| 87981 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
ایک شخص نے یہ کہا: "اگر میں دوبارہ مشت زنی کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے" ،اس کے بعد ایک دن اس نے مشت زنی شروع کر دی، لیکن انزال (منی کے اخراج) سے پہلے ہی وہ عمل روک دیا۔اب سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شادی شدہ شخص نے یہ الفاظ کہے : ” اگر میں دوبارہ مشت زنی کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے “ تو اس سے معروف مشت زنی (استمناء بالید )مراد ہوگی، جس میں انزال پایا جاتا ہے اور طلاق اس پرمعلق ہوگی۔
لہٰذا مذکور صورت میں انزال سے پہلے مشت زنی کا عمل روکنے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(399/2):
مطلب في حكم الاستمناء بالكف (قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 420):
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


