| 87506 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے میں گارمنٹ کے ایک کمپنی میں مزدوری پرکام کرتا ہوں گزارش ہے کہ وہاں ٹھیکیداری سسٹم ہوتاہے جس کے ساتھ لوگ انوسٹمنٹ کرتے ہیں اور اس انویسٹمنٹ میں ان انوسٹروں کوکمیش ملتا ہے۔ اس کمپنی میں بینان بنتی ہیں ،اس میں مختلف ڈیپارٹ ہوتےہیں بعض ڈیپارٹ بڑے ہوتے ہیں اوربعض چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اس میں جو بڑی کمپنیاں ہیں۔اور چھوٹی کمپنیاں ہیں ان کا لین دین کاطریقہ مختلف ہوتاہے، اسی طرح ٹھیکداروں کے بھی مختلف لین دین کےطریقے ہوتے ہیں ،اس میں ٹھیکداروں کے پاس تین یا چارڈیپارٹ بھی ہوتے ہیں ،کسی کے پاس زیادہ کسی کے پاس کم اوریہ ٹھیکدارانوسٹروں کوفی درجن پر کمیشن دیتے ہیں جیسے کہ اگرکسی کا پانچ روپے کمیشن ہے تو اگر ڈیپارٹ میں پاجامے یا جوبھی آرٹیکل بن رہاہواگروہ دن میں 100درجن بنتاہے تو انوسٹرکے 500روپے دن میں بن جاتے ہیں اوریہ آرٹیکل روزانہ ایک ہی مقدارمیں نہیں بنتے ،کبھی کم اورکبھی زیادہ بن جاتے ہیں کیونکہ ان ڈیپارٹوں میں کاریگرہوتےہیں ان کے بھی سو مسئلےمسائل ہوتے ہیں، اس لیے یہ کہیں بھی ایک ہی مقدارمیں نہیں بنتے ،تواگرڈیپارٹ میں مال زیادہ بن جائےتو انوسٹرکےلیے پیسے زیادہ بن جاتے ہیں اوراگرکم بن جائیں تو کم بنتے ہیں،کمپنی کے سیٹ لوگ ٹھیکیداروں کے پیسےروکتے ہیں اس لیے یہ پاس انوسٹررکھتے ہیں،اس میں ٹھیکداروں کے اور بھی کاروبار ہوتے ہیں، بحر حال میں عرض کرنا چاہتا ہو کہ جو انویسٹر کو کمیشن ملتا ہےکیا یہ کمیشن حلال ہے یا حرام؟ اور اس میں اگر انوسٹر نے اپنی انویسمنٹ ختم کرنی ہو تو وہ ٹھیکدار کو چار مہینے پہلے بتائے گا مطلب اگر انویسٹر نے آج بتایا کہ میرے پیسے واپس دو جو میں نے آپ کے پاس انویسٹ کئے ہوئے ہیں تو اسی دن سے انویسٹر کا کمیشن چا رمہینے تک ختم ہو جائیگا اور چارمہینے بعد اس کو اس کے پیسے واپس ملے گے۔
اس فیلڈ کے ٹھیکیدا رکہتے ہیں کہ ہم انویسٹر کو ایک ہی رقم مہینے کی فکس اس لئے نہیں دیتے کہ علماء کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور کمیشن اس لئے دیتے ہیں کہ یہ حلال ہے،تو اس بارے میں میں آپ سے پوچھناچاہتا ہوں کہ یہ کمیشن جو ٹھیکدار انویسٹر کو دیتے ہیں کیا شریعت کی روسے جائز ہے یا ناجائز؟
سائل نے فون پر بتایاکہ ٹھیکدارکمپنی کا کام کرتے ہیں انوسٹرسے ٹھیکداررقم لیکروہ کاریگروں کودیتاہے اس لیے کہ کمپنی سے رقم کبھی وقت نہیں ملتی جس کی وجہ سے انوسٹررکھناپڑھتاہے نیز ان ٹھیکداروں سے نیچے کےکاریگرکبھی ایڈانس لاکھ دولاکھ مانگتے ہیں اورپھر دودوتین ہزارکرتے ہیں اپنی مزدوری سے کٹواتے ہیں اگروہ قرض نہ دےتوپھر کاروبارچلانا مشکل ہوتاہے تو اس ایڈانس کےلیے بھی ٹھیکدارکو رقم کی ضرورت ہوتی ہے ظاہرہے یہ کمپنی تونہیں دیتی اس لیے ٹھیکداروں کو انویسٹررکھنا پڑتاہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ صورت میں کل چارمعاملے ہیں ،پہلامعاملہ ٹھیکے داراورکمپنی کے درمیان ہےکہ ٹھیکدار کمپنی کا کام کرتے ہیں، ان دونوں کے درمیان معاہدہ اجارے کا ہے، اور یہ جائز ہے۔
