| 87968 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
سائل بیرون ملک مقیم ہے جبکہ سائل کی بیوی پاکستان میں سائل کے والدین کے ساتھ رہ رہی تھی ، سائل کی بیوی اپنے والدین کے گھر یعنی میکے میں رہنے کے لئے گئی اور واپس نہیں آ رہی تھی تو سائل اور بیوی کے درمیان گھر واپس جانے کے حوالے سے تلخی ہوئی ، سائل نے بیوی کو ڈرانے کی نیت سے اور بات منوانے کی نیت سے کچھ جملے بولے، جن میں سائل کی طرف سے طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی سائل کے علم میں یہ بات تھی کہ اس طرح کے جملوں سے طلاق واقع ہو سکتی ہے ۔ ذیل میں جملے اور ان کی وضاحت لکھی جارہی ہے:
1۔"تجھے طلاق دیتا ہوں، میری کال اٹھا اور طلاق لے۔"
وضاحت : یہ جملہ سائل نے میسج کیا تھا ،اس وقت سائل اور بیوی کی بات ہو رہی تھی تو بیوی کو ڈرانے کے لئے بولا تھا کہ اگر طلاق چاہیے تو کال اٹھاؤ اور طلاق لے لو، لیکن بیوی نے کال نہیں اٹھائی ، سائل کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ بیوی کو طلاق دے دی ہے بلکہ یہ ارادہ تھا کہ اگر بیوی نے کال اٹھائی اور بولا کہ مجھے طلاق دو، تو تب طلاق دوں گا، مگر بیوی نے کال نہیں اٹھائی اور طلاق دینے کی نوبت نہیں آئی۔
2۔"تم میری طرف سے آزاد ہو۔"
وضاحت : یہ جملہ سائل نے میسج کیا تھا ، اس وقت گھر واپس جانے کے سلسلے میں لڑائی چل رہی تھی، سائل کی بیوی اس بات پر بضد تھی کہ جرگہ بلایا جائے اور سائل اس بات پر اصرار کر رہاتھا کہ جرگہ بلانے سے خواہ مخواہ بد نامی ہو گی ، جب سائل کی بیوی نہ مانی ،تو سائل نے اس نیت سے یہ جملہ میسج کیا کہ تم میری بات نہیں مانتی ہو اور اپنی من مانی کرتی ہو تو میں تمھیں کچھ نہیں کہتا، تم( اپنی مرضی کرنے میں) آزاد ہو، سائل کے وہم و گمان میں بھی اس جملہ سے طلاق دینا مقصود نہیں تھا، کیونکہ یہ جملہ ہمارے معاشرے میں کبھی بھی طلاق دینے کے لئے استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہی معاشرے میں کسی کو علم ہے کہ اس جملہ سے طلاق بھی واقع ہو سکتی ہے ، بلکہ گھر یلو لڑائیوں میں اکثر یہ جملہ بولا جاتا ہے،مقصد یہ ہوتا ہے کہ تم بات نہیں مانتے اور اپنی من مانی کرتے ہو تو میں تمھیں اب کوئی بات نہیں بولوں گا ۔ ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔
3۔"مجھے میری ماں کی قسم تیرا میرا قصہ ختم۔"
وضاحت : یہ جملہ سائل نے میسج کیا تھا ، اس جملہ سے طلاق دینے کا قطعی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی سائل کے علم میں یہ بات تھی کہ اس جملے سے طلاق واقع ہو سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں کسی کو پتہ ہے کہ اس جملہ سے بھی طلاق واقع ہو سکتی ہے،اس جملہ سے سائل کی مراد یہ تھی کہ میں تمھیں اب خرچہ نہیں دوں گا ،کال نہیں کروں گا اور واٹس ایپ پر تمہارا نمبر بلاک کردوں گا۔
4۔"جا طلاق ہے میری طرف سے۔"
وضاحت : یہ جملہ سائل نے میسج کیا تھا ، سائل کے علم میں یہ بات تھی کہ صرف طلاق کے لفظ سے طلاق واقع ہوتی ہے، سائل نے یہ جملہ بول کر ایک دفعہ طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔
5۔"تم گھر چلی جاؤ، جب تک تم گھر نہیں جاتی کوئی خرچہ نہیں ملے گا ،ہمارے راستے جدا ہوں گے ۔"
وضاحت : یہ جملہ سائل نے ویڈیو کال پر بولا تھا ، یہ جملہ سائل نے اس طور پر بولا تھا کہ اپنے گھر چلی جاؤ ،تمہیں سب کچھ ملے گا اور میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا اور تمھیں جو چاہیے ، میں تمھیں دینے کو تیار ہوں اور اگر تم اپنے گھر نہیں جاتی، اپنی ماں کے ساتھ مل کر ضد پر کھڑی ہو کہ میں نے اپنے گھر نہیں جانا ،تو جب تک تم اپنے گھر نہیں جاتی ،ہمارے راستے اس طور پر جدا ہیں کہ تمھیں خرچہ کبھی نہیں دوں گا اور تم سے رابطہ بھی نہیں کروں گا اور جس دن تم عزت سے گھر چلی گئی ، تم سے بات بھی کروں گا اور خرچہ بھی دوں گا ، اس جملے سے سائل کا مقصد یا نیت کسی طور پر بھی طلاق دینا نہیں تھا ، مقصد یہ تھا کہ بیوی پر دباؤ ڈالوں کہ وہ کسی طرح گھر واپس چلی جائے ۔
