03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی پر نکاح کےحوالےسےدباؤڈالنا
88160نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک لڑکی کی شادی اس کے گھر والے ایسی جگہ پر کروا رہے ہیں جہاں وہ خوش نہیں ہے۔ جس جگہ شادی کی جا رہی ہے، وہ اس لڑکی کی بڑی بہن کا دیور ہے۔ اس کی بہن کو سسرال کے خاندان والے اپنی بہن کو راضی کروانے کے لیے دباؤ میں لا رہے ہیں، جس کی بنا پر وہ اپنی بہن پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ:

 کیا شریعت کی روشنی میں بہن کا اپنی بہن پر نکاح کے لیے دباؤ ڈالنا جائز ہے؟اور اس صورتِ حال میں اس لڑکی کے لیے شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کا فیصلہ بالغ عورت کا ذاتی حق ہے۔ کوئی بھی شخص، خواہ والدین ہوں، بہن ہو یا اس کے سسرالی رشتہ دار، اسے کسی مخصوص شخص سے نکاح پر مجبور نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں بہن اور اس کے سسرالیوں کا دوسری بہن پر نکاح کے حوالے سے دباؤ ڈالنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

شرعاً مذکورہ لڑکی کو متعلقہ جگہ نکاح کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ یہ لوگ صرف مشورہ دے سکتے ہیں، زبردستی یا دباؤ ڈالنے کا ان کے پاس کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔

حوالہ جات

وفی الحجة على أهل المدينة (3/ 133) :

عن سعيد بن المسيب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تستأمر الأبكار في انفسهن ذات الأب وغير الأب

قال محمد اخبرنا ابو حنيفة عن حماد عن ابراهيم قال لا تنكح البكرحتى تستأمر ورضاها سكوتها وقال هي أعلم بنفسها لعل بها عيبا لا تستطيع بها الرجال معه.

وفی الفتاوى الهندية (1/ 287):

"لايجوز ‌نكاح ‌أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، و إن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج."(كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء، ط: رشيدية)

وفی الشامیة:

"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ)(‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب الولي، 58/3، ط: سعید)

وفی الھندیة:

"(ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا."(كتاب النكاح، الباب الأول، 269/1، ط: دار الفكر بيروت)

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 247):

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول."(کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب فی النکاح، ط: سعید )

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/1/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب