03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازم کاڈیوٹی کیے بغیرتنخواہ لینا
86860اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

       السلام علیکم ! میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ایک افسر کے ساتھ بطور پرائیویٹ سیکرٹری ڈیوٹی سر انجام دیتا ہوں،  ہم ایک سیکشن میں تین چار لوگ ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ مجھے میرے مجاز افسر نے کہا کہ آپ ڈیوٹی کے لیے نہ آئیں اور گھر ہی بیٹھےرہیں ، کیونکہ اور نو جوان لڑکے ڈیوٹی کے لیے کافی ہیں۔اب   میرا مجاز افسر مجھے  جورعایت دے رہا ہے اس  کے بارےمیں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور اس سے میری تنخواہ حلال سمجھی  جائےگی یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کو جب تنخواہ سرکار سے ملتی ہے  تو بغیر ڈیوٹی کیے آپ کےلیےتنخواہ لینا جائز نہیں،کیونکہ  سرکاری ملازم اجیر خاص کے حکم میں ہوتا ہے جس  پر مقررہ وقت   میں ڈیوٹی کےلیے حاضرہونا ضروری  ہے  ،چاہےکام ہویا  نہ ہو۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الزيلعي الحنفي رحمہ اللہ:الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل، عمل أو لم يعمل. سمي أجيرا خاصا وأجيرَ وحدٍ؛ لأنه يختص به الواحد، وهو المستأجر، وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له، والأجر مقابل بها، فيستحقه ما لم يمنعه من العمل مانع حسي كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن من العمل. (تبيين الحقائق (137/5:

قال العلامۃ سلیم رستم باز رحمہ اللہ:الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل. (شرح المجلة: ص،239)

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:والثاني وهوالأجیر الخاص، ویسمی أجیر وحد وهو من یعمل لواحدٍ عملاً موقتاً بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة وإن لم یعمل. (الدر المختار على  الرد:(95/9

جمیل الرحمٰن  بن محمد ہاشم                                      

 دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11شعبان المعظم1446 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب