| 87039 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
21فروری 2025 کو میرے شوہر نے مجھے لڑائی کے دوران غصےمیں کہانکل جا،تواپنےگھر میں اپنے گھر ،جبکہ میں نے ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیاتھا کہ میں نے یہاں نہیں رہنا اور نہ ہی ان کے یہ سب کچھ کہنے کےبعد میں گھرسےنکلی ،لیکن انہوں نے کہا کہ تم نے کہا تھا اس لیے میں نےکہاتھاکہ نکل جا اور پھر10منٹ کے بعد انہوں نے کہا کہ تم گھر سے نہیں نکلوگی اور میں گھرسےبھی نہیں نکلی تھی۔ میں نے ان سےاسی دن کافی دفع پوچھا تھا کہ آپ نے کیا سوچ کر یہ کہا مجھے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے غصے میں کہا ہے ان کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی کہ جس سے نکاح ٹوٹ جائے، میں نے ان سے 4،5مرتبہ پوچھا ،انہوں نے یہی کہا کہ ان کی ایسی نیت نہیں تھی ،میں نے ان سے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں، پھر انہوں نے اللہ کی، اپنی بیٹی اور ماں کی قسم کھائی کہ میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی۔ آپ بتادیں کہ اس سے کوئی طلاق بائن توواقع نہیں ہوئی ؟اور کیا تجدید نکاح کرنا پڑےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃ ًشوہر نے مذکورہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے، تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور تجدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) . . . ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا. ( رد المحتار ،ط الحلبي:3/298-301)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
24/شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


