03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قتل خطاء میں دیت سے کم پرصلح کے بعد عدالت کا نابالغ وارث کو مزید آٹھ لاکھ دینے کاحکم
85063قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کچھ عرصہ قبل علاقے میں ایک جھگڑا ہوا تھا جس میں فریقین کے درمیان پتھراؤ ہوا، اور اس کی زد میں آکر مخالف فریق کی ایک خاتون زخمی ہو گئی تھی، جو کہ تین دن کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ اس کا زخم ٹھیک نہیں ہوا تھا، البتہ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے وہ خاتون انتقال کر گئی تھی، جس کی بناء پر مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد علاقے کے لوگوں نے صلح کرا دی، جس کے بدلے میں ملزم پارٹی نے مبلغ 950,000 مرحومہ کے گھر والوں کو دیے، اور باہمی رضامندی سے عدالت میں راضی نامہ جمع کرا دیا۔ تاہم عدالت کو مذکورہ رقم کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ عدالت نے راضی نامہ تو منظور کیا، مگر مرحومہ کے گھرانے میں ایک نابالغ بچہ ہے، اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اس کو دیت کی رقم 800,000 دی جائے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ شرعی ہے یا صرف ریاست کا قانونی فیصلہ ہے؟ اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ ہم اس لیے معلوم کر رہے ہیں کہ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے جا رہے ہیں، تو اگر یہ شرعی فیصلہ ہو تو اس کے خلاف ہم نہیں جائیں گے اور شرعی فیصلے کو قبول کر لیں گے۔

سائل نے فون پر یہ وضاحت کی کہ اس عورت کے ورثہ میں شوہر، چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں، ایک بچے کے علاوہ سب بالغ ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ صورت قتل خطاء کی ہے، اور قتل خطا (غیر ارادی قتل) کے معاملے میں شریعت اسلامی دیت کی ادائیگی کا حکم دیتی ہے، جو کہ مقتول کے ورثاء میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اگر فریقین صلح کر لیں اور دیت کی مقررہ رقم سے کم پر معاملہ طے پائیں، تو اصولی طور پر یہ جائز ہے بشرطیکہ تمام بالغ ورثاء اس پر راضی ہوں۔

تاہم، نابالغ ورثاء کے معاملے میں شریعت زیادہ احتیاط کا حکم دیتی ہے، کیونکہ نابالغ اپنے حق کو معاف کرنے یا اس پر راضی ہونے کا اختیار نہیں رکھتا۔ نابالغ کے حقوق کی حفاظت کے لیے شریعت دیت کی رقم میں سے اس کے مکمل حصے کی ادائیگی کو لازمی قرار دیتی ہے، یا پھر اس کے مفاد میں کوئی مناسب انتظام کیا جاتا ہے، لہٰذا دیت سے کم پر ہونے والی صلح بالغ ورثاء کے حصے کی طرف منسوب ہوتی ہے اور نابالغ کا حصہ اس سے متاثر نہیں ہوتا۔

مسئولہ صورت میں اگر عدالت نے صلح کے باوجود نابالغ وارث کے لیے مزید آٹھ لاکھ دینے کا حکم دیا ہے، تو یہ شریعت کے مطابق اس بات کا تحفظ ہے کہ نابالغ کے حقوق ضائع نہ ہوں۔ اس لیے یہ فیصلہ شرعی اصولوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ نابالغ کے حق کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ اور جب مذکورہ فیصلہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے اور اس میں نابالغ کے حق کی حفاظت ہے، تو اگر آپ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو شرعی اعتبار سے اس پر اعتراض کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ شریعت بھی نابالغ کے حقوق کی مکمل حفاظت کا حکم دیتی ہے۔

آج یعنی 2024/10/22 کو دیت، یعنی دس ہزار درہم (30,618 گرام چاندی) کی قیمت 9,209,894.40 بنتی ہے، جس میں مذکورہ بچے کا حصہ 1,255,894.625 بنتا ہے۔

لہٰذا مذکورہ رقم (جو بطور صلح لی گئی ہے اور جو عدالت کے فیصلے میں آئی ہے) کے مجموعے 1,750,000 میں سے 1,255,894.625 اس بچے کو دیا جائے گا تاکہ اسے پورا حصہ ملے اور باقی رقم، جو اس مجموعے سے بچی ہے یعنی 494,105.40، وہ باقی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی۔

 شوہر، جس کا حصہ 25 فیصد بنتا ہے، اسے 123,526.3438 ملے گا، ہر بیٹے کو، جس کا حصہ 13.63636 فیصد بنتا ہے، 82,350.89583 ملے گا، اور ہر بیٹی کو، جس کا حصہ 6.818181 فیصد بنتا ہے، 41,175.44792 ملے گا۔

مذکورہ صلح کی وجہ سے مجموعی دیت 9,209,894.40 میں سے قاتل فریق کو 7,459,894 روپے معاف ہو گئے ہیں، لہٰذا یہ رقم انہیں ورثاء مقتول کو دینا نہیں پڑے گی۔

حوالہ جات

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (النساء/92)

وفى "فتح القدير_( ج: 23 ص: 340):

وكفارته عتق رقبة مؤمنة ) لقوله تعالى( فتحرير رقبة مؤمنة الآية)، ( فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين) بهذا النص ( ولا يجزئ فيه الإطعام ) لأنه لم يرد به نص والمقادير تعرف بالتوقيف.

