| 85300 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
یہ سوال ملک ماریشس سے آیا ہے۔ شوہر کی عمر 55 سال ہے، اور وہ چھ سال پہلے مسلمان ہوا، باقی 49 سال ہندو مذہب میں گزارے ہیں۔ والدہ اب بھی ہندو مذہب پر ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان کبھی کبھار بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ میں آپ کی ماں کی خدمت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ہندو ہیں اور میں اللہ اور رسول کی ماننے والی ہوں۔
چونکہ شوہر نے چھ سال پہلے اسلام قبول کرنے کے بعد بیوی سے دوبارہ نکاح کیا تھا، مگر وہ اب تک دین پر مکمل عمل پیرا نہیں ہوا۔ جیسے کہ وہ صرف جمعہ کی نماز پڑھتا ہے اور دین کے متعلق، مثلاً نکاح و طلاق وغیرہ کے احکامات سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا۔ اس کی بیوی اسے دین پر مکمل عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتی تھی، جس پر دونوں کے درمیان بحث ہوتی۔ شوہر جواباً کہتا کہ جب میرا دل چاہے گا، تو سیکھ لوں گا اور کر لوں گا۔ اس دوران غصے میں شوہر بیوی کو طلاق وغیرہ کی دھمکی بھی دے دیتا تھا، جس پر بیوی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی تھی۔اسی طرح کے ایک موقع پر، شوہر نے غصے میں بیوی سے کہا: (Take millions of talaq and go) لاکھوں طلاق لو اور چلی جاؤ۔ بیوی نے بھی اقرار کیا کہ اس نے یہ الفاظ سنے ہیں، لیکن شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی۔ شوہر دین کے مسائل سے لاعلم ہے اور اس کی زندگی کا زیادہ تر حصہ ہندو مذہب میں گزرا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
راجح قول کے مطابق "لاکھوں طلاق لو" جیسے کلمات صریح الفاظ میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان سے بغیر نیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور یہ بات شوہر کو بھی معلوم ہوگی کہ یہ الفاظ طلاق کے ہیں، اسی لیے اس نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب موجودہ حالات میں حلالہ کے بغیر میاں بیوی میں نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی نیا نکاح۔
حلالہ یہ ہے کہ شوہر کے تین طلاق دینے کے بعد بیوی عدت گزارے اور اس کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کرے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرے، پھر اگر وہ شوہر فوت ہو جائے یا اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت اور اسلامی اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے بوڑھے لوگوں کی خدمت کرنا باعثِ سعادت ہے۔ اسلام بوڑھے لوگوں کی خدمت اور تعظیم کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ البتہ، اگر معمر کافر کی خدمت کسی اسلامی اصول کی خلاف ورزی کا باعث بنے یا اس کی خدمت میں کوئی ایسی چیز شامل ہو جو شریعت کے خلاف ہو، تو مسلمان کو اس خلافِ اسلام چیز سے بچتے ہوئے خدمت کرنی چاہیے۔ اور موقع ملے تو کافر کو اسلامی تعلیمات کی دعوت بھی دینا چاہیے اور اپنی خدمت اور اخلاق سے اسے دینِ اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (5/ 365):
ولو قال: خذي طلاقك فقالت أخذت يقع، كذا اخرجي إن شئت، ونوى فقالت شئت يقع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 248):
(قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. قلت: ومنه في عرف زماننا: تكوني طالقا، ومنه: خذي طلاقك فقالت أخذت، فقد صرح الوقوع به بلا اشتراط نية كما في الفتح، وكذا لا يشترط قولها أخذت.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 270):
وفي فتح القدير لو قال لها خذي طلاقك فقالت أخذت اختلف في اشتراط النية وصحح الوقوع بلا اشتراطها .
وظاهره أنه لا يقع حتى تقول المرأة أخذت ويكون تفويضا وظاهر ما قدمناه عن الخانية خلافه، وفي البزازية معزيا إلى فتاوى صدر الإسلام والقاضي لا يحتاج إلى قولها أخذت.
الفتاوى البزازية (2/ 45):
وفي التعويذ خذي طلاقك أو وهبتك طلاقك أو أقرضتك طلاقك يقع.
الفتاوى البزازية (2/ 35):
قال لها خذي طلاقك فقالت أخذت وقع ولا يحتاج إلى النية في الأصح وفي فتاوى صدر الإسلام والقاضي لا يحتاج إلى قولها أخذت.
فتاوى قاضيخان (1/ 222):
الفصل الأول صريح الطلاق وما يقع به واحدة أو أكثر رجل قال لامرأته طلقتك وأنت مطلقة أو شئت طلاقك أو رضيت طلاقك أو أوقعت عليك الطلاق أو قال خذي طلاقك او قال وهبت لك طلاقك ولم ينو شيئاً يقع طلاق واحد.
الفتاوى الهندية (1/ 383):
ولو قال لها خذي طلاقك يقع من غير نية كذا ههنا كذا في المحيط.
الفتاوى الهندية (1/ 359):
رجل قال لامرأته: خذي طلاقك فقالت أخذت يقع الطلاق وفي العيون شرط النية والأصح أنها ليست بشرط.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 211):
ولو قال لها: خذي طلاقك يقع من غير نية كذا هاهنا.
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱/۱۵۱):
ان لم یعرفا معنی اللفظ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح فہذہ جملۃ مسائل الطلاق والعتاق والتدبیر والنکاح والخلع والابراء عن الحقوق والبیع والتملیک فالطلاق والعتاق والتدبیر واقع فی الحکم ذکرہ فی عتاق الاصل فی باب التدبیر واذا عرف الجواب فی الطلاق والعتاق ینبغی ان یکون النکاح کذلک لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلایشترط فیما یستوی فیہ الجد والھزل بخلاف البیع ونحو ذلک .
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين (3/ 213):
لأحمد والترمذي وابن حبان في صحيحه «ليس منا من لم يوقر الكبير ويرحم الصغير ويأمر بالمعروف وينهى عن المنكر» (حديث صحيح رواه أبو داود والترمذي)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3114):
وعن أنس - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «ما أكرم شاب شيخا من أجل سنه، إلا قيض الله له عند سنه من يكرمه» ". رواه الترمذي.
تفسير البغوي - إحياء التراث (3/ 588):
وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا، أي بالمعروف، وهو البر والصلة والعشرة الجميلة، واتبع سبيل من أناب إلي، أي دين من أقبل إلى طاعتي وهو النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه.
قال عطاء عن ابن عباس: يريد أبا بكر وذلك أنه حين أسلم أتاه عثمان وطلحة والزبير وسعد بن أبي وقاص وعبد الرحمن بن عوف، فقالوا له: قد صدقت هذا الرجل وآمنت به؟ قال: نعم هو صادق فآمنوا به ثم حملهم إلى النبي صلى الله عليه وسلم حتى أسلموا فهؤلاء لهم سابقة الإسلام أسلموا بإرشاد أبي بكر، قال الله تعالى: واتبع سبيل من أناب إلي، يعني أبا بكر، ثم إلي مرجعكم فأنبئكم بما كنتم تعملون، وقيل:نزلت هاتان الآيتان في سعد بن أبي وقاص وأمه، وقد مضت القصة وقيل: الآية عامة في حق كافة الناس.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


