03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی چھوٹی بہن کا پچاس سال کے آدمی سے امی کی اجازت کے بغیرنکاح کرانا
84811نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ

ایک بچی ہے جس کی عمر تقریباً آٹھ سال ہے۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کا نکاح اس کی اور اس کی والدہ کی اجازت کے بغیر سوتیلے بڑے بھائی نے اپنے دوسرے بھائیوں سے مشورہ کیے بغیر اور انہیں اطلاع دیے بغیر خفیہ طور پر مقامی مسجد میں روبرو دو گواہان اور لڑکے کے وکیل کے پڑھوا دیا ہے۔ جب لڑکی اور اس کی والدہ کو اس نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے اس نکاح کو رد کر دیا، اور لڑکی کے دیگر بھائی بھی اس رشتہ پر خوش نہیں ہیں کیونکہ جس شخص سے نکاح کرایا گیا ہے، اس کی عمر تقریباً پچاس سال ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ:

١۔کیا سوتیلا بھائی لڑکی کا وکیل بن سکتا ہے، جبکہ لڑکی اور اس کی والدہ کی رضامندی نہیں ہے اور دوسرے بھائیوں نے بھی بڑے بھائی پر اعتبار نہ کیا ہو اور براءت کا اظہار کیا ہو؟

۲۔لڑکی اور اس کی والدہ کے انکار کے بعد پڑھایا گیا مذکورہ نکاح برقرار رہے گا یا باطل ہو جائے گا؟

۳۔کیا یہ نکاح فضولی کے نکاح میں آئے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں لڑکی نابالغ ہےاور نکاح کرانے والا والد بھی نہیں ہے تاکہ والد والی شفقت  اس میں ہو، اور اس کا منسلکہ ریکارڈ اور عمر کے اتنے تفاوت کے باوجود چھوٹی بہن کا چھپ کر نکاح کرانے والے اعمال اس پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ شخص معروف بسوء الاختیار بھی ہے۔ لہذا، مذکورہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اس طرح کا نکاح اسلامی تعلیمات اور پاکستانی قانون کے بھی خلاف ہے، اور اس کے لیے ایک قانون "چائلڈ ایکٹ" موجود ہے۔ اس قانون کے تحت اطلاع ملنے پر باقاعدہ مقدمات درج کیے جاتے ہیں، اور پولیس نکاح پڑھانے والے قاضی کو بھی گرفتار کرتی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے کئی واقعات ہوئے ہیں، لہذا مذکورہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا کہ اسے فسخ کرنے کی ضرورت ہو۔

اب آپ کے سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:

١۔نہیں، سوتیلا بھائی مذکورہ حالات میں لڑکی کا  وکیل نہیں بن سکتا۔

۲۔یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔

۳۔اگر اس میں دیگر خرابیاں جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے نہ ہوتی، تو یہ نکاح فضولی ہو سکتا تھا؛ مگر ان خرابیوں کی وجہ سے نکاحِ مذکور سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔

حوالہ جات

وفی الفتاویٰ الخیریۃ (ص۲۳) باب الأولیاء والأکفاء:

(سئل) فی الأب إذ اعلم منہ سوء الاختیار وعدم النظر فی العواقب إذا زوج ابنتہ القابلۃ للتخلق بالخیر والشر بغیر کفؤھل یصح ام لا (اجاب) قال ابن فرشتہ فی شرح المجمع لو عرف من الأب سوء الاختیار لسفھہ او لطمعہ لا یجوز عقدہ اتفاقا ومثلہ فی الدرر والغرر وقال فی البحر فی شرح قول الکنز ولو زوج طفلہ غیر کفوء أو بغبن فاحش صح ولم یجز ذلک لغیر الاب والجد اطلق فی الأب والجد وقیدہ الشارحون وغیرھم بأن لایکون الأب معروفا بسوء الاختیار حتی لو کان معروفا بذلک مجاناأو فسقا فالعقد باطل علی الصحیح۔وفی الشامیۃ (۶۶/۳): قوله ( مجانة وفسقا ) نصب على التمييزوفي المغرب الماجن الذي لا يبالي ما يصنع وما قيل له ومصدره المجون والمجانة اسم منه والفعل من باب طلب اھ وفي شرح المجمع حتى لو عرف من الأب سوءالاختيار لسفهه أو لطمعه لا يجوز عقده إجماعا .

قال الشیخ المفتی رشید احمد اللدھیانوی بعدنقل  عبارة  الفتاوی الخیریة:

عبارتِ مذکورہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جب کسی باپ دادا کے متعلق نابالغہ کے نکاح  میں ترک شفقت اور مسامحت یقینی ہوجائے تو اس کا کیا ہوا نکاح بھی لازم نہ ہوگا خصوصاً فتح القدیر کے حوالے سے یہ جو لکھا گیا ہے لان ترک النظر ھھنا مقطوع بہ، اس میں یہ کوئی قید نہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا کیا ہو یا دوسری مرتبہ، فقط ترک شفقت کا قطعی بلا اشتباہ ہونا کافی قرار دیا ہے(احسن الفتاویٰ ۵/۱۱۷)

ویقول ایضا بعد تحقیق انیق :

’’ بطلانِ نکاح کی علت عدم النظر کا تیقن ہے جس کے لئے سوءِ اختیار کا محض تحقق و تیقن کافی ہے پس شہرت کی قید کی کیا ضرورت  ہے؟(۷) معروف  بسوء الاختیار کو اس میں منحصر کرنا کہ  باپ  پہلےبھی ایسا کوئی عقد کرچکا ہو نہ کہیں منقول ہے اور نہ معقول(۸) تزویج بالغبن الفاحش  اور بغیر الکفء ولو کان فاسقا کو علی الاطلاق سوء اختیار قرار دینا صحیح نہیں بلکہ یہ صرف اس صورت میں سوء اختیار ہوگا جبکہ باپ کی طمع یاسفہ وغیرہ ظاہر ہو۔‘‘ (احسن الفتاویٰ ۵/۱۱۷)

