| 88197 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
زید نے تین شادیاں کیں۔پہلی بیوی سے اس کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔ بعد ازاں اس نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی بچوں سے قطع تعلق کر لیا۔
کچھ عرصے بعد اس نے ایک بیوہ سےدوسری شادی کی، جس کی پہلے سے دو بیٹیاں تھیں (جو زید کی سوتیلی بیٹیاں تھیں)۔ زید کی دوسری بیوی سے چار بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے، جن میں سے ایک بیٹا زید کی وفات کے چند دن بعد انتقال کر گیا۔
پھرزید نے تیسری شادی کی، جس سے اس کی تین بیٹیاں ہوئیں۔
زید نے ایک مکان خریدا، جو اس نے اپنی دوسری بیوی کے نام پر رکھا۔ وفات سے کچھ سال قبل، زید نے دوسری بیوی کو طلاق دے دی اور مکان، جو پہلے ہی اس کے نام پر تھا،اس دوسری بیوی کے پانچ (5) بچوں کے حوالے کر دیا۔ اوریہ ہبہ (عطیہ) طلاق نامے کے ساتھ بھی درج کرلیا۔
زید نے وفات سے قبل اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ چونکہ اس وقت وہ تیسری بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا، غالب گمان ہے کہ استعفیٰ کے وقت جو رقم ملی، وہ اس نے تیسری بیوی پر خرچ کر دی یا اسے دے دی، لیکن اس کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔اب ہماراسوال یہ ہے کہ
مذکورہ مکان فروخت کیاگیاہے،اس سے حاصل ہونے والی رقم میں کس کا کتنا حصہ ہو گا؟
سائل نے فون پروضاحت کی کہ یہ مکان زیدنےدوسری بیوی کے بیٹوں کودیاہے اوران کے حوالے کیاہے،بیوی کونہیں دیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب زید نے مذکورہ مکان اپنی وفات سے قبل، اپنی زندگی ہی میں دوسری بیوی کے بچوں کو دے کر ان کے حوالے کر دیا تھا اور انہیں اس پر قبضہ بھی کرا دیا تھا، جیسا کہ سوال میں تصریح ہے، تو یہ مکان زید کی زندگی ہی میں ان (یعنی دوسری بیوی کے بچوں) کی ملکیت بن چکا تھا۔ لہٰذا اب اگر یہ مکان فروخت ہو چکا ہے، تو اس کی پوری قیمت انہی کا حق ہے، اس میں کسی اور کا کوئی حق نہیں۔
اگر زید نے مذکورہ مکان کی تقسیم کی کوئی تفصیل ان پانچ بچوں کے درمیان نہیں بنائی تھی، توپھر اس مکان کی قیمت
کی تقسیم دوسری بیوی کے ان پانچوں بچوں کے درمیان برابر سرابر ہوگی، یعنی چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے ہر ایک کو اس قیمت کا بیس فیصد (20%) حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 688)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل ...... ....... ...... ....... ...... ....... ...... ....... ...... ....... ...... .......
وفی مصنف لابن أبی شیبة:
عن النضر بن أنس قال: نحلني أبي نصف دارہ، فقال أبو بردۃ: إن سرک أن تجوز ذلک فاقبضہ، فإن عمر بن الخطاب -رضي اﷲ عنہ- قضی في الأنحال ما قبض منہ فہو جائز، وما لم یقبض منہ فہو میراث۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، البیوع والأقضیۃ من قال: لا تجوز الہبۃ إلا مقبوضۃ، موسسۃ علوم القرآن، جدید ۱۰/ ۵۲۱، رقم: ۲۰۵۰۲)
المبسوط للسرخسي (12/ 67) دار المعرفة – بيروت:
(ولو وهب دارا لرجلين، وسلمها إليهما فالهبة لا تجوز، في قول أبي حنيفة - رضي الله عنه -، وفي قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله: يجوز)؛ لأن العقد والتسليم لاقى مقسوما، فإنه حصل في الدار جملة، فيجوز، كما لو وهبها لرجل واحد؛ وهذا لأن تمكن الشيوع باعتبار تفرق المالك، والملك هنا حكم الهبة، وحكم الشيء يعقبه. فالشيوع الذي ينبني على ملك يقع للموهوب لهما لا يكون مقترنا بالعقد ولا تأثير للشيوع الطارئ في الهبة كما لو رجع الواهب بالنصف.
وفی فتاوی جامعة الرشید:
"اس طرح مشاع طور پرپانچ افراد کو مکان ہبہ کرنا اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں، مگر حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کی اجازت ہے، اس لیے ضرورت کے وقت اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے"(فتوی نمبر([1])84739).
شرح معاني الآثار - الطحاوي (4/ 84):
فقالوا ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في العطية ليستووا في البر ولا يفضل بعضهم على بعض فيوقع ذلك له الوحشة في قلوب المفضولين منهم۔
رد المحتار - (ج 24 / ص 42)
( قوله وعليه الفتوى ) أي على قول أبي يوسف : من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي.
[1] https://almuftionline.com/2024/09/01/13994/
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/1/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


