| 88258 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں نے اپنے شوہر سے گھر والوں کی مرضی کے خلاف جا کر کورٹ میرج کی ،کیونکہ میں ان سے فون پر باتیں کرتی اور ملتی تھی اور کورٹ میرج بھی اس لیے کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ گناہ کرنے سے بہتر ہے کہ نکاح کر لو ۔ کورٹ میرج کرتے وقت انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ 10,000 روپے ہر مہینہ مجھے دیں گے،جبکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کی ایک بیوی اور تین بچے ہیں۔میں اپنے ماں باپ کے گھر میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی ہوں ، میں پہلے سے طلاق یافتہ ہوں ،خود جاب کرتی ہوں اور اپنے بچوں کا خرچہ اٹھاتی ہوں۔ شادی کے بعد وہ بدل گئے اور ہر بات سے انکاری ہو گئے۔ پھر وہ شک کرنے لگے ،گالیاں بکنے لگے اور اگر میں فون نہ اٹھاؤں تو اس پر غصہ ہوتے ہیں۔ شادی کے بعد وہ چاہتے کہ میں بالکل اسی طرح سے ان کا حکم مانوں، جیسے کہ ایک دیندار عورت حکم مانتی ہے جو گھر میں رہتی ہے۔میں مدرسہ بھی جاتی ہوں اور ہر بات میں مدرسہ کا طعنہ ملتا ہے، جب کہ یہ بات پہلے سے ہم دونوں کے درمیان طے تھی کہ میں اسی طرح سے اپنے گھر میں رہوں گی اور وہ میرا خرچہ اٹھائیں گے۔
میں اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتی تھی ،جب انہیں مجھ سے ملنا ہوتا تو وہ 2,000 میں ایک ہوٹل کا کمرہ کرائےپر 1 گھنٹہ لے کر چلے جاتے اور روزانہ چائے اور اس طرح کی ریفریشمنٹ کھاتے پیتے۔ایک دن جب میں نے ان کا فون نہیں اٹھایا ،کیونکہ میں باہر تھی توانہوں نے غصہ میں میرے گھر آکر بتا دیا کہ ہمارا نکاح ہو گیا ہے ۔میرے گھر والے اس بات سے بہت غمگین ہوئے اور مجھ سے انہوں نے پوچھا کہ اگر تم اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو جاؤ، لیکن ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔اس پر میں نے خلع کا مقدمہ دائر کر دیا ،اب خلع کے پیپر میں آپ کو بھیج رہی ہوں، کیا اس کے مطابق خلع ہوا یا نہیں؟ اور ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟کیونکہ انہوں نے عدالت میں آکر کہا تھا کہ میں نہیں چھوڑوں گا لیکن عدالت نے خلع دے دیا۔ کیا اب میں کہیں اور نکاح کر سکتی ہوں؟ بقول ان کے کہ کسی بھی طرح سے یہ نکاح ختم نہیں ہوا اور نہ یہ نکاح ختم ہوگا ،کیونکہ میں زندگی بھر نہیں چھوڑوں گا، کسی اور سے شادی کرتی ہے تو کر لےلیکن گناہ کرے گی۔ کیا میں ابھی تک ان کے نکاح میں ہوں ۔ وہ میری جاب کی جگہ پر آکر مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ میں سب ٹھیک کر لوں گا تم ابھی بھی میری بیوی ہو۔میں ان کے ساتھ رہنا تو نہیں چاہتی ہوں، ان کی بات پر اعتبار بھی نہیں ہے، لیکن جب وہ پاؤں پکڑ کر روتے ہیں تو میرا دل پگھل جاتا ہے ۔کیا ہمارا نکاح باقی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں اگر بالغ ہوں اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیں تو اس طرح نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے۔خلع سے متعلق سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق جب شوہر اور نہ ہی اس کا وکیل عدالت میں حاضر ہوکر عدالت کی طرف سے خلع کے جاری شدہ فیصلہ پر دستخط نہیں کیا، اورنہ ہی ابھی تک زبان سے اس فیصلے پر رضامندی کا اظہار کیا تو اس صورت میں عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کا یک طرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہے۔ کیونکہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں شوہر کی طرف سے رضامندی نہیں پائی گئی، نیز منسلکہ فیصلہ میں فسخِ نکاح کی وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی موجود نہیں ہے تو اس فیصلہ کو تنسیخِ نکاح پر بھی محمول نہیں کیا جا سکتا، لہذا فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور آپ کا اپنے شوہر سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔
