03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اکیس سال قبل 2003ء میں بیچے گئے سونے کی کون سی قیمت ادا کی جائے گی ؟ (جدید)
87793خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

آج سے اکیس سال پہلے 2003ء میں راشد محمود ولدمحمد رمضان سکنہ سوئی پوٹھ شریف نے محمد آثار ولد محمد خان سکنہ سوئی پوٹھ شریف کے ہاتھ ساڑھے پانچ تولے سونا فروخت کیا، اُس وقت سونے کی کل مالیت ساٹھ ہزار روپے علاوہ کاٹ طے ہوئی، محمد آثار نے راشد محمود کو سونے کی آدھی رقم یعنی تیس ہزار روپے ادا کر دی اور باقی رقم یعنی تیس ہزار روپے دودن بعد دینے کا وعدہ کیا، لیکن حسب وعدہ وہ یہ رقم اس وقت ادانہ کر سکا۔

راشد محمود اس پورے عرصہ میں محمد آثار سے لین دین کلیئر کرنے کے بارے میں کہتارہا، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا، راشد محمود نے ایک مرتبہ پھر محمد آثار سے رابطہ کیا اور اسے بتایا کہ وہ پونے تین تولے سونا اسے واپس کرے یا ادا کی گئی تیس ہزار رقم واپس لے کر ساڑھے پانچ تولہ سونا واپس کرے۔

جبکہ محمد آثار کا موقف یہ ہے کہ وہ وہی بقیہ رقم یعنی تیس ہزار روپے دے گا جو آج سے اکیس سال پہلے بقایا تھے ، گواہان کی موجودگی میں فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ مفتی صاحب سے اس سلسلے میں فتوی لیا جائے گا اور فریقین کو فتوی کی صورت میں دیا گیا فیصلہ قبول ہو گا، اس لیے ہمیں شرعی فتوی چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ راشدمحمود اور محمد آثار کے درمیان2003ءمیں خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہو چکا تھا اور خریداری کا معاملہ مکمل ہو جانے سے شرعاً سونا محمد آثار کی ملکیت میں آچکا تھا اور راشد محمود کا اس سے تعلق ختم ہو کر ثمن (خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان طے شدہ قیمت) میں اس کا حق ثابت ہو چکا تھا، اس لیے راشد محمود کا محمد آثار کی رضامندی کے بغیر سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں، البتہ چونکہ راشد محمود کے مطالبہ کے باوجود محمد آثار نے بلا عذر ِشرعی تقریبا بائیس سال کے عرصہ تک ٹال مٹول سے کام لیا، یہاں تک کہ اس طویل عرصہ کے دوران روپے کی قیمت بہت کم ہو گئی اور سونے کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی، تو اب اگر راشد محمود کو وہی تیسں ہزار روپیہ واپس کیا جائے تو اس میں اس کا یقینا نقصان ہے ، ایسی صورتِ حال میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رائج الوقت کرنسی کی قیمت بہت زیادہ گِر جائے تو وہ مُلحق بالکساد (کھوٹے ہونے کی وجہ سے جس کے لین دین کا رواج ختم ہو چکا ہو) شمار ہوتی ہے اور پھر اس پر احکام بھی کاسد یعنی منسوخ شدہ کرنسی والے جاری ہوتے ہیں  اور  کاسد کرنسی کی صورت میں دَین کی ادائیگی مفتی بہ قول(هذا قول أبي يوسف رحمه الله وعلیہ الفتوی كما صرح ابن عابدين في رد المحتار) کے مطابق اس کی  خریدفروخت کے دن کی قیمت کے مطابق کی جاتی ہے۔

