03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام سے نماز نہ پڑھانے کی تنخواہ کاٹنا
87719وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

3۔اگر امام کسی شرعی عذر کے بغیر نماز کے وقت موجود نہ ہو اور مؤذن نماز پڑھا ئے تو کیا اس نماز کی امام کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے مؤذن کو دے سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس حوالے سے مسجد کی انتظامیہ اور امام کے درمیان جو معاہدہ طے ہو،فریقین پر اس کے مطابق عمل  لازم ہوگا،یعنی اگر معاہدہ میں یہ بات طے ہو کہ بلاعذر امام کے نماز نہ پڑھانے  کی صورت میں امام کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے نماز پڑھانے والے مؤذن کو دی جائے گی تو اس کے مطابق عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

تاہم اس حوالے سےپالیسی بناتے وقت مسجد کی انتظامیہ کو امامت کے منصب کا لحاظ رکھنا چاہیے اور اعتدال پر مبنی ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے کہ مسجد کے امور بھی بحسن وخوبی انجام پائیں اور امام پر بھی غیر ضروری اور بے جا پابندیاں نہ لگائی جائیں،ایسی پالیسی مرتب کرنا جس کے نتیجے میں ایک ملازم اور مسجد کے امام میں کوئی فرق نہ رہے،امامت کے منصب کی توہین ہے،جس سے احتراز ضروری ہے۔

نیز امام صاحب پر بھی لازم ہے کہ وہ منصبِ امامت کے عزت ووقار کا لحاظ رکھیں،اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دیں،تاکہ انتظامیہ اور اہل محلہ کو شکایت کا موقع نہ ملے۔

حوالہ جات

....

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

28/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب