03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جماعت کی وجہ سے ظہر کی سنتِ قبلیہ چھوٹ جائےتوبعد میں کس طرح اداکیاجائے؟
87953نماز کا بیانسنتوں او رنوافل کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر کسی کی ظہر سے پہلے کی چار سنتیں رہ جائیں اور وہ جماعت کے بعد انہیں پڑھنا چاہے تو کس ترتیب سے پڑھے گا؟ پہلے دو سنتیں اور پھر چار یا پہلے چار اور پھر دو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جماعت میں شریک ہونے کی وجہ سے اگر کسی شخص سے ظہر کی پہلی چار سنتیں رہ جائیں تو انہیں جماعت کے بعد ادا کرنا چاہئے۔ باقی یہ کہ ان چار رکعتوں کو ظہر کے بعد والی دو سنتوں سے پہلے ادا کرے یا بعد میں — شرعاً دونوں طریقے جائز اور درست ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ علامہ ابن الہمامؒ نے بعد والی دو رکعتوں کو رہ جانے والی پہلی چار سنتوں پر مقدم کرنے کو ترجیح دی ہے۔

حوالہ جات

فی البحر الرائق:

 (قولہ وقضی التی قبل الظہر فی وقتہ قبل شفعہ) بیان لشیئین أحدھما القضاء والثانی محلہ أما الأول ففیہ اختلاف والصحیح أنہا تقضی کما ذکرہ قاضی خان فی شرحہ مستدلا بما عن عائشۃ أن النبی ﷺ ’’کان إذا فاتتہ الأربع قبل الظہر قضاہن بعدہ‘‘، وظاہر کلام المصنف أنہا سنۃ لا نفل مطلق وذکر قاضی خان أنہ إذا قضاہا فہی لا تکون سنۃ عند أبی حنفیۃ وعندہما سنۃ وتبعہ الشارح وتعقبہ فی فتح القدیر بأنہ من تصرف المصنفین فإن المذکور من وضع المسألۃ الاتفاق علی قضاء الأربع وإنما الاختلاف فی تقدیمہا أو تأخیرہا والاتفاق علی أنہا تقضی اتفاق علی وقوعہا سنۃ إلی آخر ما ذکرہ وأما الثانی فاختلف فیہ النقل عن الشیخین فذکر فی الجامع الصغیر للحسامی أن أبا یوسف یقدم الرکعتین ومحمد یؤخرہما وفی المنظومۃ وشروحہا علی العکس وفی غایۃ البیان ویحتمل أن یکون عن کل واحد من الإمامین روایتان ورجح فی فتح القدیر تقدیم الرکعتین لأن الأربع فاتت عن الموضوع المسنون فلا یفوت الرکعتین عن موضعہما قصدا بلا ضرورۃ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵)۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 59):

"(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد، وبه يفتى جوهرة.

(قوله: وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي، أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح؛ لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين». وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي: حسن غريب، فتح".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

9/1/1447٦ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب