| 85930 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کرپٹوکی فیوچر ٹریڈنگ میں ایک آپشن لیوریج کا ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس مثال کے طور پر صرف 100 روپے ہوں تو ایکسچینج (Exchange) جہاں پر ٹریڈنگ کی جاتی ہے تو وہ آپکو مزید 900 روپے (Leverage) دےدیتے ہیں،آپ اب کل 1000 روپے سے ٹریڈکھولتے ہیں اورنفع ونقصان 1000 روپے کی بقدر ہوتا ہے،اس میں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر آپ کی ٹریڈ لاس میں گئی تو آپ کا نقصان صرف 100 روپے کا ہی ہو گا آپ کو مزید 900 روپے نہیں دینے ہوں گے،جو ایکسچینج نے آپ کو دیے تھے اور اس کےعلاوہ آپ کوکوئی اضافی رقم یا سود ہر گز نہیں دینا ہوتا۔کیا کرپٹو کی ٹریڈنگ میں لیوریج لینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لیوریج کا مفہوم جدید معاشی نظام میں یہ ہے کہ ایک شخص جو مخصوص کسی بازار(کرپٹو ایکسچینج،اسٹاک ایکسچینج، فاریکس وغیرہ)میں کاروبار کرتا ہے تو بسااوقات خریداری کے لیے اس کے پاس مکمل پیسہ نہیں ہوتاتو اسے اس مخصوص بازار کے بروکر سے سود پرادھار مل جاتا ہے(اور یہ سود، ٹرانزیکشن فیس یاکمیشن کے علاوہ ہوتا ہے)،یہ اضافی رقم سے کاروبار کرنے کی سہولت (مالیاتی فائدہ اٹھانا)لیوریج (Leverage)کہلاتی ہے۔
لیوریج کی بنیاد پر کی گئی سرمایہ کاری میں مارجن(Margin)،مارجن کال(Margin call)اور لیکویڈٹی (Liquidity) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے،ان کی وضاحت کے بعد حکم ملاحظہ ہو۔
مارجن(Margin)
مارجن(Margin)وہ رقم ہوتی ہے، جو سرمایہ کار اپنے بروکر سے قرض کے طور پر لیتا ہے تاکہ اضافی سرمایہ کاری کرسکے۔ کبھی مارجن کااطلاق اس فرق پر کیا جاتا ہے، جو کسی سرمایہ کاری کی کل قیمت اور اس پر لیے گئے قرض کے درمیان ہوتا ہے،اسی طرح مارجن ٹریڈنگ میں بطور ضمانت (Collateral)رکھوائی جانے والی رقم یا سیکورٹیزپر بھی مارجن کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
مارجن ٹریڈنگ(Margin Trading)
وہ طریقہ کاروبارہے ،جس میں ایک سرمایہ کار قرض (مارجن) کا استعمال کرتا ہے تاکہ وہ کسی مالی اثاثہ (جیسے اسٹاک، بانڈز،کرنسی،کموڈٹی یا دیگر مالیاتی دستاویزات وغیرہ) کو خرید سکے۔یہ قرض حاصل کرنے اور اسے ادا کرنے کے لیے، سرمایہ کار اپنے پاس موجود رقم وغیرہ، بطور ضمانت (Collateral)فراہم کرتا ہے۔
مارجن اکاؤنٹ(Margin Account)
ایک ایسا بروکریج اکاؤنٹ ہوتا ہے، جس میں سرمایہ کار کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں موجود کیش یا سیکیورٹیز(securities) کو قرض کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کرے، اس میں بروکر کو قرض دینے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ سرمایہ کار مزید اثاثے خرید سکے۔
مارجن کال(Margin Call) اور لیکویڈیشن(Liquidation)
مارجن کے ذریعے لیوریج حاصل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قرض لی گئی رقم کی ممکنہ واپسی کا اہتمام زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔تاہم یہ فائدہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب سرمایہ کار کو نفع ہو،اگر نقصان ہو تو ایسی صورت میں قرض لی گئی رقم کی واپسی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔چونکہ قرض مارجن پر لیا جاتا ہے، لہٰذا متعین مارجن کم ہونے کی صورت میں متعین مارجن کی حد تک مارجن کا مطالبہ بروکر کی طرف سے کیا جاتا ہے ،جسے مارجن کال(Margin Call) کہتے ہیں۔
اگر مارجن کال(Margin Call) کے باوجود متعین مارجن کی حد،سرمایہ کار پوری نہ کرے تو بروکر پہلے سے موجود مارجن جو کہ بطور ضمانت(collateral)رکھا ہوتا ہے اس کے ذریعے اپنا قرض وصول کرلیتا ہے،اس عمل کولیکویڈیٹ کرنا (Liquidate)کہتے ہیں۔
خلاصہ:مارجن ٹریڈنگ میں آپ بروکر سے قرض لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور یہ قرض آپ کے اکاؤنٹ میں موجود اثاثوں کو ضمانت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی سرمایہ کاری منافع دے تو آپ کے فائدے میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن نقصان کی صورت میں لیے گئے قرض کو برقرار رکھنے کے لیے، اضافی رقم فراہم کرنی پڑسکتی ہے، ورنہ بروکر آپ کی سیکیورٹیز کو بیچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہے۔
شرعی حکم
مارجن کے طریقےسےاشیاءکی خرید وفروخت کرنا ،درج ذیل خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔
(1) انویسٹر ،بروکر/ایکسچینج سے سودی قرض کا معاملہ کرتا ہے ،اور سودی قرض کا عقد کرناناجائز ہے۔
(2) بروکر اس شرط پر یہ قرض دیتا ہے کہ اشیاء کی خرید و فروخت اسی کے ذریعے کی جائے گی ، چنانچہ ہر بار ٹریڈنگ کے نتیجے میں وہ اپنا کمیشن بھی رکھے گا، یعنی طے شدہ سود کے علاوہ عموماً وہ یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ اشیاء کی ٹریڈنگ اسی کے ذریعے کی جائے گی،جوکہ قرض پر مشروط منفعت کے تحت داخل ہے۔
(3) بسا اوقات مارجن لیتے ہوئے بروکر کے ساتھ قرض کا معاملہ محض صورتاً (دکھلاوے کے طور پر) ہوتا ہے اس لئے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہےکہ بروکرکے پاس خودوہ رقم موجود نہیں ہوتی، جس کی بنیاد پر انویسٹر اشیاء کی خرید و فروخت کرتا ہے،یعنی محض قیمت کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پردن کے اختتام پر سیٹلمنٹ (Settlement) ہو جا تی ہے۔لہٰذامارجن لے کر ٹریڈنگ کرنے سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي :(12/ 109)
فأما الربا في اللغة: هو الزيادة. يقال: أربى فلان على فلان، أي زاد عليه. ويسمى المكان المرتفع ربوة لزيادة فيه على سائر الأمكنة. وفي الشريعة: الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا.
[المعیار الشرعی رقم(۲۱)،الأوراق المالیۃ (الأسہم والسندات)]
۳/۵۔لا یجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ(بیع الھامش Margin)کما لایجوز رھن السہم لذٰلک القرض.وینظر المعیار الشرعی رقم(۱۲) بشان الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ البند۴/۱/۲/۶.
[المعیار الشرعی رقم(۱۲)،الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ]
لایجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ لقاء رھن السہم.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