دوسرا معاملہ ٹھیکے دار کا آگے کاریگروں کے ساتھ ہےکہ وہ ان کو اجرت پر اپنے پاس کام پہ رکھتاہے یہ بھی اجارے ہی کا ہے، اورفی نفسہ کوئی مفسد نہ ہوتوجائز ہے۔
تیسرا معاملہ یہ ہے کہ ٹھیکے دار کاریگروں کو ایک یا دو لاکھ روپے ایڈوانس دیتا ہے، جسے وہ بعد میں آہستہ آہستہ متعلقہ کاریگر کی اجرت سے ماہانہ کٹوتی کرکےوصول کرتا رہتا ہے۔ شرعاً یہ اجرتِ معجّلہ کے حکم میں ہے اور جائز ہے۔
چوتھامعاملہ ٹھیکے دار کا انویسٹمنٹ کے نام پر لوگوں سے رقم لینا اور اسےآگے کاروبارکے بجائےکاریگروں کی اجرت اورقرض میں استعمال کرنے کاہےجس کے بدلے ٹھیکداران انوسٹروں کو کمیشن کے نام پر رقم دیتاہے، یہ معاملہ شرعاًجائز نہیں ہے؛ چاہے کمیشن کے نام پر دی جانے مذکور رقم "لم سَم" (مخصوص رقم)ہو یا فیصد کے حساب سے دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ شرکت یا مضاربت وغیرہ کسی شرعی عقد کی شرائط پر پورا نہیں اترتا؛ کیونکہ ٹھیکیدار انویسٹر کی رقم کو کاروبار میں نہیں لگاتا، بلکہ کاریگروں کی اجرتوں اوران کو ایڈوانس دینے میں استعمال کرتا ہے اور اس کو گارمنٹ کمپنی سے اپنے کام کی جو اجرت ملتی ہے، اس میں سے کچھ خود رکھ لیتا ہے اور کچھ رقم دینے والے انوسٹروں کو دیتا ہے۔ ٹھیکیدارکا گارمنٹ کمپنی سے اجرت لینا تو واضح ہےکہ وہ درست ہے، لیکن وہ اس میں سے انویسٹر کو جو حصہ دیتا ہے، اس کی شرعا کوئی درست توجیہ نہیں بنتی۔ اس لیے اس معاملے سے بچنا ضروری ہے۔ اب تک جو انویسٹر ایسے معاملات کر کے نفع لے چکے ہیں، ان کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر اپنا ذمہ فارغ کرنے کے لیے صدقہ کریں ۔
اس کاایک بے غبار جائز متبادل شرکتِ اعمال ہوسکتاہےکہ انویسٹر اور ٹھیکیدار ملکر گارمنٹ کمپنی سےخدمات (مثلاً سلائی، کڑھائی، پیکنگ وغیرہ) کی انجام دہی کی مشترکہ ذمہ داری قبول کریں، تو یہ "شرکتِ اعمال" کہلائے گی۔ اس میں نقصان طے شدہ کام کی مقدار (ضمانِ عمل) کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔نفع شرکاء آپس کی رضامندی سے کسی بھی فیصد کے مطابق تقسیم کر سکتے ہیں، چاہے برابر ہو یا مختلف۔اگر کام کے لیے مشترکہ سرمایہ یا آلات (جیسے مشینیں یا دیگر سامان) کی ضرورت ہو تو ہر شریک اپنی لگائی گئی رقم کے بقدر ان اثاثہ جات کا مالک ہوگا۔کمپنی کو چلانے کے لیے جو بھی اخراجات (مثلاً کرایہ، بل،مزدوروں کی تنخواہ وغیرہ) ہوں گے، وہ بھی طے شدہ کام کی مقدار کے حساب سے تقسیم ہوں گے۔اس شرکت میں کسی شریک کا تنخواہ پر کام کرنا جائز نہیں؛ ہر شریک بطور شریک ہی کام کرے گا، اجیر (ملازم) نہیں بنے گا۔تاہم اگرکسی شریک کےلیے کام نہ کرنے کی شرط نہ ہواورعملاً ایک شریک کام کررہاہوں تو کام کرنے والاشریک نفع میں اپناحصہ زیادہ رکھ سکتاہے،مکرتنخواہ نہیں لے سکتا۔
اس کا دوسراشرعی متبادل یہ ہوسکتاہےکہ انویسٹر اپنی رقم سےکاریگروں کواجرت پر رکھ کرپھرٹھیکدارسے کام لیکر ان سے کروائیں اورپھرٹھیکدارکوحوالہ کرکےان سے اس کی اجرت وصول کیاکریں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166) :
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.