6۔"تمھیں اب گھر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ،ہمارے راستے جدا ہیں، ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔"
وضاحت : اس جملے سے متعلق بیوی کا دعوی ہے کہ سائل نے زبانی باتوں کے دوران یہ جملہ بیوی کو بولا تھا جبکہ سائل کو اس طرح کے کسی جملے کی بالکل یاد نہیں ہے کہ سائل نے ایسا کوئی جملہ بولا ہو، یہ محض بیوی کا دعوی ہے اور اگر بالفرض والمحال سائل نے یہ جملہ بولا بھی ہو، تو اس جملہ سے بھی کسی بھی طرح سائل کا مقصد یا نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ بیوی کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی نیت تھی کہ وہ کسی طرح اپنے گھر جائے اور جب تک گھر واپس نہیں جاتی، تب تک شوہر اس سے بات نہیں کرے گا اور خرچہ نہیں دے گا اور رابطہ منقطع رکھے گا ۔
سائل کی طرف سے درج بالا جملے جس نیت اور مقصد کے ساتھ کہے گئے وہ لکھ دیئے گئے ہیں ، سائل اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفا یہ بات کہتا ہے کہ درج بالا وضاحت کے علاوہ سائل کی نیت اور مقصد کسی طور پر بھی طلاق دینا نہیں تھا ۔ سائل نے جو جملے کہے وہ ہمارے معاشرے میں لڑائی میں عام بولے جاتے ہیں اور کبھی بھی ان جملوں سے طلاق دینا مقصد ونیت نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی کسی نے بتایا یا کسی سے سنا کہ طلاق دینے کے لئے ایسے بھی کوئی جملے یا الفاظ ہو سکتے ہیں ۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کےمطابق درج بالا الفاظ کی وجہ سے سائل اور سائل کی بیوی کے لیے اب کیا حکم ہے؟
تنقیح: سائل نے یہ تمام الفاظ ایک یا دو دن کے فرق سے استعمال کیے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کے لئے دو طرح کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ، اول کو "صریح "اور دوسری قسم کے الفاظ کو "کنایہ" کہا جاتا ہے ، صریح الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا،جبکہ کنائی الفاظ کی صورت میں مختلف حالتوں میں بولے گئے الفاظ کے احکام بھی مختلف ہوتے ہیں، سائل نے چونکہ مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ، جن کے احکام مختلف ہیں ، لہذا ہر قسم کے الفاظ کاحکم ذیل میں الگ الگ بیان کیا جاتا ہے :
1۔"تجھے طلاق دیتا ہوں، میری کال اٹھا اور طلاق لے۔"
"تجھے طلاق دیتا ہوں " یہ طلاق کے صریح الفاظ ہیں ،جن میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا ،تاہم پورے جملے("تجھے طلاق دیتا ہوں، میری کال اٹھا اور طلاق لے") میں اس بات کااحتمال موجود ہے کہ سائل کی مراد مستقبل میں طلاق دینا تھا،سائل کے بقول بھی اس کی مراد یہی تھی کہ اگر بیوی نے کال اٹھائی تو طلاق دوں گا ، بیوی نے کال نہیں اٹھائی اور طلاق دینے کی نوبت نہیں آئی، لہذا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔(۱)
2۔"تم میری طرف سے آزاد ہو۔"
"تم ميری طرف سے آزاد ہو"ان الفاظ کے بارے میں واضح رہے کہ غصے یا جھگڑے کے دوران ایسے الفاظ سے بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا سائل کا یہ کہنا کہ" میری مراد یہ تھی کہ تم میری بات نہیں مانتی ،اس وجہ سے تم اپنی من مانی کرنے میں آزاد ہو"شرعاً اس کا اعتبارنہیں ،لہذا ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی۔