 رہی یہ بات کہ کرنسی کس حد تک گرِ جائے تو اس کو ملحق بالکساد شمار کیا جائے گا تو حدیثِ پاک کی عبارت "الثلث کثیر"سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کرنسی کی قیمت (حقیقی مالیت /فیس ویلیو) ایک تہائی تک باقی ہے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا اور دیون وغیرہ میں اسی مقدار کے مطابق ادائیگی واجب ہو گی، البتہ اگر کرنسی کی قیمت ایک تہائی بھی باقی نہ رہے، بلکہ اس سے بھی کم مالیت رہ جائے تو اس کو ملحق بالکساد قرار دیا جاسکتاہے، باقی کرنسی کی مالیت کم ہونے کا اندازہ مختلف چیزوں کی خریداری سے لگایا جائے گا، جس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے جتنی چیزیں سو روپے میں آتی تھیں اب اتنی چیزیں تین سو روپے میں بھی نہیں ملتیں، بلکہ اس سے زیادہ میں ملتی ہیں،  اس سے  معلوم ہوا کہ کرنسی کی مالیت ایک تہائی سے کم رہ چکی ہے اور اس کا صحیح اندازہ سی پی آئی (Consumer Price Index) سے لگایا جاسکتاہے، چنانچہ سوال میں ذکر کی گئی صورت میں سی پی آئی کے ذریعہ 2003ء میں  تیس ہزار روپے کی مالیت کا اندازہ لگایا گیا تو2025ء میں اس کی مالیت کے برابر رقم تقریباً 289,082.73روپے بنتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جتنی چیزیں 2003ء میں تیس ہزار روپے میں خریدی جا سکتی تھیں، آج 2025ء میں 289,082.73روپے میں ملیں گی اور اس اعتبار سے پاکستانی روپیہ کی مالیت تقریباً نو گنا گر کر چیزوں کی قیمت نو گنا بڑھ چکی ہے اور کرنسی کی قیمت واضح طور پر ایک تہائی سے بھی بہت کم رہ گئی ہے، کیونکہ ایک تہائی کے اعتبار سے 2003ء میں تیس ہزار روپے کے عوض ملنے والی چیزیں آج زیادہ سے زیادہ نوے ہزار میں ملنی چاہیے تھیں۔سی پی آئی (CPI)کے مطابق گزشتہ بائیس سالوں میں ہر سال کرنسی کی قیمت کم ہونے کی تفصیل ساتھ منسلک ہے۔

باقی ایسی صورت میں کرنسی کی قیمت کا سونے یا ڈالر کے حساب سے اندازہ نہیں لگایا جائے گا، کیونکہ سونےیا ڈالر کے حساب سے ادائیگی کی صورت میں ادا کرنے والے فریق( فروخت کنندہ)  کو نقصان ہو گا، اس لیے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سی پی آئی کے مطابق کرنسی کی قیمت گر جانے کی وجہ سے جتنا قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کے حساب سے 289,082.73 روپے کی مالیت کے برابر سونا یا روپیہ کے علاوہ کوئی اور کرنسی ریال یا ڈالر وغیرہ دے دیے جائیں، دَین کی جنس سے اضافی رقم ادا کرنے کی صورت میں سود کا شبہ آئے گا، اس لیے احتياطا خلافِ جنس سے دَين ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس پر عمل کرنے میں کسی فریق کی حق تلفی نہیں،بلکہ اس میں جانبین کی رعایت کے ساتھ احتیاط کا پہلو بھی غالب ہے۔   

نوٹ: یادر ہے کہ اکابر اہلِ افتاء نے عام حالات میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کے اس قول پر فتوی نہیں دیا۔ تا کہ سودکا در وازہ نہ کھلے، لیکن بعض نادر حالات جیسے کرنسی کی قیمت میں غیر معمولی اور بہت زیادہ فرق آجانے کی صورت میں اصل جنس کی مقدار کے مطابق ادائیگی لازم کرنے میں چونکہ دائن (اپنا حق وصول کرنے والا شخص، خواہ وہ فروخت کنندہ ہو تو یا قرض دہندہ یا کوئی اور جیسےموجر)کے ساتھ واضح طور پر نا انصافی ہے، اس لیے ہمارے خیال میں جہاں تا خیر مدیون کے ٹال مٹول اور کو تاہی کی وجہ سے ہو وہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ ایسی حالت میں تنگ دست شخص کو قرآن کریم کی آیتِ مبارکہ { وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ} [البقرة: 280]کے تقاضا کے مطابق  بغیر کسی اضافی رقم کے مہلت دی جائے گی۔

حوالہ جات

مختصر صحيح الإمام البخاري (95/2) مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض: عن أبي عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي؛ فليتبع ".