المجلة (ص:267):
"شركة الأعمال عبارة عن عقد شركة على تقبل الأعمال، فالأجيران المشتركان يعقدان الشركة على تعهد والتزام العمل الذي يطلب ويكلف من طرف المستأجرين، سواء كانا متساويين أو متفاضلين في ضمان العمل، يعني سواء عقدا الشركة على تعهد العمل وضمانه متساويا، أو شرطا ثلث العمل مثلا لأحدهما والثلثان للآخر."
المجلة (ص:268):
"يقسم الشركاء الربح بينهم على الوجه الذي شرطوه، يعني إن شرطوا تقسيمه متساويا يقسموه متساويا، وإن شرطوا تقسيمه متفاضلا، كالثلث والثلثين مثلا، يقسم حصتين وحصة ... إذا شرط التساوي في العمل والتفاضل في الكسب، كان جائزا، مثلا: إذا شرط الشريكان أن يعملا متساويين وأن يقسما الكسب حصتين وحصة، كان جائزا."
المعايير الشرعية (ص:336):
"إذا اقتضت شــركة الأعمال توافر موجــودات ثابتة (مثل المعدات، أو الأدوات) فيجوز أن يقدم كل طرف ما يحتاج إليه مع بقاء ما يقدمه ً مملوكا له، أو شــراءذلك من أموال الشــركاء ً مملوكا له، أو شــراء ذلك من أموال الشــركاء على أساس شركة الملك. كما يجوز تقديم الموجودات الثابتة من أحد أطراف الشركة بأجرة تسجل مصروفات على الشركة."
المجلة (ص:268):
"إذا تلف أو تعيب المستأجر فيه بصنع أحد الشريكين، فيكون ضامنا بالإشتراك مع الشريك الآخر، والمستأجر يضمن ماله أيا شاء منهما، ويقسم هذا الخسار بين الشريكين على مقدار الضمان، مثلا: إذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها مناصفة، فيقسم الخسار أيضا مناصفة، وإذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها ثلثين وثلثا، يقسم الخسار أيضا حصتين وحصة."
رد المحتار (17/122):
"(و) تبطل أيضا (بإنكارها) وبقوله: لا أعمل معك. فتح. (وبفسخ أحدهما) ولو المال عروضا، ...
ويتوقف على علم الآخر لأنه عزل قصدي."
المبسوط للسرخسي (11/287):
"قال: والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر، فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق، ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعلك بركتك منه». والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما."
"بدائع الصنائع " (13/ 72):
"(وأما ) الشركة بالأعمال : فهو أن يشتركا على عمل من الخياطة ، أو القصارة ، أو غيرهما فيقولا : اشتركنا على أن نعمل فيه على أن ما رزقﷲ عز وجل من أجرة فهي بيننا ، على شرط كذا" .
"رد المحتار" (17/ 104):
"( ويكون الكسب بينهما ) على ما شرطا مطلقا في الأصح؛ لأنه ليس بربح بل بدل عمل فصح تقويمه (وكل ما تقبله أحدهما يلزمهما ) وعلى هذا الأصل ( فيطالب كل واحد منهما بالعمل ويطالب ) كل منهما (بالأجر ويبرأ ) دافعها ( بالدفع إليه ) أي إلى أحدهما (والحاصل من) أجر (عمل أحدهما بينهما على الشرط) ولو الآخر مريضا أو مسافرا أو امتنع عمدا بلا عذر لأن الشرط مطلق العمل لا عمل القابل: ألا ترى أن القصار لو استعان بغيره أو استأجره استحق الأجر بزازية.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