3۔"مجھے میری ماں کی قسم! تیرا میرا قصہ ختم۔"(۲)
ان کنائی الفاظ سے سائل کے بقول سائل کی مراد محض یہ تھی کہ سائل اپنی بیوی کو کال نہیں کرے گا اور واٹس ایپ پر بات نہیں کرے گا وغیرہ ، طلاق کی نیت نہیں تھی ، لہذا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
4۔ " جا طلاق ہے میری طرف سے۔"
یہ طلاق کے صریح الفاظ ہیں ، جن سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔
5۔ "تم گھر چلی جاؤ، جب تک تم گھر نہیں جاتی کوئی خرچہ نہیں ملے گا ،ہمارے راستے جدا ہوں گے ۔" (۳)
سائل کے مطابق ان کنائی الفاظ سے بھی اس کی نیت بات چیت نہ کرنا اور نان نفقہ نہ دینا تھا، لہذا ان الفاظ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
6۔"تمھیں اب گھر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ،ہمارے راستے جدا ہیں، ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔"(۴)
سائل کے بقول ان الفاظ سے بھی اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی ، بلکہ بات چیت ختم کرنا مراد تھا ،لہذا ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
مذکورہ بالا تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سائل کے الفاظ "تم ميری طرف سے آزاد ہو" سے ایک طلاق بائن واقع ہوئی ،اور " جا طلاق ہے میری طرف سے" کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ،(جو پہلی بائنہ طلاق کے ساتھ لحوق کی وجہ سے بائنہ بن گئی)،یعنی مذکورہ بالا الفاظ سے سائل کی بیوی پر دو طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہیں۔
اب تجدیدِ نکاح سے قبل میاں بیوی کا تعلق قائم کرنا یاساتھ رہناجائز نہیں ہے،اور عدت ( اگر حمل نہ ہو،تو پہلی طلاق کے وقت سے مکمل تین حیض تک اور اگر حمل ہو تو بچے کی ولادت تک) گزرنے کے بعد بیوی اپنی مرضی کے مطابق دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، البتہ اگر عدت کے بعد یا دورانِ عدت دونوں پھر سے ساتھ رہنا چاہیں توباہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدیدِنکاح کرنا ضروری ہوگا،ایسی صورت میں آئندہ کے لیے شوہرکوصرف ایک طلاق کاحق حاصل ہوگا اور اگرآئندہ کبھی شوہر نےبقیہ ایک طلاق بھی دے دی، تو بیوی شوہرپرحرام ہوجائے گی ، اور تجدیدِ نکاح کی گنجائش بھی نہیں رہے گی۔
حوالہ جات
(۱) رد المحتار ط الحلبي (3/ 248):
قوله (وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا، واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. قلت: ومنه في عرف زماننا: تكوني طالقا، ومنه: خذي طلاقك، فقالت أخذت، فقد صرح الوقوع به بلا اشتراط نية كما في الفتح۔
رد المحتار ط الحلبي (3/ 296):
باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب...
(قوله ويقع الطلاق إلخ) يعني إذا قال لامرأته: أعتقتك تطلق إذا نوى أو دل عليه الحال.
(۲) الفتاوى الهندية (1/ 376):
ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع ،وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع ،كذا في العتابية.
(۴)(۳)البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 328):
ولو قال: أربعة طرق عليك مفتوحة لا يقع، وإن نوى ما لم يقل خذي إلى أي طريق شئت۔۔۔وفي البزازية طلبت منه الطلاق فقال: لم يبق بيني وبينك عمل لم تطلق إلا أن ينوي به النكاح وينوي به إيقاع الطلاق فحينئذ يقع۔
رد المحتار ط الحلبي (3/ 306):
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح.
(قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال، ثم قال أنت طالق أو هذه طالق ،بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