الفقه الإسلامي وأدلته - (ج 7 / ص 619):

الواجب من الإبل مئة، ومن الذهب ألف دينار (2) ، ومن الفضة عشرة آلاف درهم عند الحنفية، واثنا عشر ألف درهم عند الجمهور، ومن البقر مئتا بقرة، ومن الغنم ألفان، ومن الحلل، أي الثياب مئتا حلة: إزار ورداء.

أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ

أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [البقرة/178]

وأحكام القرآن للجصاص - (ج 1 / ص 186):

فقوله تعالى فمن عفي له من أخيه شيء يعني الولي إذا أعطى شيئا من المال فليقبله وليتبعه بالمعروف وليؤد القاتل إليه بإحسان فندبه تعالى إلى أخذ المال إذا سهل ذلك من جهة القاتل وأخبر أنه تخفيف منه ورحمة كما قال عقيب ذكر القصاص من سورة المائدة فمن تصدق به فهو كفارة له فندبه إلى العفو والصدقة وكذلك ندبه بما ذكر في هذه الآية إلى قبول الدية إذا بذلها الجاني لأنه بدأ بذكر عفو الجاني بإعطاء الدية ثم أمر الولي بالاتباع وأمر الجاني بالأداء بالإحسان.

المبسوط للسرخسي (21/ 14):

وإن حط عنه شيئا من الدية لم يجز ما حط قل ذلك أو كثر؛ لأنه فيما حط مسقط لحقه غير مستوف له ولاية الاستيفاء في حق الصغير، وهذا بخلاف البيع، فإنه لو باع ماله بغبن يسير جاز؛ لأن البدل في البيع غير مقدر شرعا والقيمة تعرف بالحزر والظن والمقومون يختلفون فيها ففي الغبن اليسير لا يتيقن بترك النظر فيه بإسقاط شيء من حقه وهنا الدية مقدرة شرعا، فإذا نقص عن المقدر شرعا فقد أسقط من حقه شيئا تيقن وذلك غير صحيح منه فعلى القاتل تمام الدية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 174):

(قوله وللإمام حق أخذ دية إلخ) زاد لفظ: حق إشارة إلى ما في البحر من أن أخذه الدية ليس لنفسه، بل ليضعها في بيت المال، وهو المقصود من ذكرها هنا، وإلا فحكم القتل الخطأ معلوم، ولذا لم ينص على الكفارة لما سيأتي في الجنايات.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 245):

وللإمام أن يصالح على الدية إلا أنه لا يملك العفو؛ لأن القصاص حق المسلمين بدليل أن ميراثه لهم، وإنما الإمام نائب عنهم في الإقامة، وفي العفو إسقاط حقهم أصلا ورأسا، وهذا لا يجوز؛ ولهذا لا يملكه الأب، والجد، وإن كانا يملكان استيفاء القصاص، وله أن يصالح على الدية كما فعل سيدنا عثمان - رضي الله عنه - والله تعالى الموفق بالصواب.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 621):

(وإن يصالح) أي لأب المعتوه أن يصالح القاطع على مال قدر الدية أو أكثر لأنه أنظر في حق المعتوه ولو صالح على أقل منه لا يجوز فتجب دية كاملة (لا أن يعفو) أي ليس له ولاية العفو لأنه إبطال لحقه بلا عوض (والصبي كالمعتوه) لأن كل ما ثبت من الأحكام المذكورة لأب المعتوه يثبت لأب الصبي (والقاضي كالأب هو الصحيح) عند عدم الأب في الأحكام المذكورة لأنه نائب من السلطان والسلطان يقتص من قاتل القتيل الذي لا ولي له كذا يقتصه النائب وقوله هو الصحيح احتراز عما روي عن محمد أن القاضي لا يستوفي القصاص للصغير لا في النفس ولا فيما دون النفس ولا أن يصالح كذا في الخانية.

الفتاوى الهندية - (46 / 417):

إن كان القتل خطأً ، فإن كان الشريك الكبير أباً كان له أن يستوفي جميع الدية حصة نفسه بحكم الملك وحصة الصغير بحكم الولاية، وإن كان الشريك الكبير أخاً أو عماً، ولم يكن وصياً للصغير يستوفي حصة نفسه، ولايستوفي حصة الصغير، كذا في المحيط. 

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

18/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب