03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوطلاقوں اورشوہر کے انکارکاحکم
74574طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

میرے شوہر نے 9 یا 10سال پہلے(صحیح طرح سال مجھے یاد نہیں ہے) ایک غلط بات سےروکنے پر مجھے ایک طلاق دی تھی،ابھی کچھ مہینے پہلے وہ اپنی بیوہ بھابھی کے گھر بہت زیادہ آنےجانے لگے  تو میں اور بچے انہیں سمجھا رہے تھے، کیونکہ لوگوں کی طرف سے باتیں بنائی جا رہی تھیں، اس پر انہوں نے مجھے کہا کہ"اگر میں ان کی اس بھابھی کے گھر گئی یا ان کے ایک بھائی کا نام لیا کہ ان کے گھر گئی تو میں اپنے شوہر پرحرام ہوں"اور پھر انہوں نے مجھے کہا کہ اس طرح کہنے سے میں ان پر حرام نہیں ہوئی، 3 طلاق ہونی چاہیےتب حرمت ہوتی ہے اور اہلِ حدیث تو ایک ساتھ 3 طلاقوں کوبھی  ایک مانتے ہیں، پھر ہم ان رشتہ داروں کے یہاں گئے تھےجن کےہاں جانے انہوں نےسے منع کیاتھا،میں نے اپنے شوہر کی طرف سے کفارہ ادا کردیا، انہوں نے نہیں کیا۔ اس واقعے کے بعد بھی وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر بولتے ہیں آج سے ہمارا سب ختم یا اس سے ملتی جلتی باتیں کرتے ہیں، اس وجہ سے میں اپنے شوہر کے پاس جانے سے کتراتی ہوں،ابھی 4 دن پہلے انہوں نے کہا ختم تو یہ ایک دن ہونا تھا،اب آج سے سب ختم۔ طلاق کی دھمکی وہ ہمیشہ دیتے آئے ہیں براہِ مہربانی مجھے بتائیں کہ

 میرا نکاح ہے یا نہیں؟ اور اگر میرے شوہر نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ انہوں نے مجھے طلاق  دی توپھرکیاحکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں پہلی طلاق نو دس سال پہلےہوگئی تھی اوراس کے بعدمیاں بیوی کی طرح رہنے سے ر جوع  ہوگیا تھا پھر دوسری طلاق حرام  کےلفظ سے ہوئی اورچونکہ یہ بائن طلاق ہے اوربائن کے بعد دوسری بائن (جبکہ درمیان میں نیانکاح نہ ہوا ہو) نہیں ہوتی لہذا تیسرے لفظ "سب کچھ ختم" سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ،لہذا مذکورہ بالاصورت میں صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں،اوررشتہ ختم ہوچکاہے، لہذا نیانکاح ہوسکتاہے ،نکاح کے بغیر میاں بیوی کی طرح رہناجائزنہیں  ہے۔

اہل حدیث حضرات کاتین طلاق کو ایک کہنا  قرآن و حدیث کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ کے متفقہ فتوی کے خلاف ہے ؛ اس لیےان کا یہ فتوی معتبر نہیں ہے۔

اگرطلاق کے مذکورہ الفاظ آپ نےاپنے کانوں سےسنے ہوں اورپھر بھی شوہر تسلیم نہ کرے اورآپ کے پاس اس پرگواہ نہ ہوں تو آپ کےلیے ان کواپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں ہے،اولاً تو آپ ان کوجدیدنکاح پرآمادہ کریں،کیونکہ طلاق دوہیں،نیا نکاح ہوسکتاہے،ورنہ کسی طرح بالعوض یا بلاعوض خلع پر رضامند کرلیں اوراگرایسابھی وہ نہ کرےتو پھر عدالت سے جان چھڑانے کی خاطرخلع کی ڈگری لے کران سے جان چھڑائیں(ویسے تو شرعی ریزن کے بغیرعدالتی خلع معتبرنہیں،مگریہاں صرف جان چھڑانے کی خاطر اس سے استفادہ کیاجاسکتاہے)۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 3):

(الطلاق على ضربين: صريح، وكناية. فالصريح قوله: أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي) لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا.

انت علي حرام، والفتوی أنہ یقع بہ البائن، وإن لم ینوِ لغلبۃ الاستعمال۔ (تاتارخانیۃ، ۴/۴۴۸، رقم:۶۶۳۷)

لو قال لہا: أنت علي حرام، والحرام عندہ طلاق وقع وإن لم ینو۔ (البحر الرائق، زکریا۳/۵۲۳، کوئٹہ۳/۳۰۰)

أفتی المتأخرون في ’’أنت علي حرام‘‘ بأنہ طلاق بائن للعرف بلا نیۃ۔ (شامي، کراچي ۳/۲۵۳، زکریا۴/۴۶۶)

قال العلامۃ الحصکفی:

الصریح یلحق الصریح ویلحق البائن والبائن یلحق الصریح… لا یلحق البائن البائن اذا امکن جعلہ اخبارا۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۵۰۸،۵۱۰ مطلب الصریح یلحق الصریح والبائن)

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)

أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.

رد المحتار - (ج 10 / ص 448)

وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال} 

وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

وفی المبسوط للسرخسی:

"والقاضي مأمور باتباع الظاهر .....ولا يسع المرأة إذا سمعت ذلك أن تقيم معه لأنها مأمورة باتباع الظاهر ‌كالقاضي"(كتاب الطلاق، باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق،ل؛6،ص:80،ط:دارالمعرفة بيروت لبنان )

البحر الرئق :

"والمرأة ‌كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه"(كتاب الطلاق ،باب الفاظ الطلاق،ج:3،ص:277،ط:دارالكتاب الاسلامي)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 251):

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب