03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹا، دو بیٹیوں، اور شوہرمیں میراث کی تقسیم
85920میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں، اور شوہر شامل ہیں۔ شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت کبھی ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی خراب۔ والدہ مرحومہ نے پلاٹ، زیور، اور کچھ نقد رقم کی شکل میں ترکہ چھوڑا ہے۔پوچھنا یہ تھا کہ

 والدہ مرحومہ کےمذکورہ  ترکہ میں کس وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کے کفن  دفن کے متوسط  اخراجات ،قرض  اوروصیت کی علی الترتیب  ادائیگی کے بعداگرمرحومہ کے صرف یہی ورثہ ہوں جو سوال میں درج ہیں تو مرحومہ کی کل منقولہ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے شوہر کو%25،بیٹے کو%37.5اورہربیٹی کو% 18.75دیاجائےگا۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."  (ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ [النساء/11]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

16/6/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب