03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کو مشت زنی پر معلق کرنے کا حکم
87981طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک شخص نے یہ کہا: "اگر میں دوبارہ مشت زنی کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے" ،اس کے بعد ایک دن اس نے مشت زنی شروع کر دی، لیکن انزال (منی کے اخراج) سے پہلے ہی وہ عمل روک دیا۔اب سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ  مسئولہ میں اگر  کسی  شادی شدہ شخص نے یہ الفاظ کہے  : ” اگر میں دوبارہ مشت زنی کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے “ تو اس سے  معروف مشت زنی (استمناء بالید )مراد ہوگی، جس میں انزال پایا جاتا ہے اور طلاق  اس پرمعلق ہوگی۔

لہٰذا  مذکور صورت میں انزال سے پہلے مشت زنی  کا عمل روکنے  کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(399/2):

مطلب في حكم ‌الاستمناء بالكف (قوله: وكذا ‌الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 420):

وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   07 /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب