| 87776 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
عید، شادی اور دیگر تقریبات میں بعض لوگ خوشی منانے کے لیے ہوائی فائرنگ کرتے ہیں، خاص طور پر گنجان آبادیوں میں۔ کئی بار ایسی فائرنگ کسی نہ کسی کی جان لے لیتی ہے۔کیا ایسی فائرنگ کرنے والا شخص قاتلِ عمد شمار ہوگا، جب کہ اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ یہ فائر کسی بھی سمت جا کر کسی کو بھی لگ سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام نے خوشی اور غم منانے میں امتِ مسلمہ کی مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔ جو خوشی اسلام کے مزاج کے مطابق ہو، اس کے منانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن وہ خوشی جس میں کفّار کی مشابہت، کسی کا مالی یا جانی نقصان، اسراف، یا دیگر غیر شرعی امور شامل ہوں، ایسے طریقے سے خوشی منانا اسلام میں ممنوع اور ناجائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، عید، شادی اور دیگر تقریبات میں جو فائرنگ کی جاتی ہے، وہ چونکہ غیر قانونی ہے اور اس میں بہت سے غیر شرعی امور (مثلاً اسراف، وقت کا ضیاع، لوگوں کو تکلیف دینا وغیرہ) پائے جاتے ہیں، نیز یہ فائرنگ نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کی موت یا زخمی ہونے کا سبب بن سکتی ہے (جس کے کئی شواہد موجود ہیں)، اس لیے ایسے مواقع پر، بالخصوص گنجان آبادی میں ہوائی فائرنگ کرنا شرعاً اور قانوناً ناجائز ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
ایسی صورت میں اگر کسی کی موت واقع ہو جائے تو یہ قتلِ عمد تو نہیں، کیونکہ قصدِ قتل موجود نہیں، مگر یہ قتلِ خطا کے زمرے میں آئے گا، کیونکہ فائر کرنے والے نے ایسا فعل کیا جس سے موت واقع ہونا قریب الاحتمال تھا۔ لہٰذا ترکِ احتیاط اور قانوناً ممنوع عمل کے ارتکاب کی وجہ سے وہ گناہگار ہوگا، اور اس پر دیت اور کفارہ بھی لازم ہوگا، نیز حکومت اسے تعزیری سزا بھی دے سکتی ہے([1])۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے قتلِ خطا کی صورت میں قاتل پر کفارہ (یعنی مسلسل ساٹھ روزے) اور دیت (یعنی سونے یا چاندی کی شکل میں مالی معاوضہ) دونوں لازم قرار دیے ہیں۔
دیت کی مقدار یہ ہے کہ:
- اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا، جس کا اندازہ جدید پیمانے سے تقریباً 4 کلو 374 گرام سونا بنتا ہے، یا اس کی قیمت۔
- اور اگر چاندی (دراہم) کے اعتبار سے ادا کی جائے تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی، جس کا اندازہ جدید پیمانے سے تقریباً 30 کلو 618 گرام چاندی بنتی ہے، یا اس کی قیمت۔
ملحوظ رہے کہ دیت کی ادائیگی قاتل کی عاقلہ کے ذمے ہوتی ہے، اور "عاقلہ" سے مراد وہ جماعت، تنظیم یا کمیونٹی ہے جس کے ساتھ اس قاتل کا باہمی تعاون یا تناصر کا تعلق ہو۔ نیز، یہ دیت تین سال میں ادا کی جائے گی۔ البتہ اگر قاتل اور مقتول کے ورثاء آپس میں متعین کردہ رقم پر صلح کر لیں، تو وہ بھی شرعاً درست ہے۔
[1] پاکستان پینل کوڈ (PPC) 1860 دفعہ 337-H(ii): اسلحہ ایکٹ 2013 (Arms Act 2013)
حوالہ جات
القرآن الکریم:
(وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ
يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا } [النساء: 92[
الهداية (4/ 158):
قال: القتل على خمسة أوجه: عمد، وشبه عمد، وخطأ، وما أجري مجرى الخطأ، والقتل بسبب…… قال: والخطأ على نوعين: خطأ في القصد، وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا، فإذا هو آدمي، أو يظنه حربيا، فإذا هو مسلم، وخطأ في الفعل، وهو أن يرمي غرضا، فيصيب آدميا، وموجب ذلك، الكفارة والدية على العاقلة؛ لقوله تعالى { فتحرير رقبة مؤمنة ودية مسلمة إلى أهله } الآية، وهي على عاقلته في ثلاث سنين؛ لما بيناه.
قال: ولا إثم فيه، يعني في الوجهين، قالوا: المراد إثم القتل، فأما في نفسه فلا يعرى عن الإثم من حيث ترك العزيمة والمبالغة في التثبت في حال الرمي؛ إذ شرع الكفارة يؤذن باعتبار هذا المعنى. ويحرم عن الميراث؛ لأن فيه إثما، فيصح تعليق الحرمان به. بخلاف ما إذا تعمد الضرب موضعا من جسده، فأخطأ، فأصاب موضعا آخر، فمات، حيث يجب القصاص؛ لأن القتل قد وجد بالقصد إلى بعض بدنه، وجميع البدن كالمحل الواح.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/12/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