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (306/6) دار الكتب العلمية، بيروت:

وفي «المنتقى» : إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت، قال أبو يوسف رحمه الله : قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم يوم وقع البيع ويوم وقع القبض والذي ذكرنا من الجواب في الكساد فهو الجواب والانقطاع إذا انقطعت الدراهم عن أيدي الناس قبل القبض فسد المبيع عند أبي حنيفة.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (219/6) دار الكتاب الإسلامي:

وفي البزازية معزيا إلى المنتقى غلت فلوس القرض أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أو لا ليس عليه غيرها، وقال الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة بالعزو إلى المنتقى.

الفتاوى البزازية (46/5) محمد بن محمد الخوارزمي الشهير بالبزازي (المتوفى: 827هـ):

وفي المنتقي غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أولاً ليس عليه غيرها وقال الثاني ثانياً عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (533/4) دار الفكر - بيروت

مطلب مهم في أحكام النقود إذا كسدت أو انقطعت أو غلت أو رخصت ]

(قوله : قلت و مما يكثر وقوعه إلخ) أعلم أنه إذا اشترى بالدراهم التي غلب غشها أو بالفلوس ولم يسلمها للبائع ثم كسدت بطل البيع والانقطاع عن أيدي الناس كالكساد ويجب على المشتري رد المبيع لو قائما ومثله أو قيمته لو هالكا، إن لم يكن مقبوضا فلا حكم لهذا البيع أصلا وهذا عنده وعندهما لا يبطل البيع؛ لأن المتعذر التسليم بعد الكساد، وذلك لا يوجب الفساد لاحتمال الزوال بالرواج لكن عند أبي يوسف تجب قيمته يوم البيع، وعند محمد يوم الكساد وهو آخر ما تعامل الناس بها وفي الذخيرة الفتوى على قول أبي يوسف. وفي البزازية عن المنتقى غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني، أولا ليس عليه غيرها، وقال: الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة عن المنتقى، ونقله في البحر وأقره، فحيث صرح بأن الفتوى عليه في كثير من المعتبرات، فيجب أن يعول عليه إفتاء وقضاء، ولم أر من جعل الفتوى على قول الإمام هذا خلاصة ما ذكره المصنف - رحمه الله تعالى - في رسالته بذل المجهود في مسألة تغير النقود عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبويوسف: قولي في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض اہ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف.

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص:61) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

 ( فإن قلت ) يشكل على هذا ما ذكر في مجموع الفتاوى من قوله ولو غلت أو رخصت فعليه رد المثل بالاتفاق انتهى (قلت) لا يشكل لأن أبا يوسف كان يقول أولا بمقابلة الإمام ثم رجع عنها وقال ثانيا والواجب عليه قيمتها كما نقلناه فيما بسق عن البزازيةوصاحب الخلاصة والذخيرة فحكاية الاتفاق بناء على موافقته للامام أولا كما لا يخفى والله تعالي أعلم وقد تتبعت كثيرا من المعتبرات من كتب مشايخنا المعتمدة فلم أر من جعل الفتوى على قول أبي حنيفة رضي الله عنه بل قالوا: به كان يفتي القاضي الإمام وأما قول أبي يوسف فقد جعلوا الفتوى عليه في كثير من المعتبرات فليكن المعول عليه انتهى كلام الغزى رحمه الله ثم أطال بعده في كيفية الإفتاء والحكم حيث كان للإمام قول وخالفه صاحباه أو وافقه أحدهما إلى آخر الزمان وأيد قول أبي يوسف الثاني .