ویقول الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی فی فتاواہ :

احقر نے احسن الفتاویٰ جلد پنجم میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب دامت برکاتہم کا تحریر فرمودہ رسالہ’’ کشف الغبار عن مسئلۃ سوء الأختیار‘‘کا مطالعہ کیا ، اور متعلقہ عبارات پر غور کیا ، حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے اس رسالہ میں جو تحقیق فرمائی ہے ، وہ درست ہے، اس کے مطابق سوء الاختیارکی صورت میں جو نکاح غیر کفو یا غبن فاحش کے ساتھ کیا گیا ہو ، وہ اصلا ہی باطل ہے اور غیر منعقد ہے ، لہٰذا اس کے فسخ کے لئے قضا ء قاضی کی ضرورت نہیں ۔ (فتاوی عثمانی جلد 2 صفحہ نمبر: 383)

وفی کتاب الفقہ علی المذاهب الاربعۃ : ۴/۳

اذا زوجہم الأب والجد ، فلا خیار لہا بعد بلوغہا بشرطین: أن لا یکون معروفاً بسوئ الاختیار قبل العقد ، ثانیہما: أن لا یکون سکرانا فیقضی علیہ سکرہ بتزویجہا بغیر مہر المثل أو فاسق أو غیر کفوئ۔    

وفی الھندیۃ (۲۹۴/۱)(النکاح، باب الخامس فی الاکفاء):

ولو زوج ولده الصغير من غير كفء بأن زوج ابنه أمة أو ابنته عبدا أو زوج بغبن فاحش بأن زوج البنت ونقص من مهرها أو زوج ابنه وزاد على مهر امرأته جاز وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى كذا في التبيين وعندهما لا تجوز الزيادة والحط إلا بما يتغابن الناس فيه قال بعضهم فأما أصل النكاح فصحيح والأصح أن النكاح باطل عندهما هكذا في الكافي والصحيح قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى ۔۔۔ والخلاف فيما إذا لم يعرف سوء اختيار الأب مجانة أو فسقا أما إذا عرف ذلك منه فالنكاح باطل إجماعا وكذا إذا كان سكران لا يصح تزويجه لها إجماعا كذا في السراج الوهاج.

وفی الشامیۃ (۶۷/۳):

قلت ومقتضى التعليل أن السكران أو المعروف بسوء الاختيار لو زوجها من كفء بمهر المثل صح لعدم الضرر المحض ومعنى قوله والظاهر من حال الصاحي أنه يتأمل أي أنه لوفور شفقته بالأبوة لا يزوج بنته من غير كفء أو بغبن فاحش إلا لمصلحة يزيد على هذا الضرر كعلمه بحسن العشرة معها وقلة الأذى ونحو ذلك وهذا مفقود في السكران وسيىء الاختيار إذا خالف لظهور عدم رأيه وسوء اختياره في ذلك ۔رسالۃالجواب المختار فی کفاء ۃ الرجل عند سوء الاختیار.

الموسوعة الفقهية الكويتية: (275/41، ط: وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية)

قال الحنفية: الولي في النكاح العصبة بنفسه وهو من يتصل بالميت حتى المعتق بلا توسط أنثى على ترتيب الإرث والحجب، فيقدم الابن على الأب عند أبي حنيفة وأبي يوسف خلافاً لمحمد حيث قدم الأب، وفي الهندية عن الطحاوي: إن الأفضل أن يأمر الأب الابن بالنكاح حتى يجوز بلا خلاف، وابن الابن كالابن، ثم يقدم الأب، ثم أبوه، ثم الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم العم الشقيق، ثم لأب، ثم ابنه كذلك، ثم عم الأب كذلك، ثم ابنه كذلك، ثم عم الجد كذلك، ثم ابنه كذلك".

وفی المجموع لمحي الدين النووي - (ج 16 / ص 198)

ولا يزوج ابنته الصغيرة بشيخ هرم، ولا بمقطوع اليدين والرجلين، ولا بأعمى ولا زمن ولا بفقير وهى غنية، فإن فعل ذلك فسخ.

وفی الحیلة الناجزة للحلیة العاجزة(ص:92ط دارالاشاعت)

غیرکفؤ کے ساتھ اورغبن فاحش پرنکاح کے صحیح ہونے کےلیے دوشرطیں ہیں: اول یہ کہ وہ شخص ہوش حواس سالم رکھتاہوپس اگر نشہ کی حالت میں ایسا کیا گیا تونکاح بالکل ہی باطل ہے۔ دوسری شرط یہ ہےکہ معروف بسوء الاختیارنہ ہویعنی اس کے قبل کوئی واقعہ ایسا نہ ہوا ہو جس کی بناء پر عموما خیال کیاجائے کہ یہ شخص لالچ وغیرہ کی وجہ سے مصلحت اورانجام بینی کو مد نظر نہیں رکھتا پس اگر کوئی شخص لالچ اورناعاقبت اندیشی کے بدتدبیری میں مشہورومعروف ہووہ اگر نابالغ بیٹے یا بیٹی کانکاح  غیر کفو سےکردے یا مہر میں غبن فاحش کردے توہ نکاح بھی بالکل باطل ہے ۔

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

30/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب