| 85112 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
پانچ بھائی ایک گھر میں مشترکہ طور پر رہتے ہیں اور ان کے اخراجات بھی مشترکہ ہیں۔ ان کے درمیان ایک دکان بھی مشترک ہے۔ تیسرا بھائی اس مشترکہ دکان کی کمائی سے گھر چلا رہا تھا۔ پہلے نمبر کے بھائی نے تیسرے نمبر کے بھائی کو 25 ہزار روپے دیے۔ اس بھائی نے وہ رقم مشترکہ دکان میں لگائی۔ اب پہلا بھائی کہہ رہا ہے کہ میں نے یہ 25 ہزار روپے ایک تولہ سونے کے بدلے میں دیے تھے، لہٰذا وہ ایک تولہ سونا مانگ رہا ہے۔
جبکہ تیسرے نمبر کا بھائی کہہ رہا ہے کہ آپ نے یہ رقم مشترکہ اخراجات کے لیے دی تھی۔ اور اسی مشترکہ گھر میں تیسرے بھائی نےبھی اپنا دو تولہ سونا بیچ کر لگایا تھا اور دوسرے نمبر کے بھائی نے بھی آدھا تولہ سونا بیچ کر شریک گھر میں لگایا تھا۔ یہ دونوں بھائی اپنے سونے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں جبکہ پہلا بھائی اپنے پیسوں کا ایک تولہ سونے کی شکل میں یا اس کی موجودہ قیمت کے حساب سے مطالبہ کر رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مشترکہ گھر اور دکان کے اخراجات کے لیے اس طرح پیسے دینا روٹین کا معاملہ تھا۔ باقی بھائیوں نے اپنا سونا بیچ کر اخراجات میں لگایا اور وہ مطالبہ نہیں کر رہے، جبکہ صرف پہلا بھائی مطالبہ کر رہا ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے سونے کی شکل میں یا اس کی موجودہ قیمت کے مطابق پیسے واپس دیے جائیں۔
تیسرے نمبر کا بھائی، جس نے رقم لی تھی، پیسے لینے کا تو معترف ہے مگر اسے اجتماعی اخراجات کا حصہ سمجھتا ہے، نہ کہ بطور قرض یا سونے کے بدلے دیے جانے والا معاملہ مانتا ہے۔اورپہلے نمبر کے بھائی کے پاس اس حوالے سے کوئی گواہ بھی نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے:کیا پہلے نمبر کے بھائی کا پیسے واپس لینے کا دعویٰ صحیح ہے؟ اگر دعویٰ صحیح ہے تو کیا وہ سونے کی شکل میں یا موجودہ قیمت کے مطابق رقم لینے کا حق دار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دوسرے بھائیوں کا اپنا سونا بیچ کر مشترکہ اخراجات میں لگانا اور مطالبہ نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک معمول
کی بات تھی کہ اخراجات میں حصہ ڈالا جائے۔ لہٰذا پہلے بھائی کا سونے کا دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا، بالخصوص جبکہ اس کے پاس اپنے دعوے پر کوئی گواہ بھی نہیں۔
لہٰذا اگر تیسرا بھائی مدعی بھائی کے اس دعوے کو تسلیم نہ کرے کہ یہ رقم بطور قرض دی گئی تھی اور واپسی سونے کے ساتھ طے ہوئی تھی، اور یہ کہے کہ یہ رقم مشترکہ اخراجات کے لیے دی گئی تھی، جیسے کہ بھائیوں میں معمول ہے، اور وہ اس پر قسم اٹھانے کے لیے بھی تیار ہو تو پھر تیسرے نمبر کے بھائی کی بات درست مانی جائے گی اور مدعی بھائی کو کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر تیسرا بھائی قسم کھانے سے انکار کر دے تو پھر مدعی بھائی کی بات معتبر ہوگی۔
حوالہ جات
وفی السنن الکبری للبیھقي:
عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواہم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیهقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)
"(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما {فتذكر إحداهما الأخرى} [البقرة: 282] ولا تقبل شهادة أربع بلا رجل".
"الدر المختار " (5/ 549):
(واليمين لا ترد على مدع) لحديث «البينة على المدعي» وحديث الشاهد واليمين ضعيف، بل رده ابن
معين، بل أنكره الراوي عيني.
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 15 / ص 34)
(المدعي من إذا ترك ترك والمدعى عليه بخلافه) أي المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة إذا تركها، ومعرفة الفرق بينهما من أهم ما يبتني عليه مسائل الدعوى. وقد اختلفت عبارات المشايخ فيه فمنها مافي الكتاب وهو حد عام صحيح.
وفی الاختيار لتعليل المختار - (ج 1 / ص 21)
المدعي من لا يجبر على الخصومة، والمدعي عليه من يجبر.
الطرق الحكمية (ص: 85)
الحجة ...تارة تكون لوثا ولطخا مع أيمان المدعين، كما في القسامة....قلت: وتارة تكون الحجة نكولا فقط من غير رد اليمين، وتارة تكون يمينا مردودة، مع نكول المدعى عليه، كما قضى الصحابة بهذا وهذا، وتارة تكون علامات يصفها المدعي، يعلم بها صدقه، كالعلامات التي يصفها من سقطت منه لقطة لواجدها.... من أهدر الأمارات والعلامات في الشرع بالكلية فقد عطل كثيرا من الأحكام، وضيع كثيرا من الحقوق.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


