03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“بجاج فائنانس کارڈ”کا شرعی حکم
86250سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میرا نام انصاری زیاد انظر ہے میں مالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا سے ہوں۔ ہمارے انڈیا میں اگر کوئی شخص قسطوں پر کوئی چیز خریدنا چاہے تو اسے بہت سی کمپنیاں" بجاج فائنانس کارڈ" کے ذریعے خریدی کرنے پر 0 فیصد انٹریسٹ پر قسط واری خریدنے کی سہولت دیتی ہے۔ تو کیا اس کارڈ کا استعمال درست ہے؟ اس کارڈ کو بنانے کیلئے پہلی مرتبہ تقریبا 600 روپئے فیس دینی ہوتی ہے اسکے بعد کوئی فیس نہیں ہوتی ہے البتہ قسطوں میں دیری ہونے کی صورت میں سود دینا پڑتا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بلاضرورت شدیدہ مروجہ "بجاج فائنانس کارڈ" بنوانا اور استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اس میں یہ معاہدہ کرنا پڑتا ہے کہ قسطوں میں دیر ہونے کی صورت میں سود دیا جائے گا۔ تاہم اگر کسی جگہ ضرورت ہو کہ اس کے بغیر شدید حرج لازم آتا ہو اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ سے کام نہ چل سکتا ہو، تو اس صورت میں جائز مقاصد کے لیے بجاج فائنانس کارڈ کے استعمال کی درج ذیل شرائط کے ساتھ اجازت ہوگی:

۱۔ کسٹمر وقت معین سے پہلے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرے تاکہ سود عائد ہونے کا امکان باقی نہ رہے۔

 ۲۔ کسٹمر اس کارڈ کو غیر شرعی امور میں استعمال نہ کرے۔

۳۔ اگر ضرورت ڈیبٹ کارڈ سے پوری ہو رہی ہو تو کریڈٹ کارڈ استعمال نہ کرے۔ صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھ کر مذکورہ کارڈ لیا جائے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بینک کی طرف سے جو چارجز پروسیسنگ فیس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں، اگر وہ حقیقی اخراجات کی حد تک ہوں تو ان کا حکم اجرت کا ہوگا، یہ سود کے زمرے میں نہیں آتے، لہٰذا ان کی ادائیگی جائز ہے۔

حوالہ جات

 ("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،المادۃ ۴/۲)

یجو زللمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی عمولۃ من قابل البطاقۃ بنسبۃ من ثمن السلع والخدمات۔

("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،المادۃ ۴/۳)

یجوز للمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی من حامل البطاقۃ رسم عضویۃ ،ورسم تجدید،ورسم استبدال ۔

("المعاییرالشرعیۃ"رقم ۱۹،المادۃ ۹/۱)

یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ أن تاخذ علی خدمات المقروض مایعادل مصروفاتہا الفعلیۃالمباشرۃ ،ولا یجوز لہا أخذ زیادۃ علیہا،وکل زیادۃ علی المصروفیات الفعلیۃ محرمۃ.ویجب ان تتوخی الدقۃ فی تحدید المصروفات الفعلیہ بحیث لا یؤدی الی زیادۃ تئول  الی فائدۃ .والاصل أن یحمل کل قرض  بتکلفتہ الخاصۃ بہ الا اذا تعسرذالک،کمافی اوعیۃ الاقراض المشترکۃ ،فلامانع من تحمیل التکالیف الاجمالیۃ  االمباشرۃ عن جمیع القروض علی اجمالی المبالغ.

("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،[۳])

یجوز للمؤسسات اصدار بطاقۃ الحسم الفوری مادام حاملھا یسحب من رصیدہ،ولایترتب علی التعامل بھا فائدۃ ربویۃ.

یجوز اصدار بطاقۃ الاتمان والحسم الآجل بالشروط الآتیۃ :

۳/۲/۱۔ألایشترط علی حامل البطاقۃ فوائدربویہ فی حال تأخرہ عن سداد المبالغ المستحقۃ علیہ ۔

۳/۲/۳۔أن تشترط المؤسسۃ علی حامل البطاقۃ عدم التعامل بھا فیماحرمۃ الشریعۃ ،وأنہ یحق للمؤسسۃ سحب البطاقۃ فی تلک الحالۃ ۔

۳/۳۔ولایجوز للمؤسسات اصدار بطاقات الائتمان ذات الدین المتجدد الذی یسددہ حامل البطاقۃ علی أقساط آجلۃ بفوائد ربویۃ .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

10/7/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب