| 85937 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
عقود میں قبضہ سے شرعاً کیا مراد ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قبضہ کی تفصیل مختلف فقہی کتب سے اخذ کرکے مفتی حسین خلیل خیل صاحب دامت برکاتہم اپنی کتاب آسان فقہ المعاملات میں لکھتے ہیں کہ:
"اس پر تقریبا تمام فقہائے کرام متفق ہیں کہ کسی چیز پر جب تک خریدار کا قبضہ نہ ہو اس کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں،بعض فقہاء کے نزدیک ایسا معاملہ باطل (Void) ہوتا ہے جبکہ فقہائےاحناف کے نزدیک ( راجح قول کے مطابق )ایسا معاملہ باطل تو نہیں،البتہ فاسد (Invalid) ضرور بن جاتا ہے (شامیہ: 4/182،رشیدیہ) اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ باطل معاملہ سے بچنا لازم ہوتا ہے تو فاسد معاملہ سے اجتناب بھی لازم ہے۔
البتہ فقہائے احناف کے نزدیک زمین کی فروخت قبضہ حاصل کرنے سے پہلے بھی جائز ہے،کیونکہ قبضہ سے پہلے بیع کی ممانعت کی اصل وجہ غرر ہے،غرر کا مطلب کسی چیز کا حصول مشکوک ہونا،جبکہ زمین کا وجود اور اس وجود کا باقی رہنا تقریباً یقینی ہوتا ہے،اس بناء پراگر کسی نے زمین خرید لی اور قبضہ حاصل کرنے سے پہلے آگے فروخت کر دی تو اس میں حرج نہیں ہوگا،البتہ زمین کے علاوہ باقی چیزیں قبضہ حاصل کئے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں۔ اب یہاں یہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبضہ کیا چیز ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی صورتیں کیا ہیں؟ ذیل میں اس حوالے سے کچھ تفصیل پیش کی جاتی ہے:
قبضہ کی حقیقت(Quiddity of Possession)
قبضہ کی حقیقت کیا ہے؟اس پر فقہ کی کتابوں میں بہت تفصیل سے بحث کی گئی ہے، لیکن ان سب تفصیلی ابحاث کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں مبیع ( subject matter) کے قبضے کی کوئی ایسی خاص صورت بیان نہیں ہوئی جو کہ ہر صورت پر منطبق ہو سکے،بلکہ بعض احادیث میں کسی چیز کو مقام خریداری سے منتقل کرنے کو قبضہ کہا گیا ہے،جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت(صحیح مسلم،رقم:1527) میں ہے،بعض روایات میں خریدار کا خریدی ہوئی چیز کے ناپ تول کرنے کو قبضہ قراردیا گیا ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت(صحیح مسلم،رقم:1528) میں ہے،جبکہ بعض روایات(ابوداؤد،رقم:3499) میں اپنے کجاوہ (یا جائے رہائش ) میں مال منتقل کرنے کو قبضہ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ اس بناء فقہاء کرام کا اتنی بات پر تو اتفاق ہے کہ قبضہ کے لیے کوئی مخصوص لگی بندھی صورت طے نہیں کی جاسکتی،اب اس تناظر میں کس چیز کو قبضہ کی حقیقت قرار دیا جائے ؟ اس بارے میں دوچیزوں کوملحوظ رکھنا ضروری ہوگا: ایک یہ کہ ہر چیز کے قبضےمیں اتنی بات تو ضروری ہے کہ وہ چیز خریدار کے لیے اس طرح میسر ہو جائے کہ جب وہ عملاً اس کو ( اپنی چاہت اور منشا کے مطابق) کسی جگہ منتقل کرنا چاہے تو اس کےسامنے اس طرح کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، نہ کوئی حسی رکاوٹ (physical Barrier) ہو ( مثلا ایک گودام میں سے چند بوریاں فروخت کر دی اور وہ بوریاں گودام کے آخری حصے میں ہوں اور وہاں سے ابھی عملا اور بالفعل لینا ممکن نہ ہو ) اور نہ کوئی قانونی رکاوٹ (Legal Barrier) ہو۔ دوسری چیز جو قبضہ کے حوالے سے ملحوظ رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اس چیز کا ضمان (Risk) خریدار کی طرف منتقل ہو جائے۔
جب یہ مذکورہ بالا دونوں امور پائے جائیں گے تو اس کو قبضہ کہا جائے گا،اسی چیز کو فقہ کی اصطلاح میں قبض حکمی (Constructive Possession) یا تخلیہ (Relinquishment) کہا جاتا ہے،اب کسی چیز کے حوالے سے تخلیہ کی جو کیفیت ہوتی ہے،اس میں عرف کا بھی اعتبار ہوتا ہے یعنی عرف میں جس وقت جس چیز کے بارے میں سمجھا جائے کہ س کا تخلیہ (خریدار کے لئے واگذار ہونا) ہوگیا تواس وقت سے وہ چیز خریدار کے قبضے میں آئی ہوئی شمار ہوگی،مثلاً مکان کا تخلیہ یہ ہے کہ اس کی چابیاں حوالے کر کے خریدار کو کہا جائے کہ اس کے بعد یہ مکان آپ کا ہو گیا، آپ جو چاہیں اس میں تصرف کر سکتے ہیں، اسی طرح کسی زمین کے بارے میں تخلیہ یوں ہو گا کہ مناسب فاصلے سے اس کی حدودار بعہ واضح کرلی جائیں اور خریدار کو کہا جائے کہ اب یہ آپ کی زمین ہے،آپ اس میں جو تصرف کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ کسی کتاب یا چھوٹی موٹی چیز کے بارے میں تخلیہ یوں ہوگا کہ اس کو اٹھا کر خریدار کے اتنے قریب رکھ دیا جائے کہ اگر وہ اٹھانا چاہے تو اٹھا سکے۔
