03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کی جانب سے طلاق کا مطالبہ ہو تو حق مہر کے ساقط ہونے کا حکم
86857طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر کسی عورت کو طلاق کا مطالبہ کرنے پر طلاق دے دی جائے تو اُس کے حق مہر کے بارے میں آپ حضرات کی کیا رائے ہے؟حق مہر کی رقم ابھی باقی ہے، مطالبہ طلاق پر طلاق ہوجانے کے بعد وہ ادا کرنی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورت کی جانب سے محض طلاق کا مطالبہ کرنے سے مہر ساقط نہیں ہوتا، مہر اس وقت ساقط ہوتا ہے جب اس کی جانب سے یہ وضاحت کی جائے کہ "میرے حق مہر کے عوض مجھے طلاق دو"اورمرد اس شرط پر طلاق دیدے۔

لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ عورت کی جانب سے طلاق کے مطالبے میں مہر کے عوض ہونے کے الفاظ نہیں ہیں، اس لیے شوہر پر حق مہر کی ادائیگی لازم ہے۔

حوالہ جات

الهندية: (303/1، ط: دار الفكر)

(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/8/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب