03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثاءمیں اختلاف کی صورت میں وصیت کے ثبوت کا طریقہ
85403میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

متوفی کی جانب سے جو وصیت زبانی طور پر کی جائے،کیا وہ وصیت کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی روشنی میں درست ہےجبکہ سوائے بھتیجے کےاس کا کوئی غیر جانب دار گواہ بھی نہ ہو؟یاد رہے کہ مذکورہ وصیت متوفی کی اپنی بیوی اور بیٹی سے متعلق ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی بات یہ ہے کہ اگر ورثاء وصیت کے دعوی کو تسلیم نہ کرتے ہوں تو وصیت کے دعوی کو ثابت کرنے کے لیےشرعاً ضروری ہے کہ دو مرد یاایک مرد اور دوعورتیں گواہی دیں،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لیے گواہی دی جارہی ہو ،گواہی دینے والے اس کے اصول وفروع میں سے نہ ہوں۔رہی بات سوال میں مذکور وصیت سے متعلق تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہےکہ کسی وارث کے لیے کی گئی وصیت نافذنہیں ہو تی،لہٰذامرحوم کی اپنی بیٹی اوربیوی سےمتعلق وصیت نافذ نہیں ہوگی،البتہ اگر بقیہ ورثاء بالغ ہوں اور وہ مرحوم کی وصیت کے مطابق  ترکہ تقسیم کرنا چاہیں توکرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

تحفة الفقهاء (3/ 207)

أما شرائط الصحة فمنها أهلية التبرع َ۔۔۔ومنها التقدير بثلث التركة حتى أنها لا تصح فيما زاد على الثلث إلا أن يجيز الورثة وإجازتهم وردهم يصح بعد الموت أما قبل الموت فلا يصح لما قلنا إن الملك بالوصية يثبت بعد الموت ومنها أن يكون الموصى له أجنبيا حتى أن الوصية للوارث لا تجوز إلا بإجازة الورثة لقوله عليه السلام لا وصية لوارث إلا أن يجيز الورثة فإن أجاز بعض الورثة تنفذ بقدر حصته من الميراث لا غير.

الفتاوى الهندية (3/ 451)

ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين، أو رجل

وامرأتين سواء كان الحق مالا، أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين.

الفتاوى الهندية (6/ 90)

ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.

محمد حمزہ سلیمان

      دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

        ۰۹.جمادی الاولیٰ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب