| 85198 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
دو بھائی تھےجواکھٹے رہتے تھے،والد صاحب کی وفات کے بعد وہ دونوں الگ ہو گئے اور اپنے اپنے گھروں میں جا بسے، جدائی سے پہلے ان بھائیوں میں سے ایک انڈیا میں سود کی کمائی کر رہا تھا یعنی لوگوں کو منافع پر قرض دیتا تھا، مثلاً 50 ہزار ماہانہ پر دیا اور واپس 60 ہزار وصول کیا۔تو جب دونوں بھائی جدا ہوئے تو آپس میں اسی سود والی پراپرٹی کو تقسیم کر لیا۔ اس کے بعد ان میں سے ایک بھائی نے کسی ہمسایہ یا رشتہ دار کو انہی پیسوں سے دکان کھول کر دی، اس شرط پر کہ منافع میں دونوں شریک ہوں گے۔ تواب پوچھنایہ ہے کہ
اس شریک اور اس کی کمائی کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر دکاندار کا غالب گمان یہ ہو کہ دکان کھول کر دینے والے کی آمدنی زیادہ تر حرام کی ہے، تو اس صورت میں اس دکان میں بیٹھ کر کاروبار کرنا اور منافع کما کر تقسیم کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ لیکن اگر غالب گمان یہ ہو کہ دکان کھول کر دینے والے کی زیادہ تر آمدنی حلال کی ہے، تو گو کہ اس میں انڈیا والی سود کی حرام کمائی بھی شامل ہے، اس صورت میں اس کے لیے اس دکان میں بیٹھ کر کاروبار کرنا اور اس سے نفع لینا جائز ہوگا۔
جہاں رقم دینے والے شریک یعنی رب المال کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سودی کاروبار کرنا حرام ہے اور یہ قابلِ لعنت ہے، جو اللہ تعالیٰ سے جنگ کے مترادف ہے۔ تاہم، انڈیا میں جو آمدنی اسے حاصل ہوئی تھی، وہ ساری سود کے حکم میں نہیں تھی کیونکہ اس میں اصل مال بھی شامل تھا۔ نیز، وہ رقم دوسرے بھائی کی آمدنی کے ساتھ مخلوط بھی رہی اور پھر تقسیم ہو کر دونوں بھائیوں کے پاس آئی۔ لہٰذا دکان کھول کر دینے والے کی مذکورہ آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہے، اور حرام اس میں ممیز نہیں ہے۔ اس لیے غلبے کا اعتبار ہوگا: اگر غالب حرام ہے، تو یہ مال اور اس کا نفع حرام متصور ہوگا، اور اس سے خود فائدہ اٹھانا اور کاروبار میں لگانا جائز نہیں ہوگا؛ اور اگر غالب حلال ہے، تو پھر اس سے فائدہ اٹھانا اور اسے کاروبار میں لگانا، جیسے کہ کسی کے لیے مضاربت کے طور پر دکان کھول کر دینا اور نفع لینا جائز ہوگا۔
تاہم، اس صورت میں جتنا مال میں حرام ہونے کا غالب گمان ہے، اتنا بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا ہوگا، کیونکہ اس کے اصل مالکوں کو انڈیا میں تلاش کرنا اب مشکل ہوگا۔
حوالہ جات
قال الله تعالیٰ:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ }
مشكاة المصابيح :(۱۳۴/۲)
عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال : " هم سواء " . رواه مسلم،
الھندیة:
"اٰکل الربوا وکاسب الحرام … وغالب مالہ حرام لا یقبل ولا یأکل"(کتاب الکراھیة، الباب الثانی عشر فی الھدایا، 343/5، ط: زکریا)
الدر المختار (5/ 98)
وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها.
(رد المحتار) (5/ 99)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه.
احكام المال الحرام (ص: 49)
المال المغصوب وما فى حكمه مثل ما قبضه الإنسان رشوةً أوسرقةً أوبعقد باطل شرعاً: لايحلّ له الانتفاعُ به، ولابيعُه وهبتُه، ولايجوز لأحد يعلم ذلك أن يأخذه منه شراءً أو هبةً أو إرثاً. ويجب عليه أن يردّه إلى مالكه، فإن تعذّر ذلك وجب عليه أن يتصدّق به عنه.۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إن خلط الغاصبُ المال المغصوب أو الحرام بمال نفسه الحلال، فالصّحيحُ فى مذهب الحنفيّة أنّه يجوز له الانتفاعُ من المخلوط بقدر حصّته فيه، وكذلك يجوز للآخذ منه هبةً أو شراءً أو إرثاً أن ينتفع به بذلك القدر۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه
المبسوط للسرخسي (10/ 197)
(وحجتنا) في ذلك أن الحكم للغالب وإذا كان الغالب هو الحرام كان الكل حراما في وجوب الاجتناب عنها في حالة الاختيار، وهذا لأنه لو تناول شيئا منها إنما يتناول بغالب الرأي، وجواز العمل بغالب الرأي للضرورة ولا ضرورة في حالة الاختيار، بخلاف ما إذا كان الغالب الحلال فإن حل التناول هناك ليس بغالب الرأي كما قررنا،
رد المحتار: (98/5، ط: دار الفکر)
"(قولہ الحرام ینتقل) ای تنتقل حرمتہ وان تداولتہ الایدی وتبدلت الاملاک، (قولہ ولا للمشتری منہ) فیکون بشرائہ منہ مسیئا لانہ ملکہ بکسب خبیث وفی شرائہ تقریر للخبث ویؤمر بما کان یؤمر بہ البائع من ردہ علی الحربی"
و فیه ایضا: (مطلب البيع الفاسد لا يطيب له و يطيب للمشتري منه، 98/5، ط: دار الفکر)
نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اه.
معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاۃ بغیر طھور، 34/1، ط: سعید)
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالہدایۃ وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنہ الرد إلی المالک، فسبیلہ التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغ ذمتہ، ولا یرجو بہ المثوبۃ"
وفی فقہ البیوع(2/1032)
اذاکان الحلا مخلوط بالحرام دون تمیزأحدھما من الآخر.......یحل الانتفاع من المخلوط بقدرالحلال.
وفیہ ایضا(2/1038)
إذا لم یعلم الآخذ کم حصہ الحلال فی المخلوط یعمل بغلبة الظن.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


