03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کے بعد بیوی کو ساتھ رکھنا
87347طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

مجھے میرے شوہر نے 6 سال قبل ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی تھیں اور اس کے بعد سے مجھے ناجائز طور پر ساتھ رکھا ہوا ہے،میں الحمدللہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہوں تو میرا یہ ماننا ہے کہ طلاق واقع ہوگئی ہے،جبکہ میرے شوہر اہلحدیث مسلک سے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہوئی۔

میرے شوہر کردار کے لحاظ سے بھی اچھے انسان نہیں ہیں اور ان کے باہر کی عورتوں کے ساتھ ناجائز مراسم بھی ہیں،لہٰذا میں اب کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور گناہ  کی اس زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتی ہوں۔

برائے مہربانی قرآن وسنت و احادیث کی روشنی میں تفصیلی فتوی عنایت کردیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟نیز اتنے سالوں سے مجھے اپنے ساتھ رکھنے کے گناہ کا ذمہ دار کون ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صحابہ کرام سے لے کر آج تک جمہور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ،خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتاوی بھی اسی کے مطابق ہیں ،تین طلاقوں کو ایک سمجھنا علمی غلطی ہے جس کی مفصل تردید پر علماء نے مفصل کتابیں لکھی ہیں ،تفصیل کے لئے دیکھیں الطلقات الثلاث ،مولانا سرفراز خان صفد ر رحمہ اللہ  کی ،مسئلہ طلاق ثلاثہ ،مصنف مولانا شفیع اوکاڑوی صاحب اور"طلاق ثلاثہ صحیح ماخذ کی روشنی میں" جس کے مصنف مولانا حبیب قاسمی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند  ہیں ،نیز" فتاوی محمودیہ:" 12\374اور "خیرالفتاوی": 5\30 پر بھی اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے۔

اس لئے اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے کہ آپ کے شوہر آپ کو چھ سال پہلے تین طلاقیں دے چکے تھے تو آپ ان پر اسی وقت حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی تھی،جس کے بعد آپ دونوں کے ذمے ایک دوسرے سے علیحدگی لازم تھی،اگر آپ نے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برتی ہے تو اتنا طویل عرصہ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر آپ بھی گناہ گارہوئی ہیں اور اگر شوہر نے آپ کو زبردستی ساتھ رکھا ہوا تھا اوراس سے خلاصی کی کوئی صورت آپ کو سمجھ نہیں آرہی تھی تو پھر اس  کا وبال شوہر کے ذمے ہوگا۔

بہرحال اب فوری طور پر شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے میکے چلی جائیں اور گر شوہر اب بھی آپ کو ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو آپ قانونی تحفظ کے لئے عدالت سے خلع  کی ڈگری کے لئے رجوع کرلیں۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]

"صفوة التفاسير" (1/ 131):

"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .

{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".

"البحر الرائق " (3/ 257):                                                                                                                                                    

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

03/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب