| 87994 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک گھر میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو بچپن میں فوت ہو گئی، پھر اسی خاندان (چاچو کے گھر) میں ایک اور لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی فوت ہو گئی۔ ان حالات کے پیش نظر جب دوبارہ لڑکی پیدا ہوئی تو گھر والوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اس کے بچنے کے لیے منت مانیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر منت مانی کہ اگر یہ لڑکی زندہ رہی تو ہم اسے پانچ سال تک "منگتا" رکھیں گے اور اس کے والد کی کمائی سے کچھ نہیں دلائیں گے۔ منت کے مطابق پانچ سال تک ایسا ہی کیا گیا۔ جب بچی زندہ رہی اور منت پوری ہوئی تو بطور شکرانہ امام بارگاہ میں چاندی کے گنگن علامتی گھوڑے کے لیے دیے۔اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ:
حضرت حسینؓ کے نام پر اس طرح منت ماننا، بچوں کو "منگتا" رکھنا، اور منت پوری ہونے پر امام بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنا — شریعتِ اسلامیہ کی رو سے کیسا عمل ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ اسلام میں نذر (منت) صرف اللہ تعالیٰ کے لیے جائز ہے۔ کسی نبی، ولی یا امام (جیسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ) کے نام پر نذر ماننا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ نذر ایک عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔نیز نذرایسی چیز کی مانی جا سکتی ہے جو عبادت ہو، گناہ یا نافرمانی نہ ہو، اور وہ عبادت بذاتِ خود مقصودبھی ہو، وضو یا دیگر ذرائع کی طرح صرف وسیلہ نہ ہو۔
سوال میں مذکور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی نذر نہ صرف یہ کہ غیراللہ کی نذرہے، بلکہ یہ کسی عبادتِ مقصودہ کی بھی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی چیزکی ہے جو بلا ضرورت مانگ کر کھلانے جیسے ناجائز کام پر مشتمل ہے، جو شرعاً جائز نہیں ہے۔
لہٰذا ایسی نذر ماننا، اور اس پر عمل کرتے ہوئے بچوں کو پانچ سال تک سوال کی روٹی کھلانا، اورپھرامام بارگاہ میں چاندی کے گنگن علامتی گھوڑے کےلیے بطورِ شکرانہ دینا—یہ سب اعمال بدعت، ناجائز اور غیر شرعی کام ہیں۔ان سب سے سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا، اور آئندہ کے لیے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی :
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ (البقرة: )
قال النبي صلى الله عليه وسلم: من نذر أن يطيع الله فليطعه، ومن نذر أن يعصيه فلا يعصيه (رواه البخاري 6202)
عن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا وفاء لنذر في معصية (رواه مسلم 3099)
وفی ارشاد الطالبین(28):
مسئلہ عبادت مر غیر خدا را جائز نیست و نه مدد در خواستن از غیر حق ......پس نذر کردن برائے اولیا جائز نیست که نذر عبادت است و اگر کسے نذر کرد و فائے نذر نکند که احتراز از معصیت بقدر امکان واجب است.
صحيح مسلم ترقیم شاملہ(2404):
عن قبيصة بن مخارق الهلالي ، قال: تحملت حمالة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اساله فيها، فقال: " اقم حتى تاتينا الصدقة، فنامر لك بها "، قال: ثم قال يا قبيصة: إن المسالة لا تحل إلا لاحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسالة حتى يصيبها ثم يمسك، ورجل اصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش، او قال: سدادا من عيش، ورجل اصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجا من قومه لقد اصابت فلانا فاقة فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش، او قال: سدادا من عيش، فما سواهن من المسالة يا قبيصة سحتا، ياكلها صاحبها سحتا ".
سنن الترمذي (رقم الحديث: 1525، 156/3، ط: دار الغرب الإسلامي):
عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا نذر في معصية الله، وكفارته كفارة يمين(السنن الكبرى ،رقم الحديث: 20071، 121/10، ط: دار الكتب العلمية)
عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " النذر نذران: فما كان من نذر في طاعة الله فذلك لك , وفيه الوفاء , وما كان من نذر في معصية الله , فذلك للشيطان , ولا وفاء فيه , فيكفره ما يكفر اليمين ".
البحر الرائق: (317/2، ط: دار الكتاب الإسلامي)
واعلم بأنهم صرحوا بأن شرط لزوم النذر ثلاثة كون المنذور ليس بمعصية وكونه من جنسه واجب وكون الواجب مقصودا لنفسه قالوا فخرج بالأول النذر بالمعصية۔۔۔فعلم أنهم أرادوا باشتراط كونه ليس بمعصية كون المعصية باعتبار نفسه حتى لا ينفك شيء من أفراد الجنس عنها وحينئذ لا يلزم لكنه ينعقد للكفارة حيث تعذر عليه الفعل ولهذا قالوا لو أضاف النذر إلى سائر المعاصي كقوله لله علي أن أقتل فلانا كان يمينا ولزمته الكفارة بالحنث فلو فعل نفس المنذور عصى وانحل النذر كالحلف بالمعصية ينعقد للكفارة فلو فعل المعصية المحلوف عليها سقطت وأثم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 439)
مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله تقربا إليهم) كأن
يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك.ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفرر.
قال اللہ تعالی :
وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ [الأنعام: 136]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/1/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