مذکورہ بالا تفصیل کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب چیز موجود ہواوراس کو عملاً قبضہ میں لینا ممکن ہو،اس میں کوئی حسی،شرعی،قانونی رکاوٹ نہ ہو اور عرف میں اس کا ضمان (Risk ) بھی خریدار کی طرف منتقل سمجھا جائے تو ایسی کیفیت حاصل ہونے کو قبضہ کہا جائے گا،پھراس کے بعد اگر خریدار اس چیز میں تصرف کرےیاہاتھ میں اٹھاکرایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرے تو اسے حقیقی قبضہ (Actual Possession) کہا جاتا ہےاوراگرمحض اس طرح قبضہ کرنے کا عرفی اختیار حاصل ہو تو اسے حکمی قبضہ (Constructive Possession) کہا جاتا ہے،جو شرعی لحاظ سے قبضہ کا کم سے کم درجہ ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اگر عر فا کسی خریدی ہوئی چیز کا ضمان (Risk) تو خریدار کی طرف منتقل سمجھا جائے لیکن وہ چیز اس پوزیشن میں نہ ہو کہ اگر خریدار اس کو عملا منتقل کرنا چاہے یا اس میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو کر سکے تو محض اس ضمان کی منتقلی کو قبضہ نہیں کہا جائے گا،کیونکہ سابق الذکر دو شرطوں میں سے ایک شرط نہیں پائی گئی ،لہذا محض عرف کا اعتبار کرنے کی وجہ سے اسے قبضہ نہیں کہا جاسکتا۔
قبض کی مذکورہ بالا حقیقت کو درج ذیل مثالوں سے واضح کیا جا سکتا ہے:
اگر ایک شخص نے کسی ملکی یا غیرملکی کمپنی سے کوئی چیز خرید لی اور اس کی دستاویزات بھی خریدار کے نام تیار کی گئی لیکن وہ چیز اس پوزیشن میں نہیں کہ خریدار یا اس کا وکیل اگر اس کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکے،ایسی صورت میں خریدار کا قبضہ حاصل شدہ نہیں مانا جائے گا،اگرچہ عرفاً ضمان خریدار کی طرف منتقل سمجھا جائے ۔ اسی طرح باہر ملک سے کوئی چیز منگوائی اور جس ذریعے سےوہ چیز بھیجی جارہی ہو اس کا انتظام خریدار یا اس کے وکیل کی طرف سے نہ ہو ( بلکہ بیچنے والے یا کسی تیسرے فریق کی طرف سے ہو جس کے ساتھ مال پہنچانے کا معاہدہ خریدار کی بجائے بیچنے والے نے کیا ہو ) تو ایسی صورت میں جب تک یہ مال خریدار یا اس کے وکیل کی تحویل میں نہ آئے اس پر خریدار کا قبضہ نہیں مانا جاسکتا ، لہذا اسی حالت میں خریدار کیلیے آگے فروخت کرنا بھی جائز نہ ہوگا۔ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی نے(شامیہ:4/84،رشیدیہ) ایک مسئلہ ذکرفرمایا ہے کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے گائے خرید لی اور پھر بائع کے گھر میں یہ کہہ کر اسے چھوڑ رکھا کہ اگر اس گائے کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری میری ہے تو یہ کہنے کے باوجود خریدار کا قبضہ نہیں ہوگا اور اگر اس گائے کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ بائع کا شمار ہوگا۔ اس مسئلہ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ محض فریقین کے سمجھنے اور رسک منتقل سمجھے جانے سے قبضہ وجود میں نہیں آتا۔
شئیرز(Shares) کی خرید وفروخت میں معاملہ ہوتے ہی ضمان (Risk) خریدار کی طرف منتقل سمجھا جاتا ہے اور اس کو قبضہ سمجھا جاتا ہے،اگر چہ وہ شیئرز اس وقت عملاً قبضہ کے لیے موجود ہی نہ ہوں تو ایسی صورت میں بھی شرعاً قبضہ متصور نہیں ہوگا،بلکہ قبضہ اس وقت ہوگا جب رسک کی منتقلی کے ساتھ ڈیلیوری بھی خریدار کے نام ہو جائے،یعنی (سی ڈی سی ) میں یہ شیئرزخریدار کے کھاتے میں درج ہو جائیں"۔
(آسان فقہ المعاملات از مفتی محمد حسین خلیل خیل،ج:1،ص:77)
حوالہ جات
(مزید تفصیل کے لیےدیکھیے:فقہ البیوع،ج:1،ص:392،بحث:171،الشرط السابع أن یکون مقبوضا للبائع)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