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص: 62) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

وقال أبو الحسن لم تختلف الرواية عن أبي حنيفة في قرض الفلوس إذا كسدت أن عليه مثلها قال أبويوسف عليه قيمتها من الذهب يوم وقع القرض في الدراهم التي ذكرت أصنافها يعني البخارية والطبرية واليزيدية وقال محمد قيمتها في آخر نفاقها. ......... بقي الكلام فيما إذا نقصت قيمتها فهل للمستقرض رد مثلها وكذا المشتري أو قيمتها؟ لا شك أن عند أبي حنيفة يجب ردمثلها وأما على قولهما فقياس ما ذكروا في الفلوس أنه يجب قيمتها من الذهب يوم القبض عند أبي يوسف ويوم الكساد عند محمد والمحل محتاج إلى التحرير.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (157/7) دار الفكر ، بيروت:

 (قوله ولو استقرض فلوسا فكسدت عند أبي حنيفة - رحمه الله - يرد مثلها ) عددا اتفقت الروايات عنه بذلك، وأما إذا استقرض دراهم غالبة الغش فقال أبو يوسف في قياس قول أبي حنيفة: عليه مثلها، ولست أروي ذلك عنه، ولكن الرواية في الفلوس إذا أقرضها ثم كسدت.

وقال أبو يوسف عليه قيمتها من الذهب يوم القرض في الفلوس والدراهم، وقال محمد: عليه قيمتها في آخر وقت إنفاقها.

 تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (143/4) المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق، القاهرة:

 (قوله: في المتن ولو كسدت إلخ) وإنما قيد بالكساد احترازا عن الرخص والغلاء لأن الإمام الإسبيجابي ذكر في شرح الطحاوي وأجمعوا أن الفلوس إذا لم تكسد، ولكن غلت قيمتها أو رخصت فعليه مثل ما قبض من العدد قال الشيخ أبو الحسن الكرخي في مختصره وإذا استقرض الرجل من رجل دراهم بخارية أو طبرية أو يزيدية أو فلوسا في الحال التي تنفق فيها ثم كسدت فإن بشر بن الوليد قال سمعت أبا يوسف قال عليه في قياس قول أبي حنيفة مثلها ولست أروي ذلك عنه، ولكن الرواية في الفلوس إذا أقرضها ثم كسدت قال أبو الحسن الكرخي لم تختلف الرواية عن أبي حنيفة في قرض الفلوس إذا كسدت أن عليه مثلها قال بشر وقال أبو يوسف عليه قيمتها من الذهب يوم وقع القرض في الدراهم التي ذكرت لك أصنافها وقال محمد عليه قيمتها إذا كسدت في آخر وقت نفاقها قبل أن تكسد.

مجمع الضمانات (ص: (117) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

فلو غصب فلوسا فكسدت لم استهلكها عند أبي حنيفة عليه مثل التي كسدت، ولا يضمن قيمتها، ولا مثلها من الذي أحدثوه، وعند أبي يوسف عليه قيمتها من الذهب أو الفضة يوم الغصب وقال محمد عليه القيمة في آخر يوم كانت رائجة فكسدت لكن والدي - رحمه الله تعالى - كان يفتي بقول محمد رفقا بالناس فنفتي كذلك، والعددي كالفلوس من غير تفاوت من الصغرى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (537/4) دار الفكر – بيروت:

بقي هنا شيء وهو أنا قدمنا أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض إذا كانت فلوسا أو غالبة الغش، وإن كان فضة خالصة أو مغلوبة الغش تجب قيمتها من الذهب يوم البيع على ما قاله الشارح، أو مثلها على ما بحثناه وهذا إذا اشترى بالريال أو الذهب، ممايراد نفسه، أما إذا اشترى بالقروش المراد بها ما يعم الكل كما قررناه، ثم رخص بعض أنواع العملة أو كلها واختلفت في الرخص، كما وقع مرارا في زماننا ففيه اشتباه فإنها إذا كانت غالبة الغش، وقلنا تجب قيمتها يوم البيع، فهنا لا يمكن ذلك؛ لأنه ليس المراد بالقروش نوعا معينا من العملة حتى نوجب قيمته.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (95/4) دار الفكر – بيروت:

( قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود

يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع، فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا ، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي . اه. قلت: وهذا ما قالوا إنه مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر . قال : ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديار نالمداومتهم للعقوق.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/ذوالحجة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب