03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کا سالے سے ” میں نے تمہاری بہن کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی” كہنے سے  طلاق واقع ہونے کا حکم
87897طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

سائل نے گھر والوں کے دباؤ میں آ کر اپنی زوجہ کو طلاق اس طرح دی کہ اپنے سالے (یعنی بیوی کے بھائی) کو فون کر کے کہا: "میں نے تمہاری بہن کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی"۔اس وقت سائل کا سالہ اپنی دکان پر موجود تھااور دکان پر اس کے علاوہ کوئی اور شخص موجود نہ تھا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی کو واپس اپنے ساتھ  رکھنا چاہتا ہےاور بیوی بھی اس پر رضامند ہے، لیکن سائل کو ہر طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ طلاق ہو چکی ہے، لہٰذا اب رجوع یا واپسی کی کوئی صورت نہیں۔

لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے میں  ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا تین طلاقیں  واقع ہوگئی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ  صورت  میں  جب شوہر نے اپنے سالے کو فون کر کے کہا :"میں نے تمہاری بہن کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی"،تو یہ کہتے ہی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،  رجوع جائز نہیں اور تجدیدِ نکاح کی بھی اجازت نہیں ہے۔ عدت کے گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ اگر وہ دوسری جگہ نکاح کرتی ہے اور شوہر ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود طلاق دے دیتاہے یا اس کا انتقال ہوجاتاہے اور اس کی عدت بھی گزر جاتی ہے تو پھر پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ نکاح  جائز ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 473):

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص213):

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛

      حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   05  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب