03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عوام میں مشہورکلما کی طلاق کی قسم اوراس کا شرعی حکم
84159طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص کے گھر میں شادی تھی ،دولہے کے بھائی نے گھر میں کہا کہ "شادی کے موقع پر گھر میں ناچ گانا نہیں ہوناچاہیے، اگرآج گھر میں ناچ گانا ہوا تو میں کلما کی طلاق دیتاہوں"جبکہ طلاق دینے والی کی صرف منگی ہوئی ہے،حسبِ رواج ہمارے ہاں منگنی کے موقع پر نکاح نہیں ہوتا، بلکہ شادی کے موقع پر نکاح ہوتاہے،مذکورہ مسئلے کا شرعی حکم درکارہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

’’اگرآج گھرمیں ناچ گانا ہوا تو میں کلما کی طلاق دیتاہوں‘‘یہ الفاظ لغو ہیں کیونکہ ’’کلّما کی طلاق ‘‘ کی قسم اس وقت معتبر ہوتی  ہے جب فی الحال نکاح موجود ہو یا نکاح کی طرف قسم کے الفاظ میں نسبت موجود ہو ، جبکہ مذکورہ صورت میں نکاح بھی موجود نہیں ہے اورمذکورشخص نے نکاح کی طرف نسبت بھی نہیں کی ،لہذا مذکورہ جملہ عبث اور بے کار ہے،  اگرچہ عوام الناس بعض دفعہ اس کو کلما کی قسم سمجھ لیتے ہیں،لیکن شرعاً اس کا اعتبارنہیں، اس لیےمسئولہ صورت میں  نکاح کرنے سے شخص مذکورکی بیوی پرمذکورہ الفاظ کہنے سے کوئی واقع طلاق نہ ہوگی،البتہ ناچ گانے سے ویسے بھی پرہیزلازم ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار - (۳ / ۲۴۷):

قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل.

وفیہ ٲیضاً (3/ 642):

الحاصل كما في البحر أنه إذا علق بالملك أو بسببه كالشراء لا يشترط تحقق الملك وقت التعليق، وإن علق بغيرهما كدخول الدار اشترط وجود الملك وقت التعليق ووقت نزول الجزاء ولا يشترط وجود الملك فيما بينهما.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

06/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب