| 87288 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
زید اپنی بیٹی ہندہ کا نکاح "الف" کیساتھ کرنا چاہتا ہے،لیکن ہندہ کا چچا اور دادا کہہ رہے ہیں کہ آپ تو اپنی بیٹی کا نکاح الف سے کررہے ہیں،لیکن اگر ہم نے یہ رشتہ الف کو دیا تو ہماری بیویوں کو تین طلاق۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر زید اپنی بیٹی کا نکاح "الف" سے کروائے تو ہندہ کے چچا اور دادا کی بیویاں مغلظہ ہوجائیں گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہندہ کے چچا اور دادا کی مرضی کے بغیر زید کے اپنی بیٹی کو الف کے نکاح میں دینے سے ان کی بیویاں مغلظہ نہیں ہوں گی،لیکن اگر زیدکے ساتھ وہ لوگ بھی الف کے ساتھ زید کی بیٹی کا رشتہ کرنے میں شامل ہوئےتو پھر شرط کے پائے جانے کی وجہ سے ان کی بیویوں پر طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 355):
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :
"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
28/شوال1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


