ء کو نورین بنتِ عبد الستار(مرحوم)  کے ساتھ شریعتِ محمد کے مطابق ہوا، نورین کے بطن سے میرے چاربچے ہوئے ،تین بیٹاں اورایک بیٹا ،جن کے نام منیبہ شعیب ،زخرف شعیب، احمدشعیب اور ابرش شعیب ہیں، بیٹا احمدشعیب پیدائش کے بعدمعذورہوگیا تھا  اورتاحال معذورہے،اپریل 2023میں ہم میاں بیوی کے درمیان گھریلوجھگڑا ہوا اورمیری بیوی نورین شعیب چاربچوں کولیکرمیکے چلی گئی اورایک ماہ کے بعد میں نے کورٹ فارم کے ذریعے تین طلاق دے دی، میری بیوی کردارکی پاک ہے،مجھ سے غلطی ہوگئی ،میں نے چاربچوں کی پرواہ کئے بغیریہ کام کردیا، اب میراسوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی سابقہ بیوی نورین بنت عبد الستارسے دوبارہ نکاح کرسکتاہوں؟ میں یہ نکاح معذوربچے اوربیٹیوں کی پرورش کی خاطرکرنا چاہتاہوں تاکہ وہ میرے پاس ہوسکے ،میری سابقہ بیوی بھی راضی ہے،لیکن وہ حلالہ نہیں کروانا چاہتی کیونکہ میں نے اس پرظلم کیاہے ،قرآن وسنت کی روشنی میں مجھے یہ فتوی دیں کہ  ان بچوں کی وجہ سے جوکہ ابھی ماں کے پاس ہیں اورمعذوربچہ کی پرورش کی خاطرکیامیں دوبارہ نکاح کرسکتاہوں ،میں اپنے فیصلے پر بہت شرمندہ ہوں ،اللہ سے معانی مانگتاہوں ،اللہ مجھے معاف کردے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تین طلاقوں کے بعدحلالہ کے بغیر پہلے شوہر سےنکاح نہیں ہوسکتا،لہذا مسئولہ صورت میں حلالہ کے بعدہی آپ اپنی سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں،ورنہ اس کے بغیر جماع زنا شمارہوگا۔

نابالغ اولاد کی پرورش  کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے بارے میں تفصیل یہ ہےکہ بیٹے  کی عمرسات سال ہونے اور بیٹیوں کے بالغ ہونے تک پرورش کاحق  ماں کو ہوتاہےاوراس کےبعد یہ حق والد کو منتقل ہوجاتا ہے۔

ان بچوں کی کفالت(نان ونفقہ) کی ذمہ داری کے بارے میں یہ تفصیل  ہے کہ اگر ان بچوں کی ملکیت میں اتنا مال موجود ہوجس سے ان کے اخراجات پورے ہوسکتے ہوں تو ان کے اخراجات کا خرچہ ان کے اپنے مال میں سےہوگاورنہ تویہ والد یعنی آپ کے ذمہ ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196):

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

وفی أحكام القرآن للجصاص( ج: 5  ص: 415):

قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

وفي الهداية (٢/٤٣٨):

وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد...... والنفقة على الأب.....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغيرحتى يستغني......والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 566):

 (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.

وفي الفتاوى الهندية (1/ 563،561):

وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد…………………….. ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/01/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب