| 87363 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرے چچا زاد ناصر شریف کی شادی تقریبا ڈیڑھ سال قبل مسمی جویریہ بنت ہارون سے ہوئی،اس ڈیڑھ سال میں میاں بیوی کے درمیان کئی مرتبہ لڑائی جھگڑا بھی ہوا، آخری دفعہ صورت حال یہ ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور شوہر نے بیوی پر تشدد بھی کیا حتی کہ سر بھی دو جگہ سے پھٹ گیا، جب بیوی کے بھائیوں کو اطلاع ملی تو وہ اپنی ہمشیرہ کو لے کر چلے گئے،پھر شوہر اپنے سالے کی دکان پر گیا اور صلح کی کوشش کی تو سالے نے اپنےبہنوئی کو گلے لگایا،اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا، پھر ناصر شریف(شوہر) نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو لانا چاہتا ہوں تو سالے نے کہا کہ ابھی ٹھہر جاؤ،ناصر شریف(شوہر) اپنے گھر گیا اور تیاری کرکے سسرال چلا گیا، سسرال والوں نے دروازہ نہیں کھولا،معاملہ تازہ تھا،ناصر شریف کچھ دیر وہاں کھڑا رہا،اس کے بعد بیوی کا بھائی آیا جس کا نام خرم ہے تو اس نے اچھے طریقے سے ملاقات کی اور اس کو کہا کہ ابھی رہنے دو،لیکن شوہر بضد تھا کہ بیوی کو لےکر جائے گا،لڑکی کے بھائی نے کہا:ابھی عشاء کی نماز و تراویح کے لیے چلتے ہیں تو اس پر سالہ اور بہنوئی مسجد کی طرف چل دیے،راستے میں بہنوئی یعنی ناصر شریف نے کہا کہ دیر ہو جائے گی،میں ابھی بچوں کو لے کر جاؤں گا،اس پر بیوی کے بھائی نے کہا کہ ابھی تو نہیں تو اس پر شوہر ناصر شریف نے بقول بیوی کے بھائی کے کہا:اگر میرے بیوی بچوں کو نہیں بھیجو گے تو پھر میں نے اس گھر میں کبھی نہیں آنا، اس پر سالے نے کہا :ٹھیک ہے،آپ جاؤ،پھر اس کے بعد شوہر ناصر شریف اپنی موٹرسائیکل کی طرف جاتا ہے،اب سالے بہنوئی کے درمیان تقریباً تین کنال کا فاصلہ ہوجاتا ہےاور موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے ناصر شریف کچھ الفاظ کہتا ہے جس میں صالح اور بہنوئی کے درمیان اختلاف ہے،سالے کے بقول تین مرتبہ"طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے" کے الفاظ سنے ہیں،نہ زیادہ نہ کم جو کہ اعلانیہ کہے تھے،جبکہ شوہر کہتا ہے کہ میں نے کہا (میواتی زبان میں) طلاق دے دوں گو ،جس کا اردو میں معنی ہے طلاق دے دوں گا، طلاق دے دوں گا ،طلاق دے دوں گا،تین چار مرتبہ کہے۔
شوہر اپنے کہے اور بہنوئی اپنے سنے ہوئے الفاظ پر قائم ہے اور دونوں قسم اٹھانے کو بھی تیار ہیں،اس کے بعد ناصر شریف وہاں سے چلا جاتا ہے اور لڑکی کا بھائی اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی ہمشیرہ (جویریہ بنت ہارون زوجہ ناصر شریف)سے پوچھا تو ہمشیرہ نے کہا کہ میں نماز پڑھ رہی تھی،میں نے بھی طلاق کے الفاظ سنے ہیں،پھر 15 یا 20 منٹ کے بعد ناصر شریف (شوہر)دوبارہ آتا ہے اور بچوں کا کہتا ہے کہ بچوں کو بھیجا جائے تو سالے نے کہا : کون سے بچے؟آپ کے کوئی بچے نہیں ہیں،اس پر بہنوئی کہتا ہے:کیوں میں نے یہ کہا ہے کہ طلاق دے دوں گا ،طلاق دی تو نہیں ہے،اس پر سالے نے کہا کہ اب شرعی مسئلہ ہوگیا ہے،لہذا کسی عالم دین سے مسئلہ پوچھیں گے،اس کے بعد کو ئی فیصلہ کریں گے، اب اس صورت حال کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ ان کے مابین طلاق واقع ہوگئی ہے؟یا ابھی بھی کوئی صورت گنجائش کی نکلتی ہے کہ یہ آپس میں زوجین کی طرح زندگی گزاریں؟مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے،اس لیے جب وہ خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے سنے یا کوئی ایسا نیک آدمی اسے طلاق کی خبر دے جس کی بات پر اسے اعتماد ہو تو اس کے بعد عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں رہتا،اگرچہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو اور عورت کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔
اس لئے مذکورہ صورت میں اگر بیوی کو اپنے بھائی کی بات پر یقین اور اعتماد ہےکہ وہ اپنی بات میں سچا ہے تواس کے لئے سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ گھر بسانے کی کوئی گنجائش نہیں،کیونکہ بھائی کے بقول وہ اسے تین طلاقیں دے چکا ہے،تاہم چونکہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہے اور عورت کے پاس اس پرشرعی شہادت (کم از کم دو نیک اور عادل مرد یاایک مرد اور دوعورتیں)موجود نہیں،جس کی وجہ دیانتا تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،لیکن قضاء طلاقوں کے وقوع کے لئے شوہر کا اقرار یا بیوی کے پاس شرعی شہادت کا ہونا ضروری ہے،اس لئے قانونی تحفظ کے لئے بہتریہ ہے کہ اولا شوہر کو خوفِ خدا دلا کر آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر حرام کاری میں مبتلا ہونے کے بجائے طلاق کا اقرار کرلے یا پھر کم از کم عورت کو علیحدہ کردے،اگر شوہر اس پر آمادہ نہ ہو تو مہر معاف کرکے یا کچھ مال وغیرہ دے کر اس سے عورت کو آزاد کروایا جائے،اگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اس کا گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اسے اپنے قریب آنے سے باز رکھے،لیکن اگر ہرممکن کوشش کے باوجود عورت کو اس سے چھٹکارا حاصل نہ ہو اور شوہر اسے اپنے پاس رہنے پر مجبور کرے تو پھر ایسی صورت میں اس کا وبال شوہر کے ذمے ہوگا،عورت گناہ گار نہ ہوگی،عورت قانونی تحفظ کے لئے عدالت سے خلع کی ڈگری بھی جاری کرواسکتی ہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 354):
" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر "(1/ 441):
" وفي التتارخانية وغيرها سمعت المرأة من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله لها قتله بالدواء ولا تقتل نفسها وقيل لا تقتله وبه يفتى وترفع الأمر إلى القاضي فإن لم تكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه لكن إن قتلته فلا شيء عليها".
"رد المحتار" (3/ 251):
" والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
06/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


