| 87280 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مرحومہ کی ایک بیٹی کے پاس اس کے میکے کی طرف سے کچھ لوگوں نے زیورات کی صورت میں امانتیں رکھ وائیں تھیں،مرحومہ کے داماد نے اپنی اہلیہ کو بتاکروہ زیورات جو کہ لوگوں کی امانتیں تھیں بیچ کر پیسے اپنے استعمال میں لائے اورزیورات جن لوگوں کے تھے ان کو بتایاتک نہیں ۔تواب پوچھنایہ ہےکہ
١١۔کیا اس بیٹی کو بھی ترکہ میں شامل کیاجائے گا؟
۲۔کیا اس بیٹی سے تحریرمیں لکھوایاجائے کہ وہ وراثت اورترکے کے حصے سے دستبردارہوتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ مرحومہ کی مذکورہ بیٹی کے لیے ہرگز یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اپنے خاوند کو امانت کے زیورات بیچنے کی اجازت دیتی۔ اس نے اور اس کے خاوند نے ایسا کر کے امانت میں خیانت کی ہے، اور ان پر زیورات کی قیمت زیورات کے مالکوں کو واپس کرنا لازم ہے۔ تاہم، اس کے اس عمل کی وجہ سے اسے والدہ کی میراث سے محروم نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا والدہ کی میراث اسے ملے گی۔ اس کےمیراث سے روکنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ بغیر رضامندی کے زبردستی کسی کو اپنے حق سے دستبردار کرانا اور اسے محروم کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح کی دستبرداری سے میراث معاف ہوگی۔
حوالہ جات
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
قال الطيبي رحمه الله تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها.
وفيه أیضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
وفی المشکوة:
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ. رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی. ( ص: ۲۵۵)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند.
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم. (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
وفی تكملة حاشية رد المحتار - (2 / 208)
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لأن الارث جبري لا يصح تركه.
وفی غمز عيون البصائر - (3 / 354)
قوله لو قال الوارث تركت حقي إلخ اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا
لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصحِ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
23/10/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