نیز ایسی صورت میں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ کسی شرعی وجہ کے بغیر مطلّقہ کے اس نکاح کوباقی رکھنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں، شریعت مطہرہ میں مطلقہ کے نکاح میں رکاوٹ ڈالنے سے منع فرمایا گیا ہے، قرآن مجید میں ہے:
{وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} [البقرة: 232]
ترجمہ :"اور جب تم ( میں ایسے لوگ پائے جائیں کہ وہ) اپنی بیبیوں کو طلاق دیدیں، پھر وہ عورتیں اپنی میعاد (عدت) بھی پوری کرچکیں تو تم ان کو اس امر سے مت رو کو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجاویں قاعدے کے موافق، اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو،یہ (اس نصیحت کا قبول کرنا) تمہارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔"
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے سے بلاوجہ شرعی روکنا حرام ہے۔ایک دوسری آیت میں اس ناروا ظالمانہ سلوک کا انسداد کیا گیا ہے جو عام طور پر مطلقہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کو دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے۔ پہلا شوہر بھی عموماً اپنی مطلقہ بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں جانے سے روکتا اور اس کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے ،اور بعض خاندانوں میں لڑکی کے اولیاء بھی اس کو دوسری شادی کرنے سے روکتے ہیں۔ ان میں بعض اس طمع میں روکتے ہیں کہ اس کی شادی پر ہم کوئی رقم اپنے لیے حاصل کرلیں، بعض اوقات مطلقہ عورت پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے مگر عورت کے اولیاء واقرباء کو طلاق دینے کی وجہ سے ایک قسم کی عداوت اس سے ہوجاتی ہے، وہ اب دونوں کے راضی ہونے کے بعد بھی ان کے باہمی نکاح سے مانع ہوتے ہیں،لہٰذا آزاد عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی سے بلاعذر شرعی روکنا خواہ پہلے شوہر کی طرف سے ہو یا لڑکی کے اولیاء کی طرف سے بڑا ظلم ہے، اس ظلم کا انسداد اس آیت میں فرمایا گیا ہے ... اس آیت کے خطاب میں وہ شوہر بھی داخل ہیں جنہوں نے طلاق دی ہے اور لڑکی کے اولیاء بھی، دونوں کو یہ حکم دیا گیا کہ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ،یعنی مت روکو مطلقہ عورتوں کو اس بات سے کہ وہ اپنے تجویز کیے ہوئے شوہروں سے نکاح کریں ،خواہ پہلے ہی شوہر ہوں جنہوں نے طلاق دی تھی یا دوسرے لوگ۔ مگر اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی گئی کہ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ،یعنی جب دونوں مرد وعورت شرعی قاعدہ کے مطابق رضامند ہوجائیں تو نکاح سے نہ روکو ،جس میں اشارہ فرمایا گیا کہ اگر ان دونوں کی رضامندی نہ ہو،اور کوئی کسی پر زور زبردستی کرنا چاہے تو سب کو روکنے کا حق ہے، یا رضامندی بھی ہو مگر شرعی قاعدہ کے موافق نہ ہو، مثلاً بلا نکاح آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے پر رضامند ہوجائیں یا تین طلاقوں کے بعد ناجائز طور پر آپس میں نکاح کرلیں یا ایام عدت میں دوسرے شوہر سے نکاح کا ارادہ ہو تو ہر مسلمان کو بالخصوص ان لوگوں کو جن کا ان مرد وعورت کے ساتھ تعلق ہے روکنے کا حق حاصل ہے، بلکہ بقدرِ استطاعت روکنا واجب ہے۔
( معارف القرآن، 1 /575-576، ط: مکتبہ معارف القرآن)
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
کتاب النکاح، فصل بيان ما تعتبر فيه الكفاءة، 2/ 318، ط: دار الکتب العلمية:
وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء....ولو كان التزويج برضاهم يلزم حتى لا يكون لهم حق الاعتراض.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
30/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


