| 86841 | وقف کے مسائل | قبرستان کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مسلمانوں کے ایک قبرستان پر تین اطراف سے گھروں کی پشت کی جانب سے ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔ اور چوتھی طرف قبرستان کے سامنے جہاں کئی دہائیوں سے ایک چھوٹی سی جنازہ گاہ ہوتی تھی وہاں مسجد تعمیر کر دی گئی ہے،یہ مسجد معلوم قبریں مہندم کر کے تعمیر کی گئی ہے پھر قبرستان کا اگلا دروازہ بند کر کےراستہ کے درمیان میں مسجد کا محراب بنا دیا گیا ہے تاکہ مسمار کرنے پہ لوگوں کو اشتعال میں لایا جاسکے۔ اور باہر کی طرف چھوٹی سی دکان بنا دی گئی ہے تاکہ عام عوام راستہ بھول جائے۔ اسی طرح قبرستان کے پچھلے داخلی راستے کو بھی کسی شخص نے مسدود کر کے اس جگہ کو اپنے گھر میں شامل کر رکھا ہے۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ قبروں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف سے مسجد کو توسیع دی جارہی ہے تو دیگر اطراف سے مکانات کی نکاسی آب کے پائپ وغیرہ بھی قبرستان سےگزارے جا رہے ہیں۔ نیز اطراف میں واقع مکانات کی چھتوں کو قبرستان کی طرف وسعت دے کر مکانات کا رقبہ غاصبانہ طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ سب کام قبرستان میں مدفون مسلمانوں کے لواحقین واہل خاندان کی اجازت کے بغیر اور بنا ان کے علم میں لائے ہو رہے ہیں۔ لواحقین کو قبرستان تک رسائی کے لیے مسجد اور وضو خانہ و استنجا گاہ سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قبرستان تک پہنچنے کا اور کوئی راستہ نہیں، قبرستان تک رسائی میں مشکلات کھڑی کر دی گئی دی ہیں جس کی وجہ سے اب وہاں کسی اورمسلمان میت کی تدفین بھی مشکل ہو گئی ہے،یہ اس لیے کیاگیاہے تاکہ نہ تو عام مسلمان میں سے کوئی قبرستان آئے اور نہ وہاں کوئی نئی قبر بنے۔
١۔اس صورتحال کے متعلق شریعت محمدیہ اسلامیہ کا کیا حکم ہے ؟کیا قبرستان کی زمین کا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال جانا ہے ؟
۲۔کیا قبروں کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری ہے؟
۳۔کیا قبرستان کا راستہ متذکرہ بالاصورت میں مسدود کیا جا سکتا ہے ؟
۴۔اگر نہیں تو موجودہ صورت حال میں قبرستان تک رسائی کے لیے الگ راستہ کیسے نکالاجائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ ایسا وقف قبرستان جس میں مردے دفن کیے جا رہے ہوں، کسی بھی اور مقصد، حتیٰ کہ مسجد کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ قبرستان کی زمین تدفین کے لیے وقف ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور مقصد کے لیے۔ لہٰذا جنازہ گاہ اور قبریں مہندم کر کے مسجد تعمیر کرنا، راستے میں محراب بنانا، قبرستان کے اگلے اور پچھلے راستوں کو مسدود کرکے وضو خانوں، استنجا خانوں اور گھروں میں شامل کرنااور قبرستان تک رسائی میں مشکلات پیدا کرنا، مکانات کی چھتوں کو قبرستان کی طرف وسعت دینا وغیرہ سب کام شرعاً ناجائز ہیں، جن سے اجتناب لازم ہے۔
۲۔ یہ سب کام وقف قبرستان میں ناجائز ہیں، چاہے قبروں کے اولیاء ان کی اجازت بھی دے دیں، اس لیے کہ وقف قبرستان لوگوں کی ملکیت میں نہیں ہوتا تا کہ ان کی اجازت معتبر سمجھی جائے،بلکہ اللہ تعالی کی ملکیت میں ہوتاہے۔
۳۔متذکرہ بالاصورت میں قبرستان کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں لکھا جا چکا ہے۔
۴۔ قبرستان تک رسائی کے لیے الگ راستہ نکالنے کے لیے مذکورہ تجاوز کرنے والے لوگوں سے پہلے مذاکرات کیے جائیں اور علاقے کے معززین کو درمیان میں ڈال کر گفت و شنید کے ذریعے متعلقہ تعمیرات ہٹا کرقبرستان کا راستہ خالی کرنے کی کی کوشش کی جائے، اگروہ اس طرح نہ مانیں تو عدالت کا سہارا لے کر قبرستان کا راستہ خالی کروایاجائے ۔
حوالہ جات
وفی رد المحتار على الدر المختار:
مراعاة غرض الواقفين واجبة.( فصل في المصادقة على النظر،ج:4،ص:445)
الهندية،(2/362): دارالفكر، بيروت:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً و وقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، و الأصحّ أنّه لايجوز، كذا في الغياثية."
و فی رد المحتار: إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة اھ(4/ 366)
فی الدر المختار :
(وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا
يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ (4/ 338)۔
و فیہ ایضا: (وأما) الاستبدال ولو للمساكين آل (بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي) درر اھ (4/386)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 401)
إذا بنى مسجدا في طريق المسلمين بغير أمر السلطان فعطب بحائطه فهو ضامن في قول أبي حنيفة وكذلك في قول أبي يوسف إذا كان في طريق الأمصار حيث يكون تضييقا أو إضرارا.
مسند أحمد مخرجا (3/ 178)
قال ابن نمير: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، طوقه يوم القيامة إلى سبع أرضين» قال ابن نمير: «من سبع أرضين»
مجلة الأحكام العدلية (ص: 236)
المادة (1223) للمارين في الطريق العام حق الدخول في الطريق الخاص عند كثرة الازدحام فلا يسوغ لأصحاب الطريق الخاص أن يبيعوه بالاتفاق أو يقتسموه بينهم أو يسدوا مدخله.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 235)
المادة (1214) ترفع الأشياء المضرة بالمارين ضررا فاحشا ولو كانت قديمة كالبروز الواطئ وكذا الغرفة الدانية. انظر المادة الساب
مجلة الأحكام العدلية (ص: 236)
مادة (1224) يعتبر القدم في حق المرور وحق المجرى وحق المسيل. يعني تترك هذه الأشياء وتبقى على وجهها القديم الذي كانت عليه حيث إنه بحكم المادة السادسة يبقى الشيء القديم على حاله ولا يتغير ما لم يقم دليل على خلافه. أما القديم المخالف للشرع الشريف. فلا اعتبار له يعني أن الشيء المعمول بغير صورة مشروعة في الأصل لا اعتبار له ولو كان قديما.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11/7/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


