03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالک کے لیے اسکی زمین پر دکان بنوا کر کم کرایہ پر لینا اور آگے زائد کرایہ پر دینا
86163اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

دکان کی ایک جگہ (زمین) پڑی تھی۔ زمین کے مالک کو ہم نے کہا کہ یہ دکان بنوا دو، ہم آپ سے کرایہ پر لیں گے۔ اس نے کہا کہ ہمارےپاس بنانے کی استطاعت نہیں ہے، آپ خود بنائیں۔ اس وقت نزدیکی دکانوں کا کرایہ تین ہزار روپے چل رہا تھا۔ ہم نے کہا کہ ہم دکان خود بناتے ہیں، جو پیسہ لگے گا اس میں سے تین ہزار روپے ماہوار کاٹیں گے۔ جب تک یہ پیسہ ختم نہ ہوگا، یہی تین ہزار روپیہ ماہوار کرایہ چلے گا۔

دوسری صورت یہ تھی کہ لاگت کی بقایا رقم جب مالک ادا کر دے تو پھر اس وقت موجود معروف کرایہ وصول کرے گا۔ دکاندار کو نقصان ہو رہا تھا، دکان چل نہیں رہی تھی۔ پھر اس نے یہ دکان کسی اور کو کرائے پر دے دی۔ خود زیادہ وصول کر رہا ہے جبکہ دکان کے ایڈوانس سے تین ہزار روپے ماہانہ کٹ رہا ہے۔

یہ دکان چچا اور بھتیجے میں مشترک تھی۔ اب مکمل طور پر بھتیجے نے خرید لی ہے۔ اس سے بھی یہی بات ہوئی کہ آپ بقایا رقم دے دیں تو ہم آپ کے حوالے دکان کر دیں گے، اور اگر بقایا رقم نہیں دیتے تو تین ہزار روپے ماہانہ کٹتا رہے گا۔ جس آدمی کو آگے دکان دے چکے ہیں، اس سے وصول کرتے رہیں گے جو کہ تین ہزار سے زیادہ ہے۔

مالک نے شروع میں آمادگی ظاہر کی، اب اسے کسی نے بتایا کہ یہ تو سود ہے، تو وہ کہتا ہے کہ پھر جو بھی کرایہ مل رہا ہے، مجھے ملنا چاہیے جبکہ دکان کی بقایا رقم وہ ادا نہیں کر رہا۔

آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اس معاملے کی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ دکاندار کا تین ہزار روپے کٹوانا اور نئے کرایہ دار سے زیادہ وصول کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ یہ معاملہ جائز ہے یا ناجائز؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جتنی رقم آپ کی تعمیر پر لگی ہے، وہ مالک پر آپ کا قرض ہے، جس کی وصولی آپ ہر ماہ تین ہزار کی شکل میں کرایہ سے کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ سودی ہے، اس لیے کہ معروف کرایہ سے کم جو لیا جا رہا ہے، وہ اسی قرض کی بنیاد پر ہے اور قرض کی بنیاد پر کوئی نفع لینا شرعاً سود ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ سودی ہے۔

آپ چونکہ کرایہ دار ہیں اور کرایہ دار جب کسی قسم کے اضافے کے بغیر دکان آگے کسی کو کرایہ پر دیتا ہے تو اس کے لیے کسی قسم کا اضافہ لینا جائز نہیں ہوتا۔ لہٰذا مسئولہ معاملہ بھی جائزنہیں ہے۔لہٰذا اس کو ختم کرکے دکان مالک کے

حوالے کی جائے اور پھر وہ جس کو چاہے، معروف کرایہ پر دے۔

مالک کو چاہیے کہ آپ کی رقم فوری واپس کرے۔ اور اگر وہ نادار ہونے کی وجہ سے واپس نہ کر سکے تو آپ انہیں مہلت دیں، یا پھر معروف پورے کرایہ پر ان کی دکان کرایہ پر لیں اور خود چلائیں۔ اور اگر خود نہیں چلا سکتے تو اس میں کوئی اضافہ کریں، مثلاً فرنیچر وغیرہ لگوا لیں اور آگے کسی کو زائد کرایہ پر دیں۔ معروف کرایہ مالک کا ہوگا جو آپ قرض میں محسوب کریں گے، اور باقی جو اضافی کرایہ ہوگا وہ آپ نے دکان میں جو فرنیچر لگوایا ہے، اس کا ہوگا، اور  آپ کے لیے جائز ہوگا۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (14/ 35):

نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن قرض جر منفعة» وسماه ربا.

النتف فی الفتاوی :

"أنواع الربا: وأما الربا فهو علی ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الدیون، والثالث في الرهون. الربا في القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یوٴجره أو یهبه…، ولو لم یکن سبب ذلک (هذا ) القرض لما کان (ذلک) الفعل، فإن ذلک رباً، وعلی ذلک قول إبراهیم النخعي: کل دین جر منفعةً لا خیر فیه."

بدائع الصنائع (4/ 206):

 وللمستأجر في إجارة الدار وغيرها من العقار أن ينتفع بها كيف شاء بالسكنى، ووضع المتاع، وأن يسكن بنفسه، وبغيره، وأن يسكن غيره بالإجارة، والإعارة.إلا أنه ليس له أن يجعل فيها حدادا، ولا قصارا، ونحو ذلك مما يوهن البناء لما بينا فيما تقدم، ولو أجرها المستأجر بأكثر من الأجرة الأولى فإن كانت الثانية من خلاف جنس الأولى طابت له الزيادة، وإن كانت من جنس الأولى لا تطيب له حتى يزيد في الدار زيادة من بناء أو حفر أو تطيين أو تجصيص.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

4/7/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب