| 88205 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑ ا ہوں، اس وقت بیوی کے ہر مطالبہ کو پورا کرنا میرے ممکن نہیں تھا،بیوی کا مطالبہ تھا کہ مجھے الگ گھر دیا جائے ، پھر اس کے والد نے اسے سمجھایا ، وہ مان گئی اور 10 جولائی کو وہ میرے ساتھ گھر آگئی،پانچ دن تک میرے یہاں رہی، کام میں ٹال مٹول کرتی تھی، گھریلو ذمہ داریاں پہلے کی طرح نہیں نبھاتی تھی، ان وجوہات کی بنا پر گھر میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہے۔ 15جولائی کی صبح کسی کو بتائے بغیر میرے بیٹے کو لے کر اپنے ماں کے گھر چلی گئی ۔ اس کے بعد میں ان کے پیچھے چلا گیا اور اپنے سات ماہ کے بیٹے کو لے کر گھر آ گیا۔ بچہ ماں کا دودھ نہیں پیتا، ڈبے کا دودھ پیتا ہے۔ بچہ ماں کو پہچانتا بھی نہیں اور ہمارے گھر پر بچے کی دادی بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے، بچہ دودھ پی کر خاموش ہو جاتا ہے اور کھیلنے لگتا ہے۔اس دوران میری خالہ نے فون پر بتایا کہ "اُس (بیوی) نے تم پر، تمہاری ماں اور بہنوں پر جھوٹا الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر تشدد کرتے ہیں، خاوند خرچہ نہیں دیتااور علاج نہیں کرواتا، یہ سب جھوٹ بولا ہے،اب وہ واپسی کا کہہ رہی ہےاور اس کی ماں چاہتی ہے کہ اس کے لیے کوئی الگ گھر لے کر دیا جائے اور وہاں بھیجا جائے"۔
تو میں نے غصے میں کہا: "اس طرح کی بیوی، جو خاوند اور اس کی فیملی پر جھوٹے الزام لگاتی ہے اور بغیر اطلاع کے چلی جاتی ہے، ایسی بیوی کو میں نہیں رکھنا چاہتا، میں اسے آزاد کرتا ہوں"۔تو اگر طلاق واقع ہوگئی ہو تو پھر ایسے بچے کو اپنے پاس رکھ کر پالنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ علیحدگی کی صورت میں اولاد کی پرورش کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ بچے کی پرورش کا
سات سال تک ماں کو حق ہوتا ہے، اس کے بعد باپ کواولاد لینے کا حق ملتا ہے، اس عمر سے پہلے باپ کا ماں سے
اولاد زبردستی لے لینا جائز نہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ ماں کو پرورش کا حق اس وقت تک رہتا ہے، جب تک ماں بچے کے کسی غیر محرم سے شادی نہ کرے، اگر ماں بچے کے کسی غیر محرم سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچے کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں بچے کی نانی کو پرورش کا حق ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو حق ملے گا، وہ نہ ہو توبہن کو، اگر وہ نہ ہو تو خالہ کو اور اگر وہ بھی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کردے تو پھوپھی کو حق ملے گا، نیز اگر ان خواتین میں سے کوئی بھی پرورش کے لیے تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں پرورش کا باپ کو حاصل ہو گا۔(مأخوذ از تبویب 83629)
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين ( (3/ 567) دار الفكر-بيروت:
(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 412) دار إحياء الكتب العربية:
يشترط أيضا أن لا تكون متزوجة بغير محرم للصغير۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 254) دار الكتب العلمية:
وفي القنية: الام أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا۔
حاشية ابن عابدين (3/ 557) دار الفكر-بيروت:
(قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المراد كثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب "
لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا ف۔
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


